مقبول خبریں
سیریا ریلیف کی چیئر پرسن ڈاکٹر شمیلہ کی طرف سے چیرٹی بر نچ کا اہتمام ، کمیونٹی خواتین کی شرکت
مسئلہ کشمیر بارےیورپی پارلیمنٹ انتخابات پر برطانیہ و یورپ میں بھرپور لابی مہم چلائینگے،راجہ نجابت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
سرچ آپریشن
پکچرگیلری
Advertisement
مرنے میں مدددینے سےمتعلق قانون بارے فیصلہ صرف پارلیمان کر سکتی ہے: اپیل کورٹ
مانچسٹر ... لاکڈ اِن سنڈروم کے مریض ٹونی نکلسن اور سڑک کے حادثے میں مفلوج ہونے والے پال لیمب کے خاندان ’موت کا حق‘ کا مقدمہ ہار گئے ہیں۔ ایک برطانوی اپیل کورٹ نے اس سے قبل دیا گیا ہوا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ نکلسن کو کسی ڈاکٹر سے یہ کہنے کا حق نہیں تھا کہ وہ ان کی زندگی ختم کر دیں۔ ان کی بیوہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی۔ لیمب بھی اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایک اور مفلوج شخص نے وہ مقدمہ جیت لیا ہے جس میں انھوں نے طبی حکام کو اس بارے میں رہنمائی فراہم کرنے کی درخواست کی تھی کہ وہ ان مریضوں کا علاج کرتے ہیں جو مرنا چاہتے ہیں۔ اس شخص کا نام مارٹن ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر یا نرسیں انھیں سوئٹزرلینڈ جانے میں مدد کریں جہاں وہ خودکشی کی ایک تنظیم کی مدد سے مرنا چاہتے ہیں۔ اس کی اہلیہ اور خاندان کے دوسرے افراد اس کی خودکشی سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے۔ نکلسن اور لیمب کی مقدمے میں فیصلے کا انحصار اس بات پر تھا کہ آیا ہائی کورٹ یہ کہنے میں حق بجانب ہے یا نہیں کہ اس بات کا فیصلہ عدالتوں کی بجائے پارلیمان کریں کہ کسی کو مرنے میں مدد دینے سے متعلق قانون کو بدلا جائے۔ تین رکنی عدالت نے متفقہ طور پر نکلسن اور لیمب کی اپیل خارج کر دی۔ فیصلے میں لارڈ چیف جسٹس نے کہا کہ اسقاطِ حمل اور سزائے موت جیسے زندگی اور موت کے معاملات پر پارلیمان ’قوم کے ضمیر‘ کی ترجمان ہے۔ تاہم یہ ججوں کا کام نہیں ہے۔ ہماری ذمے داری متعلقہ قانونی اصول دریافت کرنا ہے اور قانون کا نفاذ ہے۔