مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
ہائی ویکمب ... سابق چیئرمین ویکمب ڈسٹرکٹ، کونسلر ممبر ویکمب ڈسٹرکٹ کونسل محبوب حسین بھٹی سے ممبران یورپین پارلیمنٹ و صدور کشمیر یورپین فورم رچرڈ ایش ورتھ یورپین پارلیمنٹ میں کنزرو یٹو پارٹی کے لیڈر جیمز ایلس نے ان کے گھر ہائی ویکمب میں ملاقات کی۔ کنزرویٹو پارٹی کے تینوں رہنما مسئلہ کشمیر کو یورپین پارلیمنٹ میں موثر طریقہ سے اٹھانے کیلئے مختلف تجاویز کو زیر بحث لائے ملاقات میں مانچسٹر کے لیڈر آف دی کنزرویٹو پارٹی ان یورپین پارلیمنٹ رچرڈایش ورتھ نے محبوب حسین بھٹی کو یقین دلا یا کہ وہ تمام کنزرویٹوپارٹی کے ممبران سے باہمی مشورہ کرکے مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرانے کے لئے بھر پور کوششیں کریں گے۔ جیمز ایلس نے کہا کہ تمام کشمیریوں کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ جہاں بھی ممکن ہوا آواز بلند کرتے رہیں گے۔ مجسٹریٹ کونسلر محبوب بھٹی نے دونوں ممبران یورپین پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیاکہ انہوں نے مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرانے کے لے ہمیشہ کام کیا۔محبوب حسین بھٹی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حالیہ الیکشن کے بعد بھارت میں بننے والی نئی حکومت سنجیدگی کا ثبوت دیتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف پیش رفت کرے گی۔ انہوں نے قومی رہنمائوں کو بتایا کی برطانیہ میں بسنے والے کشمیریوں کی طرح تھیمز ویلی کے گرد و نواح کے کشمیری بھی اس امر پر متفق ہیں کہ ان انتخابات میں انہی سیاستدانوں کو ووٹ دیا جائے گا جو ان کے پیدائشی حق خود ارادیت کی اصولی حمائت کرتے ہیں کیونکہ انکا یہ مطالبہ سراسر انسانی حقوق پر مبنی ہے۔