مقبول خبریں
بین الاقوامی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی کلی کھول دی ہے:سردار مسعود خان
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سے ملاقات
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
9ستمبر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے باہر بھرپور مظاہرہ کرینگے:راجہ نجابت حسین
سوچنے کے موسم میں سوچنا ضروری ہے!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ایم کیو ایم تشدد کا سہارا لیتی ہے:گارڈین
لندن ....برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ کے ایم کیو ایم کے سربراہ کو ملک میں مستقل رہائش اختیار کرنے اور لندن میں ان کی سرگرمیوں کو نظر انداز کی وجہ ایم کیو ایم کا وہ تعاون ہے جو وہ برطانوی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو مہیا کرتی ہے۔گارڈین نے دعویٰ کیا ہےکہ کراچی شاید دنیا کا وہ واحد شہر ہے جہاں امریکہ نے برطانیہ کو انٹیلیجنس کے حصول میں ’لیڈ رول‘ کی اجازت دے رکھی ہے۔معروف صحافی اون بینٹ جونز کے مطابق کراچی میں امریکہ کا قونصل خانہ اب ایکٹو انٹیلیجنس حاصل نہیں کرتا بلکہ یہ کام برطانیہ کے حوالے ہے۔ کراچی کی انٹیلیجنس کے حوالے سے برطانیہ کا سب سے بڑا اثاثہ ایم کیو ایم ہی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم کے تعاون کی وجہ سے برطانیہ کو کراچی کی انٹیلیجنس کا حصول کوئی مشکل نہیں۔ برطانیہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس ایسا شخص موجود ہے جس کی جماعت کے نمائندے پاکستان کی وفاقی کابینہ میں موجود ہوتے ہیں۔برطانوی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کا لندن میں قیام کسی برطانوی سازش کا حصہ نہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ یہ سازش نہیں بلکہ ایک پالیسی ہے۔رپورٹ کے مطابق ماضی میں پاکستان کی کئی حکومتوں نے انہیں پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن برطانیہ نے اس پر توجہ نہیں دی۔ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے ایک مرتبہ برطانوی حکومت سے کہا تھا کہ ان کو کیسا لگے گا کہ اگر کوئی شخص پاکستان میں بیٹھ کر برطانیہ میں لوگوں کو تشدد پر اکسائے۔ عمران خان کی جماعت تحریک انصاف ایم کیو ایم کی سب سے بڑی مخالف جماعت بن کر ابھری ہے۔ کراچی میں تحریک انصاف کی ایک اہم رہنما کے قتل کے بعد عمران خان کے حامیوں نے برطانوی پولیس کو بارہ ہزار شکایات درج کرائی ہیں جس کے بعد برطانوی پولیس نے لندن میں الطاف حسین کی سرگرمیوں کی تحقیقات شروع کی۔ لندن کی پولیس یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر کراچی میں لوگوں کو تشدد پر اکساتے ہیں۔ برطانوی پولیس کو ایک انتہائی بڑے مواد کی چھان بین کرنی ہے۔رپورٹ کے مطابق الطاف حسین کے لندن میں قیام کے دوران دو بار برطانوی عدالتیں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ ایم کیو ایم اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے تشدد کا سہارا لیتی ہے۔ ایم کیو ایم اتنی بولڈ سٹوری پر کس ردعمل کا مظاہرہ کرتی ہے یہ تو وقت ہی بتاے گا ..