مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھارت نواز سیاستدانوں پر حملوں میں تیزی،ڈی ایس پی سمیت20اہلکار زخمی
سرینگر...مقبوضہ کشمیر میں انتخابات مخالف مہم کے بعد بھارت اور بھارت نواز سیاستدانوں کیخلاف نوجوانوں کا غصہ بڑھ گیا ہے اور انہوں نے تشدد کا راستہ اپنالیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شاہ گنڈ بانڈی پورہ علاقے میں لوگوں نے بھارت نواز پارٹی نیشنل کانفرنس کے وزیر اکبر لون کے قافلے پر حملہ کرکے ایک ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت 20پولیس اہلکاروں کو زخمی کردیا۔ اکبر لون کو انتخابی مہم کے سلسلے میں ایک اجلاس سے خطاب کرنا تھا، نوجوانوں نے کٹھ پتلی وزیرکے قافلے پر پتھرائو اورراستے کو بلاک کیا، علاقے میں نیشنل کانفرنس کے کارکنوں کے مکانوں پر حملے کئے جس کی وجہ سے کٹھ پتلی وزیر اجلاس سے خطاب کئے بغیر ہی واپس لوٹنے پر مجبو ہوا۔ بھارتی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے جس کے نتیجہ میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ ضلع کولگام کے علاقوں قائموہ اور یاری پورہ میں مشتعل لوگوں نے بھارت نواز جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی کے قافلے کو حملے کا نشانہ بنایا۔قافلے پر پتھراؤ کے باعث اس میں شامل کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ دوسری جانب بزرگ کشمیری رہنما ء سید علی گیلانی نے محمد اشرف صحرائی،شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، ڈاکٹر غلام محمد گنائی، نعیم احمد خان اور مشتاق الاسلام سمیت 200لیڈروں اور کارکنوں کے گھروں، پولیس تھانوں اور جیلوں میں مسلسل نظربندی کو حکومت کااعترافِ شکست قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف (آج)21اپریل بروز پیر کو مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ترال، شاہ گنڈ، حاجن اور دیگر مقامات پر ہندنوازوں کی الیکشن ریلیوں کا بائیکاٹ کرنے کے لئے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئےپولیس تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جبکہ سید علی گیلانی کی طرف سے پریس کانفرنس میں دیئے گئے بیان کی پاداش میں ان کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیاہے۔ ان کیخلاف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر اس حوالے سے متعلق قانون زیر دفعہ 13کیس زیر نمبر 70/2014 درج کیاگیا ہے۔واضح رہے انکی پریس کانفرنس نے سرینگر سے دہلی تک ہلچل مچادی ہے۔ بیان سے مشتعل ہوکرمیرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ ان کے صبر کو کمزوری نہ سمجھاجائے اوراگروہ 90سے کتاب کھولیں تو بہت ساری باتیں سامنے آئیں گی،سید علی گیلانی نے ماضی میں بھی کئی لیڈران کو قبرستان پہنچایا اور آج وہ کس کو مروانا چاہتے ہیں؟ اور ان کے نشانے پر آج کون ہے۔