مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
اوورسیز کمیونٹی کو آج تک کسی حکومتی ادارے سےکوئی ریلیف نہیں مل سکا : چوہدری جمیل تبسم
کیمبرلی ...آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے مرکزی نائب صدر اور سابق صدر پاکستان ویلفیئر ایسوسی ایشن سلاؤ (یو کے ) چوہدری جمیل احمد تبسم نے کہا ہے اوور سیز پاکستانیوں کی شکایات کے لیے مزید سیل قائم کرنے کی بجائے سابق سیلز کو فعال بنایا جائے اوورسیز کمیونٹی کو حکومت کی طرف سے آج تک کوئی ریلیف نہیں مل سکا۔ حال ہی میں چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے قائم شدہ سیل بہتر کردا ادا کر سکتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے چوہدری محمد ریاض کی طرف سے اپنے اعزاز میں منعقدہ ایک عشائیہ تقریب سے خطاب میں کیا ۔اس موقع پر برٹش اورپاکستانی کشمیری نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد میں موجود تھے انہوں نے کہا کہ بڑی خوش آئند بات ہے ہماری نوجوان نسل اپنے وطن عزیز پاکستان بڑی خوشی خوشی جاتے ہیں وطن کی مٹی کیساتھ اپنے رشتہ کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں وہاں اپنے مکانات اور سرمایہ کاری بھی کرنا چاہتے ہیں تا کہ لوگوں کو روزگار مل سکے ۔اربوں روپے کا زرمبادلہ بھیج کر ملکی معیشت کو مضبوط بنانے اور اپنے آبائی علاقہ کی تعمیر وترقی میں اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اتنی بڑی اہمیت کے حامل یہ لوگ اپنے وطن میں طرح طرح کے مسائل کا شکار ہیں انہیں ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے سول کورٹ سے سٹے آرڈر لکھو ا کر قبضہ گروپ انکی زمینیں اور جائیدادیں ہتھیا لیتے ہیں مقدمات متعلقہ محکموں کی بے حسی ،رشوت ستانی کچہریوں کے چکر لگانے زیادہ عرصہ وہاں نہ رہنے کی وجہ سے نئی زمینیوں جائیدادوں سے محروم ہو جاتے ہیں وہاں کوئی شنوائی نہیں ہوتی ۔لوگ جرائم پیشہ افراد سے اپنی جان بجا کر واپس آجاتے ہیں ان کو قانون سازی اور تحفظ چاہیے آئندہ آنے والی نسلیں ایسے واقعات سن کر اپنے باپ دادا کے آبائی ملک جانے کے لئے راغب نہیں ہوتے۔ چوہدری جمیل تبسم نے کہا کہ یہ پوری قوم کا نقصان ہے جو لوگ یہاں سے زرمبادلہ بھیجتے ہیں اور سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں فوری تحفظ دیا جائے اس سے قبل بھی فارن ڈیسک ، حق بات ڈیسک، اوورسیز ڈیسک اور مختلف این جی اوز کی طرف سے بھی اوورسیز فورم قائم ہوئے اور بھاری بھاری فیسیں بھی وصول کی جاتی رہیں مگر سمندر پار بسنے والے تارکین وطن کے مسائل حل نہ ہو سکے اور نہ ہی کبھی ان کی شکایات کا ازالہ ممکن ہو سکا اوورسیز کمیٹی کی سہولت کے لئے او پی ایف بھی بنائی گئی تھی مگر یہ ادارہ بھی سفید ہاتھی ثابت ہوا یہ غیر فعال ادارہ حکومت پر بھی خواہ مخواہ بوجھ بنا ہوا ہے اوورسیز کمیونٹی کو آج تک حکومت کی طرف سے کوئی ریلیف نہیں مل سکی۔