مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مشکلات پر قابو پالیا،افراط زر دس فیصد سے بھی کم سطح پر آگئی،احسن اقبال
اسلام آباد...وفاقی وزیربرائے پلاننگ ڈویلپمنٹ و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نے گرتی ہوئی ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے سرکاری اخراجات اورسبسڈی میں کمی ، بدعنوانی پر قابو پا کر اور ٹیکس ریونیو میں اضافہ کے ذریعے فوری اقدامات کیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یہاں آسٹریلیا کے فرسٹ نائب سیکرٹری ، جنوبی و مغربی ایشیائی ڈویژن ، خارجہ امور ڈویژن مسٹر پال روبلرڈ سے ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پستی کا شکار معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے سرکاری اخراجات میں کٹوتی، سبسڈی میں کمی ، بدعنوانی پر قابو پا کر اور ٹیکس ریونیو میں اضافہ کے ذریعے فوری اقدامات کیے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مشکل حالات پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئی ہے اور افراط زر کم ہوکردس فیصد سے بھی کم کی سطح پر آگئی ہے۔ وفاقی وزیر نے مسٹرپال کو حکومت کے مستقبل کے منصوبوں سے متعلق بتایا کہ ہم نے ویژن 2025ء اور پانچ سالانہ منصوبہ کی شکل میں ایک روڈ میپ مرتب کیا ہے۔ ہماری ترقیاتی حکمت عملی سات ترجیحات پر مشتمل ہے جس میں انسانی و سماجی ترقی ، پائیداری ، برآمدات کا فروغ، ادارہ جاتی اور گورننس صلاحات، انرجی ،فوڈ ،واٹر سکیورٹی ، علاقائی رابطہ کاری کے لئے ڈھانچے کی ترقی ، نجی شعبہ کی ترقی اور زرعی اور صنعتی شعبوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لئے مسابقتی رجحان شامل ہیں۔وفاقی وزیر نے مسٹرپال کو آسٹریلوی حکومت کی جانب سے انسانی وسائل کی ترقی کے شعبہ میں امداد کو سراہا اور پاکستان کی ضروریات کی روشنی میں مزید امداد کی فراہمی کی تجویز پیش کی ۔ انہوں نے تجویز کیا کہ پانی، ڈیری اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ کیونکہ پاکستان ان شعبوں میں آسٹریلیا کے تجربات سے بڑی حد تک مستفید ہوسکتا ہے۔مسٹر پال نے وفاقی وزیر سے اس بات پر اتفاق کیا کہ اقتصادی اصلاحات بڑا مشکل ، تکلیف دہ اور طویل مدتی عمل ہے کیونکہ اس سے وقتی طور پرمشکلات پیش آتی ہیںلیکن آخر کار مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر سے اتفاق کیا کہ آسٹریلیا امداد کی فراہمی کے سلسلے میں متعلقہ ملک کے لئے سکالر شپ کے لئے تعاون کرے گا۔ وفاقی وزیر نے نشاندہی کی کہ فنانس، پلاننگ، زراعت، پانی و بجلی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارتوں کے لئے سکالرشپس کی اشد ضرورت ہے۔