مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نام نہاد انتخابات،مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال،مظاہرے، فورسز سے جھڑپیں
سری نگر.... مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد انتخابات کے موقع پربدھ کے روز مکمل ہڑتال کی گئی ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے دی تھی۔ دکانیں، کاروباری مراکزاور تعلیمی ادارے بند جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی۔ قابض انتظامیہ نے پولنگ کے موقع پرسرینگر، گاندر بل اور بڈگام کے اضلاع میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کر رکھا تھا جبکہ بہت سے پولنگ سٹیشن ویرانی کا منظر پیش کر تے رہے۔ رینہ واری ،صورہ ، کنگن ،بٹونہ سالورہ اور دیگر علاقوں میں لوگ سڑکوں پر آکر مظاہرے کر تے رہے۔ بھارتی فورسز کی طرف سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا گیاجبکہ مظاہرین اور فورسز کے اہلکاروں کے مابین تصادم کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ ادھر آزادی پسند رہنماؤں اور تنظیموں نے کہا ہے کہ نام نہاد انتخابات کے موقع پرحریت رہنماؤں، کارکنوں اور نوجوانوں کے خلاف کریک ڈاؤن سے ثابت ہو گیا ہے کہ انتخابی عمل محض ایک فوجی آپریشن ہے۔ حریت رہنما سید علی گیلانی جو سرینگر میں اپنے گھر میں نظربند ہیں نے ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ علاقے میں لاکھوں فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں انتخابی ڈرامہ فوجی آپریشن کے سوا کچھ نہیں ہے۔بھارت نے مقبوضہ علاقے کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے،لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ایک طرف بھارت نواز پارٹیوں کوانتخابی ریلیاں منعقد کرنے کے لیے سکیورٹی اورسہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور دوسری طرف آزادی پسند تنظیموں کو نام نہاد انتخابات کے بائیکاٹ کی پرامن مہم چلانے کی اجازت نہیں۔