مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ا سلام ہی واحد مذہب ہے جو تمام مسائل حل کرنے بارے قابل عمل نظام دیتا ہے: علامہ عاصم علی
مانچسٹر...اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور قرآن پاک میں پورے عالم میں موجود ہر شے کا ذکر بیان ہے،دنیا کی تمام ترقی اورتخلیق کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے لہٰذا اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو تمام مسائل کو حل کرنے بارے قابل عمل نظام کا حل بتاتا ہے صرف سچی لگن اور جستجو سے ایسا ممکن ہے،یہ روح پرور،ایمان افروز اور سینوں کو نور سے منور کرنے والی باتیں مرکزی جامع مسجد وکٹوریہ کے نوجوان اسلامی اسکالر و خطیب علامہ عاصم علی نے نارتھ ویسٹ سے آئے ہوئے اٹھارہ سو نوجوانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا دین اسلام پانچ ستونوں پر مشتمل ہے اور اگر ہم ان میں سے ایک بھی پورا نہ کریں تو دین نا مکمل ہے،توحید،حج،زکوٰۃ،روزہ،نماز پر عمل کرنے سے ہی مکمل مسلمان ہوتا ہے،ہمیں نماز کی پابندی کرنی چاہئے اور نماز کی ادائیگی سے ذہنی،جسمانی اور روحانی سکون ملتا ہے،انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح پورے عالم میں موجودہ حالات کے تناظر میں ہمارے دین اسلام کی تصویر کشی کی جا رہی ہے اور یہی سمجھا جا رہا ہے کہ ہم فساد برپا کرنے والے اور دہشت گرد ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ اسلام امن پسند اور تمام مذاہب کو برداشت کرنے کا سبق سکھاتا ہے آپ کا فرض ہے کہ اسلامی تعلیمات کو دنیا بھر میں پھیلائیں،انہوں نے کہا کہ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ہر انسان برابر ہے اور تمام روح عالم کو برابری کی سطح پر سلوک کرو اور مساوات کا درس دیا ہے آخر میں انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ دین کی تعلیم بھی حاصل کریں تاکہ وہ دین کی بہتر خدمت کرنے کے ساتھ ایک اچھے معاشرہ کو تشکیل دینے میں اپنا کردار احسن طریقے سے نبھائیں۔ (بیورو رپورٹ: فیاض بشیر)