مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی پارلیمنٹ میں پہلے مسلمان ممبر محمدسرور پنجاب کے 35ویں آئینی سربراہ بن گئے
لاہور ...برطانوی پارلیمنٹ میں پہلے مسلمان ممبر کا حلف اٹھانے والے چودھری محمد سرور پنجاب کے 35ویں آئینی سربراہ بن گئے۔ گوورنر ہاؤس میں منعقدہ تقریب حلف برداری میں وزیراعلیٰ پنجاب سمیت کئی مہمانوں نے شرکت کی ۔ قائم مقام صدر پاکستان چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عمر عطا بندیال نے چودھری محمد سرور سے گورنر پنجاب کے عہدے کا حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ،سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال،صوبائی وزرا،آئی جی پنجاب خان بیگ اور غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی ...حلف برداری کے بعد بی بی سی سےنومنتخب گورنر اور برطانوی ایوان نمائندگان کے سابق رکن چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ وہ اقلیتوں کو حقوق دلانے میں بھی کردار ادا کریں گے تاہم توہین مذہب کے قانون میں تبدیلی ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ مختصر تقریر میں انہوں نے یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے کام کریں گے۔ گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ ’میں نے برطانیہ میں بحثیت پارلیمنٹیرین، بحثیت کونسلر اور بحثیت بزنس مین وسیع تجربہ حاصل کیا ہے۔ میں اس تجربے کو پاکستانی عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان بہت سی مشکلات سے گزر رہا ہے۔ میں برطانیہ میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہا تھا مجھے لگا کہ مجھے پاکستان کے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔‘ پنتیس برس بعد سکاٹ لینڈ اور اپنے خاندان سے علیحدگی پر گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ یہ آسان فیصلہ نہیں تھا اور خاص طور پر ایسے لوگ جنہوں نے اس عرصے کے دوران مجھے کونسلر کی حثیت سے اور ممبر پارلیمنٹ کی حثیت سے سپورٹ کیا مجھے محبت دی اور میرے ساتھ کھڑے رہے۔ ’یہ فیصلہ میں نے ایک بوجھل دل کے ساتھ کیا ہے اور میں یقیناً ان لوگوں کو مِس کروں گا۔ لیکن جس طرح میں نے سکاٹ لینڈ میں رہتے ہوئے پاکستان سے تعلق قائم رکھا وہاں بھی لوگوں سے رابطہ برقرار رہے گا۔‘