مقبول خبریں
مکس مارشل آرٹ کونسل اور چیریٹی آرگنائزیشن کے زیر اہتمام تقریب کا انعقاد
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
فاروق عبداللہ کی انتخابی ریلیوں میں دھماکے،متعدد زخمی،ہڑتال ،مظاہرے جاری
سرینگر... مقبوضہ کشمیرمیں بھارت نواز نیشنل کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹرفاروق عبداللہ کی انتخابی ریلیوں میں دو دھماکے ہوئے ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پولیس نے کہا ہے کہ پہلا دھماکہ سرینگر کے علاقے خانیار میں ہوا جہاں فاروق عبداللہ نےریلی سے خطاب کرنا تھا ۔بھارتی میڈیا کے مطابق دوسرا دھماکہ ضلع بڈگام کے علاقے ماگام میں سرینگر گلمرگ روڈ پر فاروق عبداللہ کی آمد سے قبل ریلی کے قریب ہوا۔دونوں دھماکوں میں متعدد لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ایک اعلیٰ پولیس افسر نے کہا ہے کہ دھماکوں کی نوعیت معلوم کررہے ہیں ۔تاہم کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سرینگر میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی ریلی میں کوئی دھماکہ نہیں ہوا ۔ صرف دھماکے کی آواز سنی گئی، ادھر سرینگر میں جہاں تیس اپریل کو پولنگ ہونی ہے ،ایک ہزارسے زائد پولنگ سٹیشن کو انتہائی حساس قرار دیدیا گیا ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق الیکشن کمیشن نے تمام پولنگ سٹیشنوں پر فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے اضافے دستے تعینات کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ ادھر نوجوانوں کی گرفتاریوں کے خلاف چوتھے روز بھی ہڑتال کی گئی مختلف علاقوں میں نوجوانوں نے ٹولیوں کی شکل میں سڑکوں پرنکل کراحتجاج کیا ۔ شوپیاں میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے تین نوجوانوں کے قتل کے بعد متعدد علاقوں میں جھڑپوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ پلوامہ میں بھی متعدد مقامات پر جھڑپیں ہوئیں کیونکہ شہید ہونے والے نوجوانوں میں سے ایک کا تعلق پلوامہ سے تھا۔ دریں اثناء قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں کو الیکشن بائیکاٹ مہم سے روکنے کیلئے گرفتاریوں کا سلسلہ مزید تیز کردیا ہے۔ حریت رہنماسید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان ،محمد اشرف صحرائی اور ڈاکٹر غلام محمد گنائی اور دیگر مسلسل گھروں میں نظر بند ہیں جبکہ محمد یاسین ملک، مشتاق الاسلام ، محمد یوسف نقاش ، محمد یوسف میر، فردوس احمد شاہ ، مولوی بشیر احمد،مختار احمد صوفی اور یار محمد خان مختلف پولیس سٹیشنوں میں نظر بند ہیں۔جبکہ مزید دوسو مزاحمتی نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔