مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مثبت تبدیلیاں لا کر کمیونٹی کو بہتر مقام دلانے کیلئے خارزارسیاست میں قدم رکھا: بیرونس وارثی
بلیک برن ... اسلام بھائی چارے اور امن کا مذہب ہے ہمیں محض اسکا پرچار کرنے کے بجائے اس پر عمل کی بھی ضرورت ہے۔ برطانیہ جیسا ملٹی کلچرل ملک ہر مذہب کا احترام کرتا ہے اور تمام عقائد کواپنی اپنی تعلیمات کی کلی آزادی ہے۔ وقت نے بہت کچھ بدل دیا ہے اب جگہ جگہ بنے کمیونٹی سینٹرز بھی اس حقیقت کا ادراک کرنے لگے ہیں کی بھائی چارے اور سلوک میں کوئی برائی نہیں بلکہ دنیا کے تمام مذاہب ہی تقریبا اس کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار برطانیہ کی سینئر کمیونٹیز منسٹر بیرونس سعیدہ وارثی نے بلیک برن میں مساجد کونسل کے ایک اہم اجلاس اور ازاں بعد امہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ سعیدہ وارثی نے کہا کہ مذہبی کمیونٹی کی طرف سے اہم کام معاشرے کا اہم حصہ ہے ۔ اس سلسلہ میں ہم نے حکومتی سطح پر کئی اہم پروگرام ترتیب دئیے ہیں تاکہ ہم سب مل کر اس معاشرے میں کام کرسکیں۔ پہلی مذہبی امور کی منسٹر ہونے کے ناطے میں نے کمیونٹی کے لئے فنڈنگ کا اجراء کیا ۔ ان کا مقصد ایک امام کا چرچ کے پادری سے سموسہ کھانے کے دوران بات چیت نہیں بلکہ کمیونٹی کا آپس میں مل کر حقیقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خود نسل پرستی کا سامنا کرچکی ہوں اور برطانیہ میں پیدا ہونے کے باوجود مجھے مسلمان ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ تعصب کا برتاوٴ کیا جاتا رہا۔ مجھے علم تھا کہ اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں ہے ،اب گورنمنٹ کی طرف سے مخصوص کام کیا جارہا ہے جس کے تحت پولیس اور دوسرے ادارے اس سے نمٹنے کے لئے کام کررہے ہیں ۔ سعیدہ وارثی نے کہا کہ میں یہ بھی سمجھتی ہوں کہ ہمیں تاریخ میں نسل پرستی اور تعصب کے واقعات کو بھی منانا چاہئے اور ہولو کوسٹ اور سربریننیکا جیسے واقعات کو بھی یاد رکھنا چاہئے، ہماری حکومت نے پہلی بار یورپ میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم کا دن منانے کے لئے سربریننیکا کی یاد منائی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے پہلی جنگ عظیم میں مسلمان اور دوسری مذہبی کمیونٹی کی قربانیوں کی یاد میں خصوصی پروگرام مرتب دئیے کیونکہ یہ ہماری تاریخ کا اہم حصہ ہے لیکن بدقسمتی سے ہمیشہ بُری خبر کو اہمیت ملتی ہے اور اچھی خبر کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ نوجوان انفرادی طور پر امدادی کاموں کیلئے شام نہ جائیں،غلط گروپ میں داخل ہوکر مشکلات کاشکار ہوسکتے ہیں،ہم شام میں برطانوی شہریوں کی مدد نہیں کرسکتے،وہاں ہماراسفارت خانہ نہیں ،کمیونٹی کاتحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اسلئے حکومت بار بار سب کو باور کرارہی ہے کہ وہاں جانے میں احتیاط کریں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو کمیونٹی میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وولچ میں فوجی لی رگبی کے قتل کے بعد مسلمانوں کے مثبت ردعمل کے بعد اب یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ اس قسم کے واقعات کا عام مسلمانوں کو کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم کسی کو اسلام کا نام استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔اس واقعہ کے بعد جہاں مساجد پر حملے شروع ہونے لگے وہاں حکومت نے مساجد میں جاکر رمضان میں افطار پروگرام مرتب کئے۔ اب مسلمان کمیونٹی نے اپنے گھر، کمیونٹی سنٹر اور دیگر ادارے دیگر کمیونٹیز کے لئے کھول دئیے ہیں جس سے ہم آہنگی کی فضا پیدا ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ لوگ اس ملک میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں اور اس سلسلے میں جہاں تحفظ کے حوالے سے پالیسیاں مرتب کی جارہی ہیں وہاں کمیونٹی کے ساتھ مل کر کمیونٹی میں ہم آہنگی کا کام کیا جارہا ہے۔ بیرونس وارثی کا کہنا تھا کہ مسلمان نوجوانوں کے لئے سب سے بڑا چیلنج ایک عام شہری کی طرح اس ملک میں زندگی گزارنا ہے۔ اس سے پہلے یہودی، کیتھولک عیسائی اور سیاہ فام کمیونٹی اس عمل سے گزر چکی ہیں اور شاید اس میں وقت لگے لیکن برطانیہ کو مسلمانوں کو قبول کرنا ہوگا اور مسلمان برطانیہ کوقبول کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ میں نے اس لئے کہا کہ میں کمیونٹی میں تبدیلیاں لانا چاہتی ہوں ورنہ میں وکالت کرکے زیادہ پیسے کماسکتی تھی۔ سیاست میں جہاں مجھے کئی دن اپنے خاندان سے دور رہنا پڑتا ہے وہاں بہت سی دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن میں صحیح معنوں میں کمیونٹی کی بھلائی کے لئے کام کرنا چاہتی ہوں۔