مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اپنی رسوائی سے ہونے لگی اُلفت مجھ کو
حسب معمول آج بھی آنکھ صُبح صُبح ہی کھل گئی۔ ہاتھ منُہ دھو کر نیچےچائے کا کپ بنا کر کمپویٹر دیوتا کے سامنے بیٹھ کر" فیس بُک " ( کتاب چہرے) واء کی تو " سکرول" کرتے کرتے پروفیسر نذیر انجم کی تصویر پر نظر رُک گئی اس اُمید کے ساتھ کہ اُن کی صحت کے بارے میں کچھ تازہ ترین خبر ہوگی۔ اگلے دن ڈاکٹر مناف صاحب نے ان کی بیماری کی خبر " شئیر" کرتے ہوئے ان کی صحت یابی کی دعا کی تھی۔ میں نے اس پر نذیر انجم کا وہ مشہور زمانہ قطعہ لکھا تھا ۔ "ظلم کو امن عداوت کو وفا کہتے ہیں . . . کیسے ناداں ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں . . . میرے کشمیر ذرا جاگ کہ کچھ جاہ طلب . . . غیر کو تیرے مقدر کا خدا کہتے ہیں" مگر الیکٹرانک میڈیا یونین کے صدر رفیق مُغل کے سٹیٹس پر اس تازہ ترین خبر کے مطابق کشمیر کےشاعر آزادی و مساوات اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں مزاحمت کی علامت نذیر انجم یہ جہاں چھوڑ کر جا چکے تھے ۔ میں نے فوری طور پر یہ سٹیٹس شَئیر کیا مگر کچھ دیر بعد کچھ اُلٹی سیدھی خبروں پر نظر پڑی تو یوں ہی خیال پیدا ہوا کہ ہو سکتا ہے انجم صاحب والی خبر بھی اپریل فول ہو۔ ڈاکٹر مناف صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ابھی ریاض انقلابی صاحب کو فون کر کے پوچھتا ہوں ۔ چاچو رحمان کو فون پر میسج بھیجا کہ کیا یہ خبر درست ہے۔ رفیق مُغل صاحب کو پرائیوٹ پیغام بھیجا کہ کہیں ایسا تو نہیں؟ ان کی طرف سے جواب نہ ملا تو ان کے دوسرے سٹیٹس پر جو کہ انگریزی میں تھا پوچھا کہ کیا اپریل فول تو نہیں بنایا۔اُنہوں نے جواب میں لکھا کہ شمس صاحب ایک تو میں اپریل فول کا میں مخالف ہوں اور دوسرے پروفیسر صاحب ہمارے قومی شاعر تھے۔ اتنے میں داکٹر مناف صاحب نے بھی تصدیق کر دی کے موت کی اطلاع درست ہے ۔ ان کو پھیپھروں اور دماغ کا سرطان ہو گیا تھا ۔ چچا رحمان نے بھی تصدیقکر دی کہ جنازہ ساڑھے پانچ بجے اکال گڑھ [ اب کاغذی اسلام گڑھ] میں ان کے آبائی گاوں موڑا راٹھیاں [ اوچھی عزیز] میں پڑھائی جائے گی۔ تنویر احمد نے فیس بُک پر لکھا ہے کہ چند روز قبل وہ پروفیسر صاحب سے ملنے گئے تھے۔ اگرچہ وہ بہت علیل نظر آرہے تھے اور معاملہ کچھ اس طرح کا تھا کہ مقامی ڈاکٹروں نے ان کی کوئی غلط تشخیص کی ہے اور اب کوئی برطانیہ سے تعلیم یافتہ ڈاکٹر ان کا معائنہ کر رہا تھا ۔ مگر ظاہر ہے کہ بیماری بہت زیادہ نقصان کر چکی تھی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ طبقاتی سماج اور قومی غلامی کے خلاف مزاحمت کی ایک اور علامت کی روح مسافر ہو گئی۔ مگر اس کی سوچ اس کی فکر اور اس کے نظریات لفظ لفظ حر ف حرف زندہ جاوید ہیں ۔ میری آنکھیں مختلف پیغامات اور لائیکس دیکھ رہی تھیں اور تخیل ماضی میں چلا گیا ۔ یہ ستر کی دہائی کی بات ہے۔ میری عمر یہی کوئی گیارہ بارہ سال کی ہو گی۔ بچپن کی یادوں میں ایک پوری دُنیا آباد ہے۔ ایک الگ دُنیا ۔ اُس دُنیا کی کچھ یادیں عام سی ہیں۔ اور کچھ خاص، مُنفرد۔ نئی ۔ جس طرح مادی دُنیا میں نئی نئی چیزیں دیکھ کر آئے روز ہماری آنکھیں کھُلی کی کھُلی رہ جاتی تھیں ۔اسی طرح سماجی دُنیا میں بھی کچھ مظاہر حیران کن تھے۔ میری اُس عمر کی یادوں میں ایک حیران کنُ یاد ایک ایسے نوجوان کی ہے جو اکثر پتلون اور شرٹ پہنے قدرے موٹے چشمے کی عینک لگائے اپنی سوچوں میں مگن راٹھیاں ، رکھیالاں اور لوہاراں موڑوں کے درمیان کھیتوں کی پگڈنڈیوں پرنظر آتا تھا۔ یہ اُس عمر کی یاد ہے جب رشتوں کےحوالے سے صرف اپنے بہت قریبی اور گھر میں اکثر آنے جانے والوں کی ہی پہچان تھی۔ میں تب یہی سمجھتا تھا کہ یہ آدمی کہیں باہر سے ہے، یا پھر بینک میں کام کرتا ہوگا۔ سکول جاتے وقت بازار میں یونائیٹڈ اور حبیب بینک کے کچھ ملازمین پتلون شرٹ میں ملبوس نظر آیا کرتے تھے ۔بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا نام نذیر انجم ہے ۔ راٹھیاں موڑے کا رہنے والا ہے اور شاعر ہے۔ اُس وقت شاعری کی میری سمجھ وہی تھی جو کہ ارد گرد کے ماحول میں عام تھی۔ فضول سا کام جس سے کچھ ' لبھت ' نہیں ہوتی۔ یعنی جس سے کچھ نہیں ملتا۔ اور اس " کچُھ" کا مطلب "روزی روزگار" اور " پیسے تیلے" سے تھا ۔ اُس کے ہم عمروں اور ہم جولیوں سے بھی اکثر اس کا ذکر مذاق اور اکتاہٹ کے لہجوں ہی میں سُنا۔ اکثر ذکر اس تناظر میں ہوتا تھا کہ دیر ہوگئی کیونکہ انجم صاحب آئے ہوئے تھے۔ پھر نذیر انجم نظر آنا بند ہوگے۔ لیکن میرے لیے یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جس کو میں محسوس کرتا۔ پھر سُنا کہ نذیر انجم کی شاعری کی کتاب شائع ہوئی ہے ۔ فرازِ دار ۔ اس کے بارے میں اس وقت ادھر اُدھر سُنی ہوئی باتوں کی بازگشت دماغ کے اُس زمانے کی یادوں والے خانے [ یا اب کمپیوٹر کی زبان میں فائل ۔۔۔ زبانوں کا ارتقا مادی دُنیا کے عکس ہوتا ہے؟] سے یوں آتی ہے کہ ان کی شاعری کو سراہانے والے بھی موجود تھے۔ میرے گاوں میں انجم صاحب کے ہم عصروں میں غلام غوث [ اب فلاسفی کے ڈاکٹر ] ، خود میرے چچا عبدالرحمان [ ریٹائرڈ کرنل ریڈیالوجسٹ] ، چچا اسحاق ، بہنوئی عبدالرزاق ، صوفی نثار [ مرحوم ] عتیق بُکڈپو والے، عبدالرشید [ بعد ازاں پولیس میں رہے] وغیرہ تھے ۔ شاید ان لوگوں کی زبانی ہی سُنا کہ انجم صاحب کی شاعری بڑی اچھی ہے جی۔ جو کچھ مجھے یاد رہ گیا ہے اس کا خلاصہ یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ جی صرف پیار محبت کی شاعری نہیں کی ہے بلکہ قومی شاعری بھی ہے ۔ اور ایک شعر اس عمر سے یاد میں محفوظ چلا آ رہا ہے : "ہر جگہ تجھے ڈھونڈ آیا ہوں . . . غیر کے در سے تا فرازِ دار" یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا یہ شعر ہے یا مصرع اور کیا واقعی اسی طرح ہے جس طرح مجھے یاد ہے میں نے دو بار انجم صاحب کے کلیات" قرضِ سُخن" کی دو بار ورق گردانی کی ہے اس میں نہ تو فراز دار ہے اور نہ یہ شعر یا مصرع۔ جانے کیوں؟ شاید ان کے کے کسی شاعر یا غیر شاعر قریبی دوست کو معلوم ہوگا؟ 1976-77 میں سکول سے میرپور کالج پہنچا ۔ یہاں نذیر انجم کبھی کبھی پھرنظر آنے لگے۔ میرے چچا عبدالرحمان ڈاکٹر بن کر پاکستان فوج کی مڈیکل کور میں کیپٹن بھرتی ہو کر میرپور کے سول و فوجی ہسپتال میں تعینات تھے۔ مین ان کے پاس ہی رہتا تھا ۔ ایک دو بار انجم صاحب وہاں بھی آئے ۔ کم گو۔ اپنے آپ میں محو ۔ چچا کی زندگی بے حد تیز رفتار تھی جبکہ انجم صاحب تو جیسے ایک ایک لمحے کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر چلتے تھے ۔ میری تو سمجھ میں ہی نہیں آتا تھا کہ ان سےکیا بات کروں ۔ پھر چچا کی ٹرانسفر کراچی ہوگئی اور میں بھی میرپور کالج میں ایف ایس سی فیل کر کے کراچی چلا گیا ۔ انجم صاحب سے براہ راست اپنی حیثیت میں ملاقات 1994 میں ہوئی ۔ کاشر پبلشر کے خواجہ رفیق صاحب کے ہاں گیا تو وہاں انجم صاحب بھی تشریف فرما تھے۔ سلام دعا ہوئی اور پھر چُپ۔ پھر انجم صاحب انگلینڈ آئے۔ کہیں 1995 کے وسط میں ۔ ان کے بھائی محمد اسلم صاحب اولڈہم میں رہتے تھے اور اب ان کی ایک بھتیجی اور بھتیجے بھی یہیں پر مقیم ہیں ۔ اب تک مجھے نہ صرف یہ معلوم ہو چکا تھا کہ انجم صاحب ہمارے خاصے قریبی رشتہ دار ہیں بلکہ والد صاحب کی زبانی یہ بھی معلوم ہو ا کہ انجم صاحب کے والد کے ہمارے گھرانے پر خاصے احسانات بھی ہیں ۔ انجم صاحب کے والد محمد حسن صاحب ہمارے علاقے کے معززین میں شمار ہوتے تھے اور مختلف دفاتر میں ان کو رسائی حاصل تھی۔ میرے دادا علاقے میں قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں دھر لیے گئے تو انجم صاحب کے والد نے ان کی رہائی میں اہم کردار ادا کیا ۔ ابھی حال ہیں میری والدہ صاحبہ نے مجھے بتایا کہ ان ہی بابا حسن محمد نے "اماں جی" میری ممانی جو کہ 1947 کے رولے میں اس پار رہ گئی تھیں اور ماموں کفایت علی سے شادی کی تھی اور واپس نہیں جانا چاہتی تھیں ، ان کا نام پولیس کی فہرست سے خارج کروا کر دیا تھا جس کے بعد " پولیس کے چھاپو ں سے جان چھوٹی"۔ برطانیہ میں کھلے ماحول میں انجم صاحب سے کھل کر گپ شپ ہوئی ۔ ان کے مشاعرے یہاں منعقد کروائے اور ایک اولڈہم کونسل کے کمیٹی روم میں ان کے اور وادی کشمیر سے آئے ہوئے ڈاکٹر عبدلقادر وانی [ شہید] کے اعزاز میں ایک سیاسی بیٹھک بھی کروائی ۔ [ اب مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کہ پروفیسر اسحاق قریشی مرحوم جو اس وقت برطانیہ میں موجود تھے وہ بھی اس میں شریک تھے یا نہیں آ سکے تھے ۔ ] ۔ ایکرنگٹن میں بھی چوہدری یونس، قاضی صدیق، اللہ داد اور چوہدری سرور صاحب وغیرہ نے ایک بہت اچھی تقریب کا اہتمام کیا ۔ ان تقریبات میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے انجم صاحب اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ڈاکٹر وانی صاحب خاصی سچی اور کھڑی اس لیے ظاہر ہے کہ کروی باتیں بھی کیں اور نجی محفلوں میں خاصی گہری باتیں بھی۔ ہم دوستوں نے وانی صاحب سے بھی کہا اور انجم صاحب سے بھی کہ آپ ادھر ہی رک جائیں اور تحقیق و تصنیف کا کام کریں ۔ وانی صاحب نے کہا کہ ایک بار تو انہوں نے ہر حال میں واپس جانا ہےکیونکہ انہوں نے اپنے کسی عزیز سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ واپس آنا ہے۔ اس کے بعد اگر موقع ملا واپس آنے کا تو پھر دیکھا جائے گا۔ یہ موقع ان کو گمنام قاتلوں نے نہ دیا۔ انجم صاحب نے کہا ریٹائرڈ منٹ کے بعد وہ یہاں آکر رہنا پسند کریں گے بشرطیکہ حالات نے آجازت دی۔ اور آج ان کو بھی اجازت ملنے کے سب امکانات ختم ہوگے۔ انجم صاحب خود اپنے شعور کے سفر اور شاعروشاعری کے حوالے سے کیا سوچتے تھے اس کا اظہار انہوں نے دورا برطانیہ کے دوران شاردہ انٹرنیشنل کی ایک تقریب میں کیا جس کا مکمل متن ان کے کلیات " قرض سُخن " میں موجود ہے ۔ وہ کہتے ہی : " شعر کہنا ہمارا پیشہ ہے نہ مشغلہ ۔ معصوموں کے لہو سے خدایانِ ذی حشم کی راتوں کو فروزاں ہوتے اور ممولوں کے نوالوں پر عقابوں کو جھپٹتے دیکھ کر ہمارا احساس جاگ اُٹھتا ہے ۔ دھڑکتے سینے میں درد سُلگنے لگتا ہے اور زندگی ایک خلش بن کر ڈسنے لگتی ہے۔ دل پر کربِ احساس کی یلغار ہوتی ہے اور لب پر شعر کی صورت میں دل کے جذبات کا اظہار"۔ سرمایہ اور محنت کے درمیان طبقاتی سماج جہاں انسانیت گہنائی ہوئی ہے اس سماج میں تبدیلی کے لیے قوم پرستی کے جذبات کی بیدار کو ضروری قرار دیتے ہوئے وی ایک ایسے سماج کے خواب دیکھتے ہیں جس کی منزل آزادی، امن ، مساوات اور محبت ہے اور ایسے ہی سماج میں انسانیت اپنی معراج کو پہنچ سکتی ہے۔ جبکہ کنگ و جدل ان کے خیال تخریب و تباہی کے سواء کچھ نہیں۔ اور اس سفر میں وہ خود کو تنہا نہیں سمجھتے بلکہ دنیا بھر میں استحصال اور غلامی کا شکار انسان اس راستے کے مسافر ہیں۔ طبقاتی سماج میں شاعر اور فنکار کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے گردوپیش کی زندگی سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ وہ غیر مشروط محبت، ، امن اور مساوات کا حامی اور فن کا دوست ہوتا ہے ۔ وہ ہر حال میں حقیقت بیان کرتا ہے اور اسکے لیے سب مشکلات و رکاوٹوں کا مقابلہ کرتا ہے ۔ ادب کےحوالے سے وہ کہتے ہیں: " زمان و مکاں کے پس منظر کے باوجود ادب کا ایک آفاقی پہلو ہے۔ نوع انسانی ایک تسبیح وحدت ہے۔ گلستان ارضی کے سب باسی گل ہائے رنگ رنگ کی طرح ہیں ۔ سورج کی کرنیں ، ہوائیں ، برکھائیں سب کے لیے بلا امتیاز گہرُ بار اور ضوفشاں ہیں۔ ادوار اور اقوام میں انسانوں کی تقسیم کے باوجود انسانیت کا بنیادی تصور سب میں مشترک ہے۔ " گذشتہ برس یعنی جنوری 2013 کو دادی صاحبہ کو دفنانے گاوں واپس گیا تو ایک دن میرپور میں کتابوں کی دوکان غالباً ارشد بُک ڈپو پر انجم صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ بڑے ادب سے سلام کیا۔ مگر جواب سے یوں لگا جیسے اُنہوں نے پہچانا ہی نہیں ۔ تھوڑی سی شرمندگی محسوس ہوئی مگر اتنے میں ان کی آواز آئی : ' کیا آج ادھر ہی ہیں " میں نے کہا جی ہاں ۔ " ادھر رحمان صاحب کے ہاں " انہوں نے پوچھا میں نے پھر کہا جی ہاں ۔ کہنے لگے میں شام سات بجے آوں گا ۔ اور سات بجے سے چند منٹ بعد میں چچو کے گھر کی طرف آ ہی رہا تھا کہ آنٹی کا فون آیا کہ نذیر انجم صاحب آئےہیں اور کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا تھا کہ میں سات بجے آوں گا ۔ انجم صاحب کی بہت سی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی یہ بھی تھی کہ وقت اور نظم و ضبط کے بہت پابند تھے ۔ قول فعل کے بھی بڑے پکے تھے ۔ میں چچو کےگھر پہنچا تو وہ ڈرائنگ روم میں تشریف فرما تھے ۔سلام کیا اور ہاتھ ملا کر کے ان کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہاں کافی باتیں ہوئیں اور ایک بڑا ہی دلچسپ قصہ اُنہوں نے سُنایا مہاراجہ ہری سنگھ کے زمانے اور اس کے حوالے سے لیکن اس کو یہاں شامل نہیں کروں گا کیونکہ وہ مزید تحقیق کا متقاضی ہے ۔ کوئی ایک گھنٹے کے بعد انہوں نے کہا اب مجھے جانا ہے آپ مجھے سڑک کے پار چھوڑ آئیں میں وہاں سے چلا جاوں گا ۔ میں نے کہ میں گھر تک چھوڑ آتا ہوں ۔ کہنے لگے نہیں آپ بس مجھے سڑک کے پار تک چھوڑ آئیں ۔ اور درحقیقت گھر سے باہر آ کر مُجھے پتہ چلا کی اُن کی نظر خاصی زیادہ کمزور ہ چکی ہے۔ میں نے ان کو میروپر تعلیمی بورڈ کے سامنے سے میرپور کی مرکزی سڑک پار کروائی اور ایک بار پھر اصرار کیا کہ میں گھر تک چھوڑ آتا ہوں مگر انہوں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا نہیں یہاں سے آگے میں خود جا سکتا ہوں ۔ آپ کا شکریہ۔ میں کچھ دیر وہاں کھڑا نذیر انجم کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا ۔ وہی انداز ۔ بچپن کے گاوں والا۔ ٹھہر ٹھہر کر ۔ اپنے آپ میں محو۔ جیسے کچھ معلوم نہیں کہ گرد و پیش کیا ہو رہا ہے۔ "اپنے ہر خواب سے میں ناخوش و بیزار ہوا . . . جب فسانہ لگی خود اپنی حقیقت مُجھ کو . . . نیک ناموں کی حقیقت جو سرِعام کھُلی . . . اپنی رسوائی سے ہونے لگی اُلفت مجھ کو . . . " برطانیہ کے دوروے کے دوران انہوں نے ایک شعر لکھا جس کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اپنے گاوں کے باہر کھیتوں کی پگڈنڈیوں پر پتلون اور شرٹ میں ملبوس یہ پتلا لمبا سا موٹے چشمے کی عینک والا لڑکا جو گرد و پیش سے بیگانہ نظر آتا تھا گرد و پیش کے اندر تک بہت اندر تک دیکھتا تھا مگر شاید ہم بچوں کو بھی اور بڑوں کو بھی اس کی نظر ، نظر نہیں آتی تھی۔ ( تحریر : شمس رحمان )