مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وزیر اعظم پاکستان مغربی بینک کے دوسرے ممالک میں رقم بھیجنے کے نئے فیصلے کانوٹس لیں
لندن... پاکستان منی ٹرانسفر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بارکلے کی جانب سے پرائیوٹ منی ٹرانسمیٹرز کے ذریعہ پاکستان اور دنیا کے دوسرے ممالک میں رقم بھیجنے کی بینکنگ سہولت ختم کرنے کے فیصلے سے ہزاروں افراد کے بے روزگار ہونے اور پاکستان میں زر مبادلہ کا حجم کم ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔ یہاں ایک پریس کانفرنس میں ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحق ڈار سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک بڑے مغربی بینک کے فیصلے کی وجہ سے پاکستانی منی ٹرانسمیٹرز کو درپیش مشکل صورتحال کانوٹس لیں۔ انھوں نے کہا کہ برٹش پاکستانیوں کی زیر ملکیت 300 زیادہ رجسٹرڈ آتھرائیزڈ پیمنٹ ادارے صرف رقوم کی ترسیل کاکام کرتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کی پورے برطانیہ میں اوسطاً 5 برانچیں یا منظور شدہ ایجنٹ ہیں ۔جن کو فنانشیل کنڈکٹ اتھارٹی (ایف سی اے ) اور ایچ ایم ریونیو او ر کسٹمز ریگولیٹ کرتا ہے۔ اگر بارکلے کی جانب سے برطانیہ میں کام کرنے والے کم وبیش رقم کی منتقلی کا کام کرنے والے70 فیصد اداروں کو دی گئی بینکنگ کی سہولتیں واپس لینے کا فیصلہ واپس نہ لیاگیاتو رقم کی منتقلی کاکام کرنے والے ہزاروں ایجنٹس جن میں سے بیشتر کاتعلق نسلی اقلیتوں سے ہے بیروزگار ہوجائیں گے، اور پاکستان ، بنگلہ دیش اوربھارت سمیت متعدد ترقی پذیر ممالک کو برطانیہ سے بھیجی جانے والی رقوم میں نمایاں کمی ہوجائے گی۔پریس کانفرنس کے شرکا میں شمشاد علی، رضوان شاہ ،یاسر خان،ڈاکٹرفدا خان آفریدی، شاہ حسین ،راجہ عارف علی، کمیل حیدر،اور یوکے منی ایکسچینج ایسوسی ایشن کے صدر قیصر سید شامل تھے.. انھوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان سے پی آر آئی کے معاہدے کے تحت منی ٹرانسمیٹرز کو رولنگ کی بنیاد پر ریبیٹ ملتی ہے تاہم اب تک صرف جولائی تک کے بقایاجات ادا کئے گئے ہیں،بڑھتے ہوئے مقابلے کی وجہ سے ترسیل زر کاکاروبار کرنے والے بیشتر ادارے اس ریبیٹ کو ہی اپنا منافع تصور کرتے ہیں۔ جس کیلئے انھیں ایک سال انتظار کرنا ہوتا ہے۔ برطانیہ کے منی ٹرانسمیٹرز کی درخواست ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو اب تک کے بقایاجات اداکرنے کی ہدایت بھی کی جائے۔