مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان میں یکساں نظام تعلیم کی اشد ضرورت ہے یہ عمل پوری قوم کو یکجا کر سکتا ہے: بلیغ الرحمان
برمنگھم ... پاکستان جتنی مشکل صورتحال سے دوچار ہے ایسے میں اسے تکمیل شدہ اور زیر تکمیل منصوبہ جات میں عوامی تایئد کی اشد ضرورت ہے، قوم کو چاہیئے کہ محض ایک پارٹی کی حکومت جان کر بے جا تنقید سے گریز کیا جائے کیونکہ وطن عزیز کو ترقی اور خوشحالی کے ایسے مواقع بڑی مشکل سے حاصل ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا ظہار پاکستان کے وزیر مملکت بلیغ الرحمان نے پاکستان قونصلیٹ برمنگھم میں اپنے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب میں کیا۔ قونصلر جنرل شیر بہادر خان کی صدارت میں منعقدہ اس تقریب میں مسلم لیگ ن برطانیہ کے صدر زبیر گل کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ نظامت کے فرائض محمد فیصل ابڑو نےانجام دئیے۔ جبکہ اظہار خیال کرنے والوں میں نامزد لارڈ میئر کونسلر شفیق شاہ، ایجوکیشن اتاشی ضیاء الدین یوسف زئی، کونسلر چوہدری افضل خان، امیدوار یورپین پارلیمنٹ کونسلر عنصر علی خان، قائداعظم ٹرسٹ کے چیئرمین راجہ محمد اشتیاق ، راجہ قیوم، چوہدری عارف، چوہدری عبدالرشید اور دیگر شامل تھے ۔ وفاقی وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان چونکہ اسلامی دنیا میں واحد ایٹمی طاقت ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا بھی اپنے عروج پر ہے۔ ایک دوسرے کا مینڈیٹ تسلیم کرنے سے بھی آپس میں اتحاد و یکجہتی کی فضا اور احساس ذمہ داری پیدا ہوسکتا ہے۔ مینڈیٹ تسلیم کرنے کا عملی مظاہرہ وزیراعظم وزیراعظم نوازشریف نے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف، بلوچستان میں وہاں کی جماعتوں ، کشمیر اور سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ تسلیم کیا۔ بلیغ الرحمن نے مزید کہا کہ پاکستان کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو انرجی کرائسز، معیشت، بیروزگاری، دہشت گردی، مہنگائی جیسے بڑے مسائل منہ کھولے کھڑے تھے۔ کوئی ایک مسئلہ نہیں کہ اسے حل کرنے سے سب کچھ بہتر ہوگا۔ ہم نے فوراً سر جوڑ کر ایک مختصر وقت میں نیشنل سیکورٹی پالیسی تشکیل دی جس کے تین اہم حصے ہیں۔ تمام صوبوں کو اور پارلیمنٹ، سینیٹ کو اعتماد میں لیا۔ لاء اینڈ آرڈر کو یقینی بنانے کے لیے وزیراعظم اپنی کابینہ سمیت سندھ میں اجلاس کرکے آپریشن شروع کرکے کیا۔ وہاں کے چیف منسٹر سید قائم علی شاہ کو انچارج بنایا۔ وزیر داخلہ خود بریفنگ دیتے ہیں اور مانیٹرنگ بھی کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے چین کے ساتھ انتہائی مختصر وقت میں 23 بڑے معاہدوں پر دستخط کیے۔ انہوں نے واضح کہا کہ ہمیں ایڈ نہیں ٹریڈ چاہیے۔ انکا کہنا تھا کہ ہمیں یکساں نظام تعلیم کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یکساں تعلیمی نصاب ہی پوری قوم کو یکجا کرسکتا ہے۔ اس سے صوبوں میں کوآرڈینیشن ہوگی۔ تمام بچوں کے قومی ہیروز ایک جیسے ہوں گے۔ تمام صوبوں میں تعلیم کا معیار ایک جیسا ہوگا۔ زبیر گل نے کہا کہ ملک اور فوج کے مفاد میں جو بہتر ہے میاں نوازشریف وہ کررہے ہیں۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ہائی کمشنر پچھلی حکومت کا ہے، اگر پاکستان کے مفاد ان سے وابستہ ہیں تو ہم بھرپور تعاون کے لیے تیار ہیں۔راجہ اشتیاق نے کہا کہ اگر لگن اور محنت سے کام کیا جائے تو بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ پیر طیب الرحمن نے امت اور کمیونٹی کے اتفاق اور اتحاد کی دعا کروائی۔