مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مائیکرو سافٹ کی جانب سے برطانیہ میں فحش اورغیر قانونی مواد والی ویب سائٹس بلاک کرنے کا فیصلہ
برمنگھم ... مائیکرو سافٹ نے آن لائن فحش اورغیر قانونی مواد رکھنے والی ویب سائٹوں کو برطانیہ میں بلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مائیکروسافٹ کے سرچ انجن بِنگ پر بچوں کی نازیبا تصاویر اور جنسی استحصال سے متعلق ویڈیوز سرچ کرنے پر ایک تنبہی پیغام جاری کیا جائے گا جس میں بتایا جائے گا کہ آپ جو مواد تلاش کر رہے ہیں وہ برطانیہ میں غیرقانونی ہے اوراس کے ساتھ ایک مددگار سروس کا لنک بھی دکھایا جائے گا۔ مائیکرو سافٹ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سرچ انجن بِنگ کے پلیٹ فارم سے بچوں سے متعلق فحش مواد تلاش کرنے پر ایک پاپ اپ ونڈو نمودار ہو گی جس میں صارف کو خبردار کیا جائے گا کہ مطلوبہ مواد غیر قانونی حیثیت رکھتا ہے اور ساتھ ہی انھیں ہیلپ لائن پر رجوع کرنے کے لیے کہا جائے گا۔ مائیکرو سافٹ کا موجودہ اقدام دراصل برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے اس منصوبے کی ایک کڑی ہے جس کا اعلان انھوں نے گذشتہ ہفتےکیا تھا۔ آن لائن فحاشی کے خلاف نئے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرنے کے لیے حکومت نے تمام انٹرنیٹ کمپنیوں کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ وہ ایسی تمام ویب سائٹس کی سرچ کے نتائج کو بلاک کریں جن میں غیرقانونی فحش مواد موجود ہے جبکہ انھیں ایسا کرنے کے لیے اکتوبر تک کا وقت دیا گیا ہے اور ساتھ ہی متنبہہ کیا ہے کہ اگر انٹرنیٹ کمپنیاں غیر قانونی مواد ہٹانے کےلیے موثر اقدامات کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے ۔ نئے منصوبےکے تحت برطانیہ بھر میں انٹرنیٹ سروس پروائیڈر کی جانب سے صارفین کے لیے ایک آٹومیٹک فلٹرمتعارف کرایا جارہا ہے جس کا مقصد انٹرنیٹ کی تاریک دنیا کے زہر سے بچوں کو بچانا ہے۔ یہ آٹومیٹک فلٹر اسی برس کے اختتام پر تمام گھریلو انٹرنیٹ صارفین کو فراہم کیا جائے گا جبکہ موجودہ صارفین کو اگلے برس تک یہی سروس فراہم کی جائے گی۔ انٹرنیٹ فحاشی سے متعلق صورتحال میں سنگینی اس وقت پیدا ہوئی جب برطانیہ میں پانچ سالہ اپریل جونز اور بارہ سالہ ٹیا شارپ کے قاتلوں نے بچیوں کواغوا کرنے اور جنسی ذیادتی کا نشانہ بنانے سے پہلےانٹرنیٹ پر موجود غیر قانونی مواد تک رسائی حاصل کی تھی ۔