مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ڈی آئی خان سینٹرل جیل پر شدت پسندوں کے حملے کی ابتدائی رپورٹ جاری
پشاور...بم ڈسپوزل یونٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان جیل حملے کے بعد 30بموں اورایک خودکش جیکٹ کو ناکارہ کردیا۔بم ڈسپوزل یونٹ خیبر پختونخوا نے ڈی آئی خان سینٹرل جیل حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیرہ جیل حملے کے بعد سینٹرل جیل میں پڑے تین بم ناکارہ بنائے گئے۔ جن کا وزن تیس تیس کلو گرام تھا جبکہ 20،20 کلو کے دو بم ناکارہ بنائے گئے۔ جن میں تین ریموٹ کنٹرول اور دو ٹائم بم شامل ہیں۔ جیل کے مختلف مقامات سے بم ڈسپوزل یونٹ نے آدھا آدھا کلو کے 25 ٹائم بم بھی ناکارہ بنائے۔ جبکہ فورسز کی فائرنگ سے مارے جانے والے خودکش حملہ آور کی جیکٹ کوبھی ناکارہ بنادیا گیا۔ جیل سے 8 دستی بم اور 7 راکٹ بھی برآمد ہوئے۔ بم ڈسپوزل یونٹ ذرائع کے مطابق ڈی آئی خان سینٹرل جیل حملے میں دہشتگردوں نے 50 چھوٹے بڑے دھماکے کئے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی سینٹرل جیل پر شدت پسندوں نےپیر کی رات راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا ۔ ابتدائی حملے میں چار سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 11 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہو گئے۔جبکہ حملے کے دوران ڈھائی سو کے لگ بھگ قیدیوں کے فرار کی اطلاعات بھی ہیں وزیرستان ایجنسی سے متصل ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی سینٹرل جیل میں دیگر قیدیوں کے ہمراہ شدت پسند بھی قید ہیں۔ صوبے کے آئی جی جیل خانہ جات خالد عباس نےمیڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں تقریباً پانچ سو کے قریب قیدی ہیں جن میں کئی قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے شدت پسند بھی شامل ہیں۔ انہوں نےبتایا کہ یہ صوبے کی تیسری بڑی جیل ہے ۔جو عام قیدیوں کے لیے بنائی گئی تھی نہ کہ خطرناک قیدیوں کے لیے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کے مطابق شدت پسندوں کے حملے میں جیل کی بیرونی دیوار کو نقصان پہنچا ہے تاہم اندرونی دیوار محفوظ ہے اور شدت پسند جیل کے اندر داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال اپریل میں خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کی سینٹرل جیل پر طالبان نے حملہ کر کے تین سو چوراسی قیدیوں کو رہا کروا لیاتھا، فرار ہونے والے قیدیوں میں زیادہ تر طالبان شدت پسند تھے۔