مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وزیر اعظم پاکستان سے چار گزارشات
وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف جو کہ ان دنوں برطانیہ کے سرکاری دورہ پر ہیں گویا وہ قومی خدمت کا کام انجام دے رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ عام طور پر حکمرانوں تک کسی بھی بات کے لیے رسائی ممکن نہیں ہوتی البتہ چوں کہ وہ اس وقت اپنے مخصوص ماحول سے علیحدہ ہیں اور اس ملک میں ہیں جہاں کافی حدتک عوام کی سنی جاتی ہے اور جہاں کے عوام کو اپنی سنانے کی زبان بھی آتی ہے ۔جن ملکوں میں حکمرانوں کوووٹ کی طاقت سے بدلنے کی رسم ہے وہاں اصل قوت عوام ہی ہیں۔ وزیر اعظم صاحب سے پہلی گزارش یہ ہے کہ وہ اپنے اقتدار کے باقی4 سالہ عرصہ کو محفوظ بنانے کا اہتمام کریں اتفاق ایسا ہے کہ جب بھی میاں صاحب اقتدار میں آتے ہیں تو بحران ان کو گھیر لیتے ہیں اوروہ اس وقت بھی بحرانوں کی زد میں ہیں۔ عمران خان صاحب سے میاں صاحب نے دوستی کا ہاتھ ضرور بڑھا یا مگر اقتدار کا شوق کسی کو بھی اقتدار کے بغیر چین کی چند گھڑیاں بھی نصیب نہیں ہونے دیتا۔ مجھے سہیل وڑائچ کی رائے سے اتفاق ہے کہ عمران خان صاحب گزشتہ سال اسلام آباد میں عوامی طاقت سے حکومت تبدیل کرنے کے معرکہ کا حصہ اس لینے نہیں بنے تھے کہ وہ اپنی حیثیت کو ثانوی سمجھ رہے تھے۔ مگر اس دفعہ انہوں نے خود پہل کرکے میدان میں اترنے کا اعلان کردیا۔ وفاق میں حکومت کے حق سے محرومی کا کرب ان کو مسلسل بے چین کیے ہوئے ہے۔ دشمن کے دشمن سے دوستی کا رواج بھی بہت پرانا ہے چنانچہ میاں صاحب کے گزرے وقتوں کے ایک محبوب اور منہ بولے شیخ الاسلام عمران خان صاحب کا ہاتھ بٹھانے اسلام آبادپہنچے رہے ہیں اور جولوگ موجودہ حکومت اور فوج کو ایک پیج پر نہ ہونے کا پروپیگنڈا کررہے ہیں وہ ان تمام چیزوں کو ملک میں روایتی تبدیلیوں کے باعث انہی تناظر میں دیکھ رہے ہیں اگر چہ آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور اپوزیشن کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی کی اب تک کی پالیسی کی روشنی میں کسی فوری تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں لگتی۔ میں خوش قسمتی نہیں کہوں گا تاہم اسے اچھے اتفاق سے ضرور تعبیر کروں گا کہ پیپلزپارٹی کے آل ان آل اورآل ان ون سابق صدر آصف علی زرداری صاحب میاں نوازشریف صاحب کے ساتھ تاحال جمہوری نظام کو تسلسل بخشے کے نام پر مضبوطی سے ساتھ کھڑے ہیں۔ عمران خان اور منہ بولے شیخ الاسلام صاحب اور متوقع طور پر الطاف حسین بھائی کے تعاون سے اچھے خاصے ڈرامہ کی مشق ہونے کو جارہی ہے لہٰذا میاں نواز شریف سے درخواست ہے کہ وہ مقتدر سیاسی قوقوں سے اچھے تعلقات کی کوششوں سے بے پروانہ رہیں۔میں مسلم لیگ کا ممبر نہیں ہوں بلکہ نظریاتی طور پر میراتعلق جمعیت علماء اسلام سے ہے لیکن ملک کے عوام کے مفاد اور ملکی سلامتی کے لیے عوامی اقتدار کو مضبوط دیکھنے کا خواہش مند ہوں ۔ میری وزیر اعظم صاحب دوسری گزارش یہ ہے کہ وہ فقط اپنے اقتدار کو لاحق خطرات کو مذاکرات سے دور کرنے کے مشن پر اکتفا نہ کریں بلکہ عوام کی ضرورت کے تمام بڑے کاموں کو پوری توجہ سے جاری رکھیں۔ الطاف بھائی کی ہر بات سے اختلاف ضروری نہیں ۔ یعنی الطاف بھائی کا ایک یہ کہنا کہ آپ بڑے پن کا مظاہرہ کریں اور ممکنہ حد تک تمام لوگوں کے لئے ملک کو ترقی اور امن کی مطلوب ڈگر پر لانے تک یکجہتی کی فضا پیدا کریں۔ ہمارے ملک کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی نعمتوں سے مالا مال کررکھا ہے اور ان سے مستفیض ہونے کی صورتوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے ۔ کراچی میں قیام امن کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے سنگین مسئلہ کو جنگی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی میں ریل کے مجوزہ منصوبوں سے معیشت کے پہیوں کو تیزی سے گھما جاسکتا ہے۔ حکومت اور کراچی کی سیاسی قیادت کو باہم مل کر عوامی مفاد کے کاموں کو پایہ تکمیل پہنچانے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ کلفٹن کے علاقے میں فلائی اوور اورزمین دوز راستوں کے لیے عدالت سے حکم امتناعی کو ختم کروانے کے لیے مشترکہ اپیل کرنی چاہئے۔ کراچی اور حیدرآباد کے شہری حلقوں کے علاوہ اندرون سندھ کی ہر قسم کی محرومیوں کو بھی جلد از جلد ختم کرنا چاہئے ۔ ماضی کی طرح بلوچستان کے لیے صرف کاغذی منصوبوں کو محض سرداروں کے ذریعہ مکمل کرنے کے اعلانات نہ ہوں بلکہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے مکمل تعاون سے اہم سڑکوں کی تعمیر کے علاوہ تعلیم، صحت اور پانی جیسی سیاسی ضرورتوں کو یقینی بنائے۔ خیبر پختونخواں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں وہاں کی حکومتوں کی مشاورت سے اہم اور بڑے کاموں کو ٹارگٹ کیا جائے۔ پنجاب میں میاں شہباز شریف خاصے متحرک ہیں اور ان کی سرپرستی کو جاری رکھا جائے۔ وزیراعظم سے تیسری گزارش یہ ہے کہ ملک کے عوام کی طرح برطانیہ اور یورپ کے تارکین وطن بھی آپ کے خزانہ سے کچھ لئے بغیر کچھ معاملات میں آپ کی نظر عنایت کے متمنی ہیں۔ وطن سے رشہ کو فقط قائم رکھنے کے لیے ہی نہیں بلکہ مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے تعطیلات میں قومی ایئرلائن کے کرایوں میں رعایت کے درخواست گزار ہیں۔ لندن کے علاوہ برمنگھم ، مانچسٹر، بریڈ فورڈ اور گلاسگو میں پاسپورٹس کے اجراء اور اوورسیز کارڈ کے لئے فوری کارروائیوں کے ساتھ ہی ساتھ تارکین وطن کو ان حوالوں سے لوٹنے کا جو سلسلہ شروع ہے اس کو ختم کرنے کے فوری خواہش ہے۔ چوتھی گزارش یہ ہے کہ تعلیم کو عام کرنے کے لیے برٹش گورنمنٹ سے خصوصی معاونت حاصل کی جائے۔ پانچویں اور آخری گزارش یہ ہے کہ حامد میر صاحب پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچا یا جائے۔ ہماری فوج اور آئی ایس آئی جیسے محب وطن ہیں بالکل اسی طرح حامد میر اور جیو بھی محب وطن ہیں۔ ان میں اختلافات کو ختم کروایا جائے۔حامد میر کے حادثہ کے موقع پر عامر میر کے بیان کو بنیاد بناکر کچھ دوست نما دشمن ملک میں غیر یقینی کی فضا کو قائم رکھنے کی کوششوں میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ ہاں جاتے جاتے یہ بھی گوش گزار کرتا جاؤں کہ ملک میں قیام امن کے لیے مذاکرات کو ہمیشہ ترجیح دی جائے اور اس سلسلہ میں کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہ لایا جائے البتہ تمام حماعتوں اور حساس اداروں کو اعتماد میں ضرور رکھا جائے ۔