مقبول خبریں
سیریا ریلیف کی چیئر پرسن ڈاکٹر شمیلہ کی طرف سے چیرٹی بر نچ کا اہتمام ، کمیونٹی خواتین کی شرکت
مسئلہ کشمیر بارےیورپی پارلیمنٹ انتخابات پر برطانیہ و یورپ میں بھرپور لابی مہم چلائینگے،راجہ نجابت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
سرچ آپریشن
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
ہائی ویکمب ... سابق چیئرمین ویکمب ڈسٹرکٹ، کونسلر ممبر ویکمب ڈسٹرکٹ کونسل محبوب حسین بھٹی سے ممبران یورپین پارلیمنٹ و صدور کشمیر یورپین فورم رچرڈ ایش ورتھ یورپین پارلیمنٹ میں کنزرو یٹو پارٹی کے لیڈر جیمز ایلس نے ان کے گھر ہائی ویکمب میں ملاقات کی۔ کنزرویٹو پارٹی کے تینوں رہنما مسئلہ کشمیر کو یورپین پارلیمنٹ میں موثر طریقہ سے اٹھانے کیلئے مختلف تجاویز کو زیر بحث لائے ملاقات میں مانچسٹر کے لیڈر آف دی کنزرویٹو پارٹی ان یورپین پارلیمنٹ رچرڈایش ورتھ نے محبوب حسین بھٹی کو یقین دلا یا کہ وہ تمام کنزرویٹوپارٹی کے ممبران سے باہمی مشورہ کرکے مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرانے کے لئے بھر پور کوششیں کریں گے۔ جیمز ایلس نے کہا کہ تمام کشمیریوں کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ جہاں بھی ممکن ہوا آواز بلند کرتے رہیں گے۔ مجسٹریٹ کونسلر محبوب بھٹی نے دونوں ممبران یورپین پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیاکہ انہوں نے مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرانے کے لے ہمیشہ کام کیا۔محبوب حسین بھٹی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حالیہ الیکشن کے بعد بھارت میں بننے والی نئی حکومت سنجیدگی کا ثبوت دیتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف پیش رفت کرے گی۔ انہوں نے قومی رہنمائوں کو بتایا کی برطانیہ میں بسنے والے کشمیریوں کی طرح تھیمز ویلی کے گرد و نواح کے کشمیری بھی اس امر پر متفق ہیں کہ ان انتخابات میں انہی سیاستدانوں کو ووٹ دیا جائے گا جو ان کے پیدائشی حق خود ارادیت کی اصولی حمائت کرتے ہیں کیونکہ انکا یہ مطالبہ سراسر انسانی حقوق پر مبنی ہے۔