مقبول خبریں
برطانیہ کے ابھرتے ہوئے گلوکار عثمان فاروقی کے گانے جلوہ نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ہوم آفس کوڈ آف پریکٹس میں تبدیلیوں سے تارکین وطن میں تشویش بڑھ گئی ہے: بیرسٹر راشد اسلم
لندن ... معروف قانون دان بیرسٹر راشد اسلم نے نئے برطانوی امیگریشن قوانین کو امیگرینٹس کیلئے پہلے سے زیادہ سخت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اپنے لئے آسانیاں پیدا کرنے کیلئے ایسی سخت پابندیاں متعارف کرائی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے نتیجے میں ویزا معیاد میں توسیع کی زیادہ تر درخواستوں پر اپیل کا حق ختم کر دیا گیا ہے۔ ماسوائے ان درخواستوں کے جن میں ہیومن رائٹس کا مسئلہ ہو۔ علاوہ ازیں وہ امیگرنٹس جن کے ویزے کی معیاد کم ہوگی ان کو بیماری کی صورت میں علاج کروانے کے لئے این ایچ ایس کو رقم کی ادائیگی کرنا پڑے گی۔ بیرسٹر راشد اسلم نے کہا ہے کہ امیگریشن بل 2013-14 کے تحت اگر کوئی مالک مکان کسی غیر قانونی طور پر برطانیہ میں قیام پذیر شخص کو اپنا مکان کرایہ پر دے گا تو اس مالک مکان کو 3000 پونڈ جرمانہ کیا جائے گا۔ اس امیگریشن بل کے ذریعے ہیومن رائٹس آرٹیکل 8 کے نفاذ کو محدود کر دیا گیا ہے۔ کوئی بھی درخواست جس میں آرٹیکل 8 کے تحت ویزہ توسیع کی جائے گی۔ ہوم آفس مکمل طور پر جائزہ لے گا کہ آیا اس شخص کو ویزہ دینا مفاد عامہ میں ہے، وہ انگریزی زبان سے نابلد تو نہیں وہ معاشی طور پر خودمختار ہے۔ اگر یہ ساری شرائط وہ پوری نہیں کرتا تو شاید اس کو ویزہ نہ مل سکے۔ اس امیگریشن بل میں نیشنلٹی ختم کرنے کا اختیار اور قانون شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے ویزا فیسوں میں اضافے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہوم آفس کی جانب سے ویزہ توسیع کی درخواستوں میں ہوش ربا اضافہ افسوسناک ہے۔ بالخصوص میاں بیوی یابچوں کی درخواستوں پر ہوم آفس نے پیسوں کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے جس کی وجہ سے تارکین وطن معاشی پریشانیوں کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ ورک پرمٹ پر موجود افراد کے لئے آمدنی کا پیمانہ بڑھا دیا گیا ہے اور ہوم آفس نے آمدنی سے متعلقہ اپنے کوڈ آف پریکٹس میں کافی تبدیلی کی ہے۔ ان ساری تبدیلیوں کے نتیجے میں تارکین وطن میں ایک فکر مندی اور تشویش پائی جاتی ہے۔