مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا، حساس اداروں کے انڈرکورلوگوں کو جوابدہ ہونا پڑے گا: چیف جسٹس
اسلام آباد... چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ پہلے فیصلہ کیا گیا کہ حساس اداروں کے انڈرکور لوگوں کو سامنے نہیں لائیں گے مگر اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ، اب کسی کی پروا نہیں کرینگے بہت کہانیاں سن لیں ، ٹاسک فورس سے لاپتا افراد کا مسئلہ حل نہیں ہوگا ، حکومت کو موثر قانون سازی کرنا پڑیگی۔ حکومت سارے معاملات عدالت پر چھوڑ رہی ہے، اگر ایسا ہے تو وہ لکھ کر دیدے کہ اس سے کچھ نہیں ہوتا ہم دیکھ لیں گے لاپتہ افراد کیسے بازیاب نہیں ہوتے، اپنے پیاروں کے غم میں برسوں سے دھکے کھانے والوں کو حکومت کو تمام اخراجات ادا کرنا پڑیں گے جو ملزمان ہیں ان کیخلاف سخت کارروائی کریں مگر ان کے خاندان والوں کو تو ظلم کا نشانہ نہ بنائیں ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ لاپتا افراد کے مقدمات نے ہمارا سکھ چین چھین لیا ہے کتنے عرصے سے سکون کی نیند نہیں سوئے، لوگوں پر اور کتنا ظلم ہوگا اب تو اس کی انتہا ہوچکی ہے خدارا اب یہ سلسلہ بند کریں ۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پولیس اگر اپنا کام کرتی تو آج لوگوں کو ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ عدالت نے کے پی کے سے لاپتہ خیر الرحمن کی بازیابی کے لیے آئی جی کے پی کے کو 6 اگست تک آخری مہلت دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ زمین پھاڑو یا آسمان گراؤ لاپتہ شخص کو عدالت میں بازیاب کرکے پیش کریں جبکہ سجاد احمد لاپتہ کیس میں آئی جی پنجاب کو حکم دیا ہے کہ لاء افسران سے تعاون نہ کرنے والے پولیس افسران کیخلاف کارروائی کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے عدالت نے ٹاسک فورس کے پہلے اجلاس کی کارروائی اور پالیسی بھی طلب کرلی جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ٹاسک فورس قائم کردی ہے جسکے انچارج سیکرٹری داخلہ ہیں۔ ٹاسک فورس نے اپنے پہلے اجلاس میں ایک موثر پالیسی وضع کرنے کیلئے سب کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے اسکے بہتر نتائج برآمد ہونگے۔ ٹاسک فورس نے ابتدائی طور پر 90 لاپتہ افراد کی بازیابی بارے اپنے کام کا آغاز بھی کردیا ہے۔ انہوں نے یہ رپورٹ چیف جسٹس ا فتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ کے روبرو پیش کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آج کوئی اہم کیس ہے تو وہ خیر الرحمن کا ہے آئی جی صاحب آپ نے کیا کیا ہے ؟ آئی جی نے کہا کہ ایف آئی آر معطل کردی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خیر الرحمن کی بہن کے حوالے سے ہمیں تحفظات ہیں جو کچھ کیا گیا ، وہ غلط ہے ۔ارشاد ڈی ایس پی نے نہیں پولیس نے یہ کام کیا ہے پولس اگر اس طرح کے کام کرے گی تو ہم ہضم نہیں کرینگے۔ آئی جی نے کہا کہ ایف آئی آر کینسل ہوچکی ہے ملزم گرفتار ہوچکا ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ آپ کو بلانے کا مقصد معاملات کو حل کرنا ہے۔ جاوید خان ڈی ایس پی کو مقرر کیا گیا اس سے بڑھ کر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ عبدالرحمن موجود ہے مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پولیس افسر اس طرح سے کام نہیں کررہا جس طرح سے کرنا چاہتے تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ افغان کو بارہ لاکھ روپے لیکر فرار کرادیا گیا جبکہ خیر الرحمن تاحال لاپتہ ہیں وہ پولیس کی حراست میں نہیں ہے بلکہ صرف پولیس کو اس کی یقین دہانی کرائی گئی تھی ملزم ہے اس کیخلاف کیس چلائیں جو سزا بنتی ہے دلائیں۔ جسٹس جواد نے کہا کہ سید نعیم جان نے ایک لاپتہ شخص کو بازیاب کرایا جو گزشتہ دو سے تین سال سے لاپتہ تھا جسکے بارے میں کہا جارہا تھا کہ وہ ایجنسیوں کے پاس ہے، اس نے تبادلے کے باوجود کیس پر کام کیا ہے وہ کہاں گیا اور کہاں سے لے کر آیا عبدالجبار لاپتہ شخص گھر پہنچ گیا ہمیں ان مقدمات کی وجہ سے نیند نہیں آتی اور آپ ذمہ داری تک لینے کو تیار نہیں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب آپ ہمارے پاس آگئے آپ کی ذمہ داری شروع ہوگئی۔