مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان قونصلیٹ گلاسگو کے باہر جیو کی بندش کے خلاف مختلف تنظیموں کا مظاہرہ
گلاسگو ...معروف صحافی اور پاکستان پریس کلب سکاٹ لینڈ کے صدر طاہر انعام شیخ نے کہا ہے کہ جیو کا معاملہ پیمرا کے پاس ہے، چنانچہ اس سے قانونی طور پر نمٹا جانا چاہئے، جبکہ کو دھونس دھاندلی سے پاکستان میں 90فیصد میڈیا کو بند کر نے کے حربے آزمائے جا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان قانصلیٹ گلاسگو کے باہر پریس کلب، تحریک اتفاق رائے اور کونسل آف ہیومن رایئٹس کے زیر اہتمام ایک مشترکہ احتجاجی مظاہرے میں کیا۔ تحریک اتفاق رائے کے چیئرمین امجد ایوب مرزا نے کہا کہ جیو پر پابندی عائد کرکے طفیلی میڈیا کے ذریعے اس کا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ پروفیسر عادل بھٹی نے کہا کہ میڈیا پر قدغن لگانا آزادیٴ صحافت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ہم ایسے تمام اقدامات کی پرزور مذمت کرتے ہیں، سابق کونسلر محمد شعیب نے کہا کہ جیو پاکستان کا ایک آزاد میڈیا تھا، جس کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر امین مرزا نے کہا کہ جیو انفارمیشن کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں کئی ہزار صحافی کام کرتے ہیں ان سب کا مستقبل خطرے میں ہے۔ سید ناصر جعفری نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ایسے چند ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ صحافی قتل ہو رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں جیو کے حامد میر کو نشانہ بنایا گیا ہے ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ حملہ آوروں کو فوراً گرفتار کیا جائے۔ محمد اظہر نے کہا کہ صحافت پاکستان کا چوتھا ستون ہے اور پاکستانی صحافیوں نے یہ مقام بڑی محنت کے ساتھ حاصل کیا، اس کو اب سرکاری اور نان سرکاری ایکٹرز سے خطرہ ہے۔ شوکت سلطان نے کہا کہ بدقسمتی سے میڈیا کے بعض ادارے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ رہے ہیں۔ وہ مالی مفاد کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جس سے صحافتی اقدار اور آزادی صحافت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔