مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
قرآن مجید سے جسکا لگائو ہو جائے وہ رب کےانتہائی قریب ہو جاتا ہے: علامہ منیر احمد یوسفی
اولڈہم ... نگینہ جامع مسجد اہلسنت و جماعت میں استاد العلما و المشائخ و الحفاظ و القرأ قاری غلام رسول کے ایصال ثواب کیلئے محفل حسن و قرأت و تاثرات منعقد ہوئی ۔ نظامت کے فرائض مسجد ہذا کے خطیب اور برطانیہ کے معروف قاری خادم حسین چشتی نے سر انجام دیئے ۔ پہلی نشست میں قاری غلام رسول کو خراج عقیدت کے پھول پیش کرنے کیلئے قاری محمد بلال ، قاری محمد سمندر ، قاری انعام الحق ، قاری ظہیر اقبال قادری ، حافظ قاری جاوید اختر چیئرمین انٹرنیشنل نعت ایسوسی ایشن نے قرآن پاک کی تلاوت سے پیش کئے ۔ نعت رسول قاری وقاص احمد نے حضور پاکؐ کی بارگاہ اقدس میں پیش کی ۔ محفل سے مہمان خصوصی پاکستان سے آئے ہوئے مشہور عالم دین علامہ منیر احمد یوسفی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب آخری جہنمی کو رب کریم جنت میں داخل ہونے کیلئے کہیں گے تو وہ کہے گا اے خدا وند کریم جنت تو خالی نہیں ہو گی پھر رب اس بندے سے کہے گا تو جا تو سہی تمہارے لئے سو جنتیں خالیں ہیں اور جنت میں جنتیوں کیلئے پہلا کھانا مچھلی ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ فرعون کے غرق ہونے پر نہ زمین روئی نہ آسمان ، یہ تب روتے ہیں جب کوئی مومن دنیا سے کنارہ کشی کرکے ابدی نیند سو جائے تو ذرا سوچو جس شخص نے اپنی پوری زندگی قرآن پاک کی تلاوت کرتے اور دوسروں کو سکھاتے ہوئے گزاری ہو تو پھر اس کے جانے پہ زمین و آسمان رویا تو ضرور ہو گا کیونکہ رب کریم کی کتاب یعنی قرآن مجید سے جس بندہ مومن کا لگائو ہو جائے تو پھر وہ رب کے انتہائی قریب ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے سورۃ الاعراف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بیان ہے کہ جسم میں روح ہو یہ نہ ہو تب بھی وہ سب سنتی ہے اس لئے جب ہم قبرستان جاتے ہیں تو تمام اہل قبول کو اسلام علیکم کہتے ہیں ۔ بخاری شریف میں ہے کہ قبر کے اندر انسان کو دو وقت جنت اور جہنم کا نظارہ کروایا جائے گا لیکن مشرکین اور کفار کو دوزخ بار باردکھائی جاتی ہے تا کہ ان کو ذہنی اذیت دی جائے ۔ انہوں نے موصوف کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انکی حفاظت کیلئے قرآن قبر میں آکر فرشتوں سے کہے گا میں انکی حفاظت کیلئے آیا ہوں اے رب کریم سے التجا کریگا کہ قبر کو نور سے روشن کرکے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے (آمین )انہوں نے کہا کہ قاری صاحب نے قرأت کے ذریعے اسلام کی پوری دنیا میں خدمت کی زندگی میں اور مرنے کے بعد بھی وہ لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں ۔ انکا یہ عمل صدقہ جاریہ ہے جسکا ثواب تاقیامت ملتا رہیگا ۔ آخر میں انہوں نے تمام علمائے کرام کا دلی شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے محفل میں آخر میں ایک ایسا گلدستہ سجایا جس سے موصوف کی روح کو سکون اور دلی خوشی ہو رہی ہو گی ۔ علامہ اعظمیٰ نے کہا کہ انکی یادیں صبح قیامت تک ہمارے ساتھ رہیں گی ۔ تلاوت قرآن پاک کی کیفیت جو انہوں نے دی اس سے پہلے کبھی کسی نے نہیں دی انکی آواز میں جادو تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ انسان خوش قسمت اور عظیم ہوتا ہے جو اپنا کام پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد دنیا سے کنارہ کشی کرے ، قاری خادم حسین چشتی نے کہا کہ منصف نبوت میں سب سے بڑا کام تلاوت قرآن پاک ہے جو موصوف نے دنیا بھر میں قرآن کی تلاوت پہنچائی اور سکھائی ۔ مولانا علامہ محمد ایوب نقشبندی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حدیث نبویؐ ہے کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے ۔ قرآن کے فن کو پاکستان میں ترویج پہنچانے والے قاری غلام رسول تھے ۔ مولانا مفتی محمد اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سفیر اہل سنت و الجماعت تھے انکی خدمات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ۔ علامہ مولانا عبدالشکور قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اپنی توانائیاں ملت ، مذہب کی خدمت کیلئے وقف کر دیں وہ تا قیامت زندہ جاوید رہتے ہیں اور انکا نام تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائیگا ۔ قاری مولانا محمد اسماعیل مصباحی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب قاری غلام رسول ریڈیو پاکستان پر تلاوت قرآن سناتے تھے تو ہندوستان کے ہزاروں طلبا سن کر فیض یاب ہوئے ۔ علامہ ارشد مصباحی نے کہا کہ قرآن کریم سب سے بڑا معجزہ ہے اور اسکی تلاوت کرنا اس سے بڑا ، موصوف کی آواز میں قدرت کا کرشمہ تھا ۔ محفل سے مولانا حافظ جمیل احمد ، قاری محمد اسلم سیالوی اولڈہم ، نوجوان شعبہ بیاں مولانا فیصل یعقوبی ، قاری و حافظ ظہیر احمد نے بھی شرکت کی ۔ آخر میں محفل کی صدارت کرنے والے استاد القرأ قاری عبدالرسول حقانی نے کہا کہ وہ قاری غلام رسول کے شاگرد تھے اور انکو انکی قربت حاصل رہی ہے وہ انتہائی ملنسار ، شفیق النفس انسان تھے ، انکی تمام زندگی ہمارے لئے ایک انمول تحفہ ہونے کے ساتھ مشعل راہ ہے ، انکی تلاوت میں سکون تھا اور انسان غیر ارادی طور پر وجد میں چلا جاتا تھا ۔ آخر میں انہوں نے نگینہ مسجد کے تمام ذمہ داران کا دلی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے محفل کا انعقاد کیا ۔ یادرہے اس محفل میں قاری غلام رسول کے انتہائی قریبی رشتہ داروں قیصر ، فاروق ، طارق ، محمود اور انکے صاحبزادے ارباب نے بھی شرکت کی ، آخر میں لنگر تقسیم کیا گیا ۔ (رپورٹ: فیاض بشیر)