مقبول خبریں
مئیر کونسلر جاوید اقبال نےرضاکارانہ خدمات پرتنظیم وائی فائی کو تعریفی سرٹیفکیٹ اور شیلڈ سے نوازا
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مرنے میں مدددینے سےمتعلق قانون بارے فیصلہ صرف پارلیمان کر سکتی ہے: اپیل کورٹ
مانچسٹر ... لاکڈ اِن سنڈروم کے مریض ٹونی نکلسن اور سڑک کے حادثے میں مفلوج ہونے والے پال لیمب کے خاندان ’موت کا حق‘ کا مقدمہ ہار گئے ہیں۔ ایک برطانوی اپیل کورٹ نے اس سے قبل دیا گیا ہوا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ نکلسن کو کسی ڈاکٹر سے یہ کہنے کا حق نہیں تھا کہ وہ ان کی زندگی ختم کر دیں۔ ان کی بیوہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی۔ لیمب بھی اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایک اور مفلوج شخص نے وہ مقدمہ جیت لیا ہے جس میں انھوں نے طبی حکام کو اس بارے میں رہنمائی فراہم کرنے کی درخواست کی تھی کہ وہ ان مریضوں کا علاج کرتے ہیں جو مرنا چاہتے ہیں۔ اس شخص کا نام مارٹن ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر یا نرسیں انھیں سوئٹزرلینڈ جانے میں مدد کریں جہاں وہ خودکشی کی ایک تنظیم کی مدد سے مرنا چاہتے ہیں۔ اس کی اہلیہ اور خاندان کے دوسرے افراد اس کی خودکشی سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے۔ نکلسن اور لیمب کی مقدمے میں فیصلے کا انحصار اس بات پر تھا کہ آیا ہائی کورٹ یہ کہنے میں حق بجانب ہے یا نہیں کہ اس بات کا فیصلہ عدالتوں کی بجائے پارلیمان کریں کہ کسی کو مرنے میں مدد دینے سے متعلق قانون کو بدلا جائے۔ تین رکنی عدالت نے متفقہ طور پر نکلسن اور لیمب کی اپیل خارج کر دی۔ فیصلے میں لارڈ چیف جسٹس نے کہا کہ اسقاطِ حمل اور سزائے موت جیسے زندگی اور موت کے معاملات پر پارلیمان ’قوم کے ضمیر‘ کی ترجمان ہے۔ تاہم یہ ججوں کا کام نہیں ہے۔ ہماری ذمے داری متعلقہ قانونی اصول دریافت کرنا ہے اور قانون کا نفاذ ہے۔