مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
موت کا رقص
ہم دیکھتے ہی دیکھتے کتنے ترقی یافتہ ہوگئے کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے کام کرنے لگے، غربت تو ان ممالک میں بھی ہے مگر وہ اس غربت کا رونا رونے کی بجائے امیرانہ چونچلوں سے اس غربت کو کم کرنے کا کام لیتے ہیں، آسان لفظوں میں یوں کہیے غربت، آفت یا مصیبت میں بھی ہمت نہیں ہارتے اور میلوں ٹھیلوں سے کمائی کرکے اس مصیبت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سندھ میں بھی ایسا ہی ہوا ایک طرف ثقافت نے رقص کیا تو دوسری طرف موت نے !پہلا رقص تو بجٹ ختم ہونے پر ختم ہو گیا مگر تھر کے صحرا میں موت کا رقص جاری وساری ہے اور حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں ۔ایک طرف تھر میں ایک سو پینتس بچے مرے گیے تو دوسری طرف بھٹو اور زرداری خاندان کے بچے موہنجوداڑو میں رقص وسرود کی محفلیں برپا کرنے میں مصروف رہے۔جب تھر کے بچے ایک بوند پانی اور اناج کے چند دانوں کے لیے ترس رہے تھے تو پیپلزپارٹی کی بچہ قیادت کراچی میں ظہرانوں،میلوں اور موسیقی کے پروگرام میں لطف اندوز ہورہی تھی ۔یہ کیسی حکومت ہے جس کے پاس دو ہزاد آٹھ سے صوبہ سندھ کی بھاگ ڈور ہے لیکن اب تک چھ سات سال گزرنے کے باوجود یہ لوگ اپنے صوبے سے واقف نہیں اور وہاں کے لوگوں کے کیا مسایل ہیں ان کو اس سے کویی سروکار نہیں ۔ وزیر اعلی سندھ قایم علی شاہ نے تو سارا ملبہ پاکستانی میڈیا پر ہی گرادیا کہ تھر کا ایشو اتنا بڑا نہیں جتنا بنایا جارہا ہے اور میڈیا پیپلز پارٹی کو بد نام کررہا ہے لیکن حضور پھر تھر کے عوام فاقہ کشی سے کیوں مر رہے معصوم بچے دودھ کے لیے کیوں بلک رہے ہیں،مویشی کیوں مر رہے ہیں اور پورے تھر میں گنتی کے دو تین طبی مراکز ہیں جن میں عملہ اور ادویات ناپید ہیں ایسا کیوں ؟ یہ الزامات ہیں یا حقیقت شاہ جی یہ تو آپ بھی جانتے ہیں ہم بھی جانتے ہیں۔اتنا شور ہونے کے باوجود اب بھی تھر جانے والی امداد اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے اور تھر کے عوام سڑکوں پر در بدر کی ٹھوکریں کھا رہیے ہیں۔ ماییں تڑپ رہی ہیں باپ التجا کررہے ہیں کہ ان کے لیے نا سہی لیکن ان کے معصوم بچوں تو اناج کے چند دانے دے دیے جایں گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں پڑے پڑے سڑ گی لیکن کسی غریب کو نصیب نا ہویی۔تھر کول کا منصوبہ تو تمام ملک کا ہے لیکن تھر کا قحط صرف صوبایی معاملہ کیوں ؟ کیا نوازشریف، عمران خان،الطاف حسین ، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان اور شیخ رشید کو اس موقع پر تھر کی عوام کی مدد کے لیے آگے نہیں آنا چاہیے ۔پاکستان میں غریب صرف ووٹ مانگے کے لیے ہی کیوں یاد آتا ہے جب حکومت مل جاتی ہے تو پانچ سال غریب عوام کو کویی پوچھتا بھی نہیں۔میڈیا کی وجہ سے بلاول اور قایم علی شاہ تو پہنچ گیے لیکن اس حلقے کے منتخب رکن اسمبلی فقیر شیر محمد بیلانی اور پیر نورمحمد جیلانی نے اب تک تھر کا رخ بھی نہیں کیا۔اس وقت ضرورت ہے کہ تما م عالم ادارے فورا اس علاقے میں امداد پہنچایں اور پاکستانی مخیر عوام بھی اس کار خیر میں حصہ لیں کیونکہ حکومت سے تو امید ہی رکھنا بے بیکار ہے ۔سیاست دانوں نے تھر کے دوروں کا تو آغاز کردیا ہے لیکن ہوگا کچھ نہیں تھوڑی امداد تقسیم ہوں گی ، کچھ امداد کا اعلان ہوگا،کچھ جھوٹے وعدے ہوں گے،سبز باغ دیکھایے جایں گے،فوٹو سیشن ہوں گے ،اپنے اپنے لیڈروں کی تعریف اس کے بعد وہ ہی بھوک ہوگی افلاس ہوگی اموات ہوگی آہ افسوس صد افسوس !!