مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نام نہاد انتخابات،مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال،مظاہرے، فورسز سے جھڑپیں
سری نگر.... مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد انتخابات کے موقع پربدھ کے روز مکمل ہڑتال کی گئی ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے دی تھی۔ دکانیں، کاروباری مراکزاور تعلیمی ادارے بند جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی۔ قابض انتظامیہ نے پولنگ کے موقع پرسرینگر، گاندر بل اور بڈگام کے اضلاع میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کر رکھا تھا جبکہ بہت سے پولنگ سٹیشن ویرانی کا منظر پیش کر تے رہے۔ رینہ واری ،صورہ ، کنگن ،بٹونہ سالورہ اور دیگر علاقوں میں لوگ سڑکوں پر آکر مظاہرے کر تے رہے۔ بھارتی فورسز کی طرف سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا گیاجبکہ مظاہرین اور فورسز کے اہلکاروں کے مابین تصادم کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ ادھر آزادی پسند رہنماؤں اور تنظیموں نے کہا ہے کہ نام نہاد انتخابات کے موقع پرحریت رہنماؤں، کارکنوں اور نوجوانوں کے خلاف کریک ڈاؤن سے ثابت ہو گیا ہے کہ انتخابی عمل محض ایک فوجی آپریشن ہے۔ حریت رہنما سید علی گیلانی جو سرینگر میں اپنے گھر میں نظربند ہیں نے ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ علاقے میں لاکھوں فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں انتخابی ڈرامہ فوجی آپریشن کے سوا کچھ نہیں ہے۔بھارت نے مقبوضہ علاقے کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے،لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ایک طرف بھارت نواز پارٹیوں کوانتخابی ریلیاں منعقد کرنے کے لیے سکیورٹی اورسہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور دوسری طرف آزادی پسند تنظیموں کو نام نہاد انتخابات کے بائیکاٹ کی پرامن مہم چلانے کی اجازت نہیں۔