مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مودی کی شاندار فتح، نوازشریف کی جارحانہ موو
بھارت کے نئے منتخب ہونے والے وزیر اعظم نریندر مودی کو اکھنڈ بھارت کا خوش قسمت ترین وزیر اعظم کہا جائے تو یہ غلط نہیں ہو گا ۔ اٹ ہیپنز اونلی ان انڈیا کے مصداق انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ کبھی چائے کی دوکان کبھی ریسٹورنٹ کبھی بس کنڈیکٹر کے طور پر کام کرتے کرتے ایسے لڑکپن میں داخل ہوا کہ گھر والوں سے توتکرار اور الگ سبھائو کے کارن خاندان کو چھوڑ ، جنم بھومی کو چھوڑ دوسرے شہروں کی گرد چھانتا رہا ۔ اس خاک نشین کو نوجوانی کا دور کسی قسم کی اچھی خبر سے عاری رہا ۔ بیان کرنے والے اس دھن کے لئے دشمن جس کو دولت کا منہ دیکھنا جوانی میں نصیب نہ ہوا اور اداروں کے اس دھنی کو بہت لمبا عرصہ بھوک کو مٹانے کے خاطر مانگے کی خوراک پر بھی گزر بسر کرنا پڑا ۔ مودی جیسے تیسے تعلیم بھی حاصل کرتے رہے لیکن کوئی تعلیم قابلیت ان کو کسی معقول روزگار کے حصول میں مددگار ثابت نہ ہوئی ۔ اس خاص وقت اور لمحہ کو مودی کبھی کبھی بیان کریں تو کریں کہ کب ان کے من میں سیاست میں قدم رکھنے کی آشا نے جنم لیا ۔ گھر کے حالات ، بھائیوں سے ناچاکی اور حالات کے رحم کرم پر دھکوں نے اس عام اور غریب انسان کے اندر یقینا غصہ ، نفرت اور ہنسا کی ادا پیدا کی جو کہ بعد میں شدت پسندی میں تبدیل ہوئی ۔ شدت پسندی کا استعمال مسلمانوں کے علاوہ اور کس پر بہتر ہو سکتا تھا پس مسلمان مودی کے خونخوار موڈ کا نشانہ بنے مسلمانوں سے دشتمنی ان کا تعاون بن گیا ۔ RSS کو ان کی یہی ادا کار آمد نظر آئی ہو گی جس کے کارن ان کو آج دو دھاری کردار ادا کرنے کا مکمل موقع دیا گیا ۔ بقول ناقدین جب یہ شدت پسندی مسلمانوں کے قتل و غارت کی انتہا کو پہنچی گجرات کی سر زمین کو مسلمانوں کے لہو سے رنگ کے خوف کی انتہا کر دی …ٹرین اڑانے ، بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کی حیات تنگ کرنے اور پاکستان کو روزانہ کی بنیادوں پر خطر ناک دھمکیاں عروج پر پہنچی اور کئی مقدمات بن گئے تو نریندر مودی کے خیر خواہوں نے ملک کی عملی سیاست میں داخل کر دیا ۔ دنیا اور خود بھارت کے لوگ بھی دانتوں تلے انگلیاں دابے نریندر کو سیاسی لیڈر بنتا بڑی سیاسی جماعت کے گجرات کے جنرل سیکرٹری بنتے اور پھر گجرات کے وزیر اعلیٰ بنتے دیکھتے رہے ۔ وہی گجرات جہاں وہ ایک دہشت بن کے منڈلایا کرتے تھے ۔ اب اس غریب حالات کے دھکے اور قسمت کی بے حرمتی سہتے اچانک بھارت کے اہم سیاسی شخص بن جانے کے بعد اگلا قدم ملک کا وزیر اعظم بننا ٹھہرا ۔ وہ یقینا ماں کی دل سے نکلی دعائیں بھی ہونگی جس کو بے انتہا خدمت کی اور بہن کی راکھی باندھتے آنسوئوں کے ساتھ مانگی ہوئی آشائیں ہی ہونگی کہ جس نے ایک شدت پسند ، ہزاروں لوگوں کے قتل کا باعث ، غصیل لیکن ایک انتہائی شاطر سیاست دان کو بھارت کا وزیر اعظم بنانے میں کام آئی ۔ انتہا یہ دیکھئے کہ الیکشن کے دنوں میں بھی پاکستان کی سر زمین پر اندولن کی باتیں کرنے والے پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف نعرے مارنے والے اور اپنے پر جوش خطاب میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بیانات کو اپنی مرضی کے مطابق شدت پسندی کے پہناوے پہنا کر استعمال کرنے والے نریندر مودی آخر طاقتوں کے فیصلوں کے مطابق بھارت کے وزیر اعظم کا انتہاب انتہائی شاندار فتح کے ساتھ حاصل کر لیا ۔ اکھنڈ بھارت کے اس معجزاتی طور پر بننے والے وزیر اعظم کی شدت پسندی ، ظلم اور للکاروں کے برعکس پاکستان کو عوام اور عوامی وزیر اعظم میاں نواز شریف نے انتہائی حوصلہ سے کام لیا ۔ عسکری اور مذہبی طاقتوں کی جانب سے نا پسندیدگی اور جواب دینے کی ڈیمانڈ کے باوجود عوام کے ساتھ وزیر اعظم نواز شریف نے صبر اور اخلاق کا دامن نہیں چھوڑا اور واضح اکثریت حاصل کرنے پر انتہائی فراخدلی کے ساتھ نریندر مودی کو مبارکباد کیلئے ڈائریکٹ فون کر دیا ۔ اس مواصلاتی رابطہ نے اک بار پھر پاکستانی اور پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کیا ، دنیا بھر کے اک بار پھر پاکستان کا مثبت کردار اور میاں نواز شریف کی شرافت نے بھرپور سیاست سیاسی پنڈتوں کو دیکھنا نصیب ہوئی،ایک دم سے دنیا بھر میں پاکستان اور وزیر اعظم نواز شریف کی نفیس سیاست کا چرچا ہوا تو پاکستان کو بھانت بھانت کی دھمکیاں دے کہ سیاسی جلسوں کو گرمانے والے نریندر مودی نے تمام سارک ملکوں کے لیڈروں کو اور پاکستان کے وزیر اعظم کو خصوصی دعوت دے دیں کہ وہ وزارت عظمیٰ کی حلف برداری میں شریک ہوں ایک بار پھر دونوں ممالک کے علاوہ دنیا بھر میں ایک بحث چھڑ گئی،بھارت کے میڈیا میں ایک بار پھر پاکستان،پاکستان کے عسکری اداروں اور وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پراپیگنڈا شروع ہو گیا جو اس قدر شدید تھا کہ خود بھارتی تجزیہ کاروں نے اس کی مخالفت کی کہ وہ آخر کیوں شریف فوبیا میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ ملک میں بسنے والے نئی حکومت،نریندر مودی کی بجائے ہو کوئی نواز شریف کو ڈسکس کر رہا ہے،لیکن کوئی باز نہ آیا اور یہ پرچار کیا گیا کہ شریف نہیں آئیں گے،خود پاکستان میں بھی تقسیم رائے تھی کہ وزیر اعظم کو جانا چاہئے کہ نہیں۔ایسے میں میاں نواز شریف کی نفاست،شرافت اور دور اندیشی کی سیاست نے کام دکھایا اور انہوں نے انتہائی جرات کے ساتھ بھارت جانے کا اعلان کر دیا،جبکہ دورہ کے دوران با مقصد ملاقاتوں کا اہتمام بھی کر دیا،آج بھارت میں وزیر اعظم پاکستان کو انتہائی شاندار طریقے سے خوش آمدید کہا گیا ہے،بھارت کے مسلمان خوش ہیں،پاکستان میں ایک فخر کی سی کیفیت ہے،ایک بار پھر تاریخ رقم ہوئی ہے کہ پاکستان کی قیادت اور عوام دلیر،بہادر ہونے کے ساتھ ساتھ دوست پسند،عقلمند،شریف اور مستقبل پر گہری نظر رکھنے والے ہیں وزیر اعظم نواز شریف نے جو وعدے کئے تھے وہ انکی تکمیل کیلئے دشمن دیس میں دوستی کا پیغام بھی لے گئے ہیں،معاملات کا حل بھی چاہتے ہیں،دونوں ملکوں کی عوام کی دلی خواہشوں کو پورا کرنے بھی نکل چکے ہیں پاکستان اور پاکستانیوں کا قومی خیال ہے کہ وقار اور دوستی ہی روشن مستقبل ہے حالانکہ دوسری جانب سے زیادہ امیدیں مت رکھیں کا پیغام ہے۔