مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
ڈی پورٹیشن کے خوف میں مبتلا پریشان نوجوانوں کی جعلی شادیاں کرانے والے کو چھ سال قید
لندن ... برطانیہ میں رہائش کا قانونی جواز کھودینے والے پریشان حال افراد کو مختلف حیلوں بہانوں سے لوٹنے والے ایک وکیل کو عدالت نے جعلسازی کے الزام میں چھ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ نزاکت علی پاکستانی و انڈین نوجوانوں کو یورپی خواتین سے شادی کا جھانسہ دیتا اور انسانی حقوق کی آڑ لے کر عدالتوں میں انکے ویزہ مدت میں توسیع کی کوششیں کرتا۔ اس کھیل میں اس پر کئی عورتوں سے زیادتی کے بھی الزامات ہیں۔ چیک ری پبلک کی ایک عورت نے عدالت کو بتایا کہ اسے اپنا پاسپورٹ واپس لینے کیلئے اس درندے سمیت چار مختلف لوگوں کے ساتھ راتیں گزارنی پڑیں۔ ۔ ملزم جرائم پیشہ گروہوں کے ذریعہ مشرقی یورپی خواتین کو ملازمت کاجھانسہ دے کر برطانیہ بلواتاتھا اور پھر انھیں پاکستانی مردوں سے شادی کرنے پر مجبور کیاجاتاتھا۔ انر لندن کراؤن کورٹ کو بتایاگیا کہ پھر ملزم بارڈر ایجنسی کویہ باور کراتاتھا کہ ان کاموکل متعلقہ خاتون سے ملاقات کے بعد اس کے عشق میں گرفتارہوگیا ہے اور اب شادی کرنا چاہتاہے۔ وہ اس طرح کی جعلی شادیوں کیلئے 300 پونڈ فیس وصول کرتاتھا ،ان خواتین کو خاص طورپر شادیوں کیلئے لایاجاتاتھا اور پھر ان کی اپنے ممکنہ شوہر سے نزاکت علی کی ایسٹ لندن میں واقع دفتر پر ملاقات کرائی جاتی تھی۔ایک مرتبہ ملزم نے اپنے ایک موکل کیلئے بلائی گئی خاتون کے ساتھ جو طوائف کے طور پر کام کرنے کیلئے برطانیہ لائی گئی تھی ہم بستری بھی کی تھی۔ نزاکت علی کابھانڈا بی بی سی کے ایک بھیس بدل کر ملنے والے رپورٹر نے پھوڑاتھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کس طرح ملزم پہلی ناکامی کے بعد بھی اپنے موکلوں کو مزید جھوٹ بولنے کی ترغیب دیتا ایک موقع پر وہ پنجابی میں اپنے ایسے ہی ایک کلائنٹ سے کہتا ہے کہ وہ اسکے سٹاف کے سامنے ایسی باتیں نہ کریں جس سے انہیں شک ہو کہ ہم غلط کام کر رہے ہیں۔