مقبول خبریں
علامہ احمدنثار بیگ قادری ؒ کا سالانہ عرس ،علمائے کرام ومشائخ کی بڑی تعداد میں شرکت
مہنگائی کی ذمے دار عمران خان حکومت ہے ،شہباز شریف
دعوت اسلامی برمنگھم کے زیر اہتمام خراب موسم کے باوجودجشن عید میلاد النبیؐ کا جلوس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
اسرار احمد راجہ کی کتاب کی تقریب رونمائی ،مئیر آف لوٹن کونسلر طاہر ملک ودیگرافراد کی شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
حاجی ارشد حسین کی جانب سےغوثیہ مسجد لیڈز میں یکجہتی کشمیر کی تقریب کاا نعقاد
آتش فشاں
پکچرگیلری
Advertisement
دہشت گردی کے عالمی خطرات کے پیش نظرانٹرپول کا سکیورٹی الرٹ، نئی ہدایات جاری !!
پیرس ...عالمی پولیس کی تنظیم انٹرپول نےحالیہ عرصہ میں عراق، لیبیا اور پاکستان میں جیلوں پر حملوں کے نتیجے میں فرار ہونے والے دہشت گردوں کے پیش نظر اپنے رکن ممالک کو نگرانی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے خبردار کیا ہے۔ فرانس کے شہر لیون سے جاری کیےگئے بیان کے مطابق ان جیلوں پر حملوں میں القاعدہ کے ملوث ہونے کا شبہ ہے جن میں کئی دہشت گرد اور دوسرے جرائم پیشہ افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ انٹرپول نے اپنے ایک سو نوے ارکان کے تعاون کی درخواست کی ہے کہ وہ اس بات کا تعین کر کے بتائیں کہ کیا یہ سب حالیہ واقعات سلسہ وار ہیں اور کیا ان سب میں کوئی ربط پایا جاتا ہے یا نہیں۔ انٹرپول نے رکن ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ ان تمام فرار ہونے والے قیدیوں کے بارے میں ملنے والی کسی قسم کی معلومات کی تیزی سے زیر کارروائی لائیں۔ انٹرپول نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ ان قیدیوں کے بارے میں ملنے والی تمام معلومات کو جلد از جلد انٹرپول جنرل سیکریٹریٹ کے علم میں لائیں تاکہ کسی بھی قسم کے نئے دہشت گردی کے حملے کو روکا جا سکے۔ اسی طرح انٹرپول کے چوبیس گھنٹے کام کرنے والے کمانڈ اینڈ کورڈینیشن سنٹر اور دوسرے خصوصی یونٹس ان جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں اور اس طرح کے واقعات سے حاصل شدہ معلومات پر ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ فوری طور پر متعلقہ ممالک کو خبردار کیا جا سکے۔ دنیا میں ماضی قریب میں دہشت گردی کے بڑے واقعات میں سے کئی اگست کے مہینے میں ہوئے جن میں ممبئی حملے، جکارتہ کے حملے اور روس میں ہونے والے حملے شامل ہیں۔