مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
شرمناک کے الفاظ عدلیہ کو گالی دینے کے مترادف ہیں، 28 اگست تک نیا جواب جمع کروانے کی مہلت
اسلام آباد... چیف جسٹس نے کہا ہے شرمناک کے الفاظ عدلیہ کو گالی دینے کے برابر ہیں، یہ معاملہ ججز کی ذات کا نہیں ادارے کا ہے۔ اسلئے توہین عدالت نوٹس کیس میں سپریم کورٹ عمران خان کا داخل کردہ جواب ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے انہیں 28 اگست تک دوبارہ جواب جمع کروانے کی مہلت دیتی ہے۔ توہین عدالت نوٹس کیس میں عمران خان اپنے وکیل حامد کے ہمراہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، ان کے پہلے جمع کردہ جواب پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ جواب جمع کروانے کا حکم دیا، لیکن جمع کرایا گیا دوسرا جواب بھی عدالت نے ناقابل اطمینان قرار دے دیا، عدالتی حکم میں کہا گیا کہ شرمناک کے الفاظ عدلیہ کو گالی دینے کے مترادف ہیں، یہ معاملہ ججز کی ذات کا نہیں ، ادارے کا ہے۔عمران خان کی طرف سے جمع کرائے گئے دوسرے جواب میں موقف اپنایا گیا تھا کہ ان کی شکایات ریٹرننگ افسران کے متعلق تھیں، عمران خان کا 26 جولائی کا بیان عدلیہ کے خلاف نہیں تھا، عمران خان عدلیہ کا انتہائی احترام کرتے ہیں، براہ مہربانی نوٹس کو واپس لیا جائے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ آپ کہتے ہیں کہ خیبرپختون خوا میں عدلیہ اپ رائٹ ہے اور سندھ میں نہیں، کیا آئندہ الیکشن میں ڈی سی اور ڈی پی او کو لگا دیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ساری عدلیہ پر الزام لگایا گیا ہے، عمران خان کا وضاحتی بیان قابل قبول نہیں، آپ مزید وقت لے لیں اور پھر جواب داخل کریں،یہ افتخار یا عظمت کی ذاتی انا کی بات نہیں، پورے ادارے کی عظمت اور وقار کا معاملہ ہے، سپریم کورٹ کیسے مان لے کہ ماتحت عدلیہ کو شرمناک کہنا درست ہے، اس طرح دباوٴ میں آنے لگے تو لوگ کہیں گے ہمارا مقدمہ سنیں ورنہ گالی دیں گے۔ توہین عدالت کیس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ مجھے آج پہلی مرتبہ پتا چلا کہ شرمناک بڑی گالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تاریخ میں کبھی اتنے لوگ ووٹ ڈالنے نہیں نکلے، ہم چاہتے کہ آئندہ شفاف انتخابات ہوں اور سب نتائج تسلیم کر لیں، ہم نے 4 حلقوں میں تحقیقات کا کہا تھاتاکہ پتہ چلے دھاندلی میں کون ملوث تھے۔ عمران خان نے کہاکہ 11 مئی کے انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی،سپریم کورٹ کے پاس انصاف کیلئے نہ جائیں تو کہاں جائیں ۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی جمہوریت کی جنگ لڑرہا ہوں، کوئی غلط بات نہیں کی جس پر سزا ملے، میں نے تنقید ریٹرننگ افسران اور الیکشن کمیشن کے عملے پرکی، کبھی بھی اعلیٰ عدلیہ سے متعلق ایسے الفاظ استعمال نہیں کرتا۔