مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اٹھارویں انٹرنیشنل سنی کانفرنس میں پیر علائوالدین صدیقی اور لارڈ نزیر احمد کی شرکت
برمنگھم... امت مسلمہ کی سرکردہ شخصیت اور برطانوی ہائوس آف لارڈز کے ممبر لارڈ نزیر احمد نے کہا ہے کہ حقیقی ترقی کے حصول کیلئے ہمیں برطانیہ کے مین پالیسی اداروں میں شامل ہونا ہوگا۔اس مقصد کیلئے اپنی سوچ کو وسیع کرنا پڑے گا ورنہ ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جایئں گے۔انہوں نے کہا ذاتی مفاد اور برادری ازم سے ہٹ کر امت کے اجتماعی مسائل پر بات کرنے والوں اور ان کے حل کرنے والے کو سپورٹ کرنا ہوگا۔ جب تک مسلمانوں کی نمائندگی مین سٹریم اداروں اور پالیسی میکرز میں نہیں ہوگی۔ ذلت و رسوائی ہمارا مقدر رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں برمنگھم میں منعقدہ 18ویں انٹرنیشنل سنی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شیخ الاسلام حضرت پیر علاؤالدین صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پیر علاؤالدین صدیقی نے مزید کہا مسلمان کمیونٹی برطانیہ کے اندر ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ جب تک مسلمان ایک اکائی تھے۔ امت ایک وحدت تھی۔ تو امت نے دنیا بھر میں حکمرانی کی۔ جب آپس کا اعتماد پارہ پارہ ہوگیا تو ہر طرف سے حدفِ تنقید کا سامنا کرنا پڑا اس لئے تمام مسلمان تنظیموں کو امت کے اتحاد کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا اسلام مکل ضابطہ حیات ہے اور امن و سلامتی کا عملی نمونہ ہے۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی نے اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمیں اپنی صفوں میں آستین کے سانپوں دہشت گردوں کو خود بے نقاب کرنا ہوگا۔ یقیناً سخت فیصلہ ہے مگر کمیونٹی کی عزت بچ جائے گی۔ اگر دوسروں نے بے نقاب کیا تو پوری کمیونٹی کی بدنامی ہوگی۔ مسلمانوں کو یہاں اجتماعی مسائل درپیش ہیں جسے حلال فوڈز، ذبیحہ کا مسئلہ، بچوں کی تعلیم، ہمیں باہمی اتحاد اور برطانوی معاشرے کا حصہ بن کر قابو پانا ہوگا۔ کانفرنس کی خاص بات گلاسگو سے لے کر لندن اور ساؤتھ افریقہ سے لے کر پاکستان تک نمائندگی ۔، نظامت کے فرائض ۔ صاحبزادہ پیر طیب الرحمن قادری، قاری شعیب چشتی، علامہ نیاز احمد نے فرائض انجام دیئے ۔ ناظم اعلیٰ جماعت اہلسنت برطانیہ علامہ غلام ربانی افغانی نے کہا کہ ماضی میں بھی حضور شیخ الاسلام حضرت پیر علاؤالدین صدیقی نے امت کی بہترین قیادت کی۔ جب گستاخوں نے نبی آخر الزمان کی شان اقدس میں گستاخی کی تو برطانیہ امت کی قیادت پیر علاؤالدین نے فرمائی۔ برطانیہ کے ایوانوں میں مسئلہ لے کر گئے۔ ہمیں پیر علاؤ الدین صدیقی کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔آخر میں پیر علاؤالدین صدیق نے امن سلامتی کے لئے دعا کروائی۔