مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان مخالف نعرے نہ لگانے پر کشمیری طلبہ ایک بار پھر انتہا پسند ہندوئوں کے نشانے پر
نئی دہلی...بھارتی ریاست اترپردیش میں انتہا پسند طلبا نے کشمیری طلبا کو پاکستان کے خلاف نعرے نہ لگانے پر تشدد کا نشانہ بنایاہے۔ واقعے کے خلاف کشمیری طلبانے شدید احتجاج کیا۔ بھارتی تعلیمی اداروں میں ایک مرتبہ پھر کشمیری طلبہ انتہا پسند ہندووٴں کے نشانے پر۔ اترپردیش کی ایک یونیورسٹی میں انتہا پسندوں نے رات کے اندھیرے میں ہاسٹل پر حملہ کردیا۔ سوتے ہوئے کشمیری طلبہ کو کمروں سے نکالا، خوب مارا پیٹا، کہا پاکستان مخالف نعرے لگاوٴ، انکار کیا تو اور مارا۔ ایک طالب علم شوکت کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد کشمیری طلبہ بھارت کے تعلیمی اداروں میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ واقعے پر بھارت بھر کے کشمیری طلبہ مشتعل ہیں۔ گریٹر نوئیڈا یونیورسٹی کے طالب علموں نے ہاسٹل کے باہر احتجاج بھی کیا۔ یہ پہلی بار نہیں کہ بھارتی تعلیمی اداروں میں کشمیریوں کو تعصب کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ پہلے بھی اسی گریٹر نوئیڈا یونی ورسٹی کے 6کشمیری طلبہ کو فارغ کیا جاچکا ہے۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے ایشیا کپ میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی شکست پر خوشی منائی تھی۔ اسی جرم پر میرٹھ یونیورسٹی کے 67کشمیری طلبا بھی معطل کردیئے گئے تھے۔