مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ میں کشمیری شناحت کے حوالے سے کوئی اختلاف نہیں، سیاسی جماعتوں کا مشترکہ فیصلہ
لوٹن...برطانیہ میں کشمیری شناحت کے حوالے سے کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا،ہم پہلے کشمیری ہیں پھر سیاسی وابستگیاں۔برطانیہ میں کشمیریوں کی علیحدہ شناخت کا تسلیم ہو جانا تحریک آزادی میں اہم پیش رفت ثابت ہو گا،بیس کیمپ کے سیاستدان یورپ کو ختم کرنے کی بجائے تحریک آزادی اور عوامی بہبود پر توجہ دیں،ان خیالات کا اظہار جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی طرف سے بلائی گئی لوٹن کی سیاسی پارٹیوں کے اجلاس میں کیا گیا۔مقامی آل پارٹیز کانفرنس جے کے ایل ایف یو کے یورپ کے جنرل سیکرٹری سید تحسین گیلانی کی طرف سے دعوت دی گئی اور کانفرنس کی صدارت جے کے ایل ایف سفارتی شعبہ کے سربراہ پروفیسر ظفر خان نے کی۔مشترکہ اجلاس میں مسلم کانفرنس برطانیہ کے سیکرٹری جنرل اور سابق میئر لوٹن کونسلر ریاض بٹ،جموں و کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ کے صدر صادق سبحانی ایڈووکیٹ مسلم لیگ ن برطانیہ کے رہنماء اور سابق ڈپٹی میئر لوٹن کونسلر چوہدری ایوب کے جنرل سیکرٹری حافظ طارق محمود،پیپلز پارٹی لوٹن کے صدر راجہ اعظم،جے کے ایل ایف یوکے یورپ زون کے آرگنائزر صابر گل،کونسلر طاہر ملک،کونسلر راجہ اسلم نیب برطانیہ کے رہنماء آزاد راجہ،جے کے ایل ایف لوٹن کے سیکرٹری عقیل الثقلین نے شرکت کی،اجلاس میں مشترکہ طور رپر قراردادیں منظور کی گئیں جس میں کہا گیا کہ کشمیری شناخت کے حصول کیلئے جدوجہد جاری رہیگی اور اس پر برطانیہ میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا،راچڈیل کے ممبر پارلیمنٹ کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور کشمیر شناخت کے حصول کیلئے دیگر ممبران پارلیمنٹ سے لابنگ کی جائے گی،آزاد کشمیر کے حکومتی سیٹ اپ کو با اختیار اور جمہوری ہونے پر زور دیا گیا،اور بیس کیمپ کے سیاستدانوں پر زور دیا گیا کہ وہ یورپ کو ختم کرنے کی بجائے تحریک آزادی اور عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دیں،اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ کشمیری شناخت اور تحریک آزادی کے حوالے سے اہم مواقع پر مشترکہ لائحہ عمل سے آگے بڑھا جائیگا۔