مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
آکسفورڈ یونیورسٹی پاکستان سوسائیٹی کے زیر اہتمام تقریبات وائس چانسلر پروفیسر ڈیوڈ ہیملٹن کی شرکت
آکسفورڈ ...برطانیہ کے صف اول کے تعلیمی اداروں میں شامل آکسفورڈ یونیورسٹی کے پاکستانی طلبہ نے کچھ دنوں کیلئے ادارے میں اپنا ایسا رنگ جمایا کے ایک طرف ایشیا کپ کے میچوں کی جیت اور دوسری طرف پاکستان کے تقافتی رنگ ہر طرف وطن عزیز ہی چمکتا نظر آیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پاکستان سوسائیٹی کے زیر اہتمام ہفتہ تقریبات منایا گیا جس میں طلبہ و طالبات نے مل کر متعدد پروگراموں کا انعقاد کیا اور پاکستانی ثقافت و طرز معاشرت کو اجاگر کیا۔ ان تقریبات میں دیگر ممالک کے طلبہ کے علاوہ اساتزہ نے بھی بھرپور دلچسپی لی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈیوڈ ہیملٹن نے پاکستانی اسٹالز کا معائنہ بھی کیا اور کھانے کی مختلف اشیا سے لطف اندوز بھی ہوئے۔ اس دوران ایک مباحثے کا بھی اہتما کیا گیا جس کا موضوع تھا "طالبان کے خلاف فوجی آپریشن یا مذاکرات" ۔ مذاکرات کے حق میں دلائل دینے والی ٹیم میں علی جان اور محمد خرم شامل تھے جبکہ فوجی آپریشن کے حق میں عدنان رفیق، مہرالنساء اورحماد مصطفٰی نے دلائل دیئے۔ مذاکراتی ٹیم کے ممبران کا کہنا تھا کہ امن کی بحالی کے لئے مذاکرات کو موقع دینا چاہیئے۔ ماضی میں بھی فوجی آپریشن سے بڑا جانی و مالی نقصان ہوا ہے لیکن عسکریت پسندی کا خاتمہ نہیں کیا جاسکے۔ ہمیں مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے فوجی آپریشن کی وقتی کامیابی طویل عرصے تک قتل و غارت کو بنیاد فراہم کرے گی۔ پاکستان کی معاشی حالت ملک کے اندر ایک اور جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی بالخصوص جب عسکریت پسندی معاشرے کے اندر سراعیت کی جا چکی ہو اور دہشت گردوں اور عام لوگوں میں تمیز کرنا مشکل ہوچکا ہو۔ جبکہ طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کی حمایتی ٹیم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے ذمہ داروں نے نہ صرف ملک کو عدم استحکام کا شکار کردیا ہے بلکہ آئین پاکستان کے بھی باغی ہیں۔ طالبانائزیشن کو روکنے کے لئے نظریاتی اور عسکری دونوں محاذوں پر لڑنا ہوگا۔ دہشت گردوں کو آپریشن کے ذریعے کمزور کرکے ریاست کی رٹ کو نافذ کرنا ہوگا اس کے بعد مذاکرات کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے۔ ماضی میں بھی طالبان نے مذاکرات کے عمل کو عذر کے طور پر استعمال کیا اور اس کے دوران خود کو مزید مضبوط اور ریاست کے خلاف صف آراء کیا۔ مباحثہ میں شرکاء نے بھی سوالات اور تبصرے کئے جن کے مطابق ابتدائی طور پر فوجی آپریشن کے ذریعے طالبان کی طاقت کو توڑا جائے، فوجی آپریشن دیانتدارانہ ہونا چاہئے جس میں انسانی حقوق کی پامالی کے عنصر اور انتقامی خودکش حملوں کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہئے۔