مقبول خبریں
راچڈیل، ساہیوال جیسے شہروں کے رشتے کو مثالی بنایا جائیگا: ممبر پنجاب اسمبلی ندیم کامران
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مردم شماری میں کشمیریوں کی الگ شناخت کی تحریک پرآزادی پسندوں کا اظہار خوشی
مانچسٹر ... راچڈیل سے منتخب ہونے والے برطانوی ایم پی سائمن ڈانذک کی جانب سے مردم شماری میں کشمیریوں کو الگ شناخت دینے کے حوالے سے پیش کردہ تجویش کو برطانیہ میں آباد کشمیری کمیونٹی نے وسیع پیمانے پہر سراہا ہے۔ خود مختار نظرئے کی حامی جماعتوں کے علاوہ آزاد کشمیر کی سیاست میں پوری طرح سرگرم پارٹیوں کے رہنمائوں کا بھی اس تجویز کے بارے کہنا ہے کہ اس سے کشمیریوں کی شناخت واضع ہوگی۔ برطانیہ میں آباد جے کے ایل ایف، یوکے پی این پی اور جے کے این ایس ایف سے وابستہ افراد نے اس تجویز کا پرجوش خیر مقدم کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ کشمیریوں کی ایک الگ تاریخ ہے جسے کسی بھی طور مٹایا نہیں جا سکتا۔برطانیہ میں کشمیریوں کی الگ قومی پہچان کے لیے ایک طویل عرصہ سے کمپین جاری ہے, لارڈ قربان حسین کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو دہایاں قبل ایسی مہم کا آغاز کیا تھا کی مردم شماری میں لوگ اپنے شناخت بطور کشمیری ظاہر کریں لیکن بہت کم لوگوں نے اس پر عمل کیا تھا۔ واضع رہے کہ کشمیری اکثریتی علاقے راچڈیل سے منتخب ہونے والے برطانوی ایم پی سائمن ڈانذک نے گزشتہ روز ہاؤس آف کامنز میں ایک بحث کے دوران اس مسئلہ کواٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کو مردم شماری میں باقاعدہ ایک شناخت دی جائے اور الگ قوم تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں میں سے ایک چوتھائی 25فی صد تعداد کشمیری باشندوں کی ہے جو اس ملک میں ٹیکس دیتے ہیں اور برطانوی معیشت میں زبردست انداز میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مردم شماری میں کشمیریوں کی صحیح تعداد کا تعین نہیں کیا جاسکے اس لئے معلوم ہی نہیں ہے کہ برطانیہ میں کشمیریوں کی تعداد کتنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو الگ قوم کے طور پر تسلیم نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ برطانوی حکومت ان کو ان کی شناخت سے محروم کررہی ہے۔ ائمن ڈانذک ایم پی کا مزید کہنا تھا کہ ان کے حلقہ اور برطانیہ کے بڑی تعداد میں کشمیریوں کا یہ موقف ہے کہ ان کوپاکستانی یا بھارتی باشندے کے طور پر نہیں بلکہ کشمیری کے طور پر شناخت کیا جانا اچھا لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کشمیریوں کاحق ہے کہ ان کی شناخت کو تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کشمیریوں کو الگ شناخت دی گئی تو پاکستانی یا بھارتی حکومتوں کواس سے زیادہ خوشی نہیں ہوگی۔