مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان مخالف نعرے نہ لگانے پر کشمیری طلبہ ایک بار پھر انتہا پسند ہندوئوں کے نشانے پر
نئی دہلی...بھارتی ریاست اترپردیش میں انتہا پسند طلبا نے کشمیری طلبا کو پاکستان کے خلاف نعرے نہ لگانے پر تشدد کا نشانہ بنایاہے۔ واقعے کے خلاف کشمیری طلبانے شدید احتجاج کیا۔ بھارتی تعلیمی اداروں میں ایک مرتبہ پھر کشمیری طلبہ انتہا پسند ہندووٴں کے نشانے پر۔ اترپردیش کی ایک یونیورسٹی میں انتہا پسندوں نے رات کے اندھیرے میں ہاسٹل پر حملہ کردیا۔ سوتے ہوئے کشمیری طلبہ کو کمروں سے نکالا، خوب مارا پیٹا، کہا پاکستان مخالف نعرے لگاوٴ، انکار کیا تو اور مارا۔ ایک طالب علم شوکت کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد کشمیری طلبہ بھارت کے تعلیمی اداروں میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ واقعے پر بھارت بھر کے کشمیری طلبہ مشتعل ہیں۔ گریٹر نوئیڈا یونیورسٹی کے طالب علموں نے ہاسٹل کے باہر احتجاج بھی کیا۔ یہ پہلی بار نہیں کہ بھارتی تعلیمی اداروں میں کشمیریوں کو تعصب کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ پہلے بھی اسی گریٹر نوئیڈا یونی ورسٹی کے 6کشمیری طلبہ کو فارغ کیا جاچکا ہے۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے ایشیا کپ میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی شکست پر خوشی منائی تھی۔ اسی جرم پر میرٹھ یونیورسٹی کے 67کشمیری طلبا بھی معطل کردیئے گئے تھے۔