مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر دیڑھ ہزار سے زائد افراد کی سفری دستاویزات کا اجرا نہیں ہوا: عمر عبد اللہ
سری نگر ...مقبوضہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاست بھر میں دیڑھ ہزار سے زائد افراد کے پاسپورٹ اور سفری پرمٹ کی درخواستیں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر زیر التوا ہیں جن میں سے 523 کو بلیک لسٹ کیا جا چکا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کو کسی دوسری جگہ بسانے کا کوئی منصوبہ سرکار کے زیر غور نہیں ہی۔ اپوزیشن لیڈر محبوبہ مفتی کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں امور داخلہ کے انچارج وزیر ہونے کی حیثیت سے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے تحریری جواب میں یہ انکشاف کیا ہے کہ 3فروری 2014تک ریاست کے 19ہزار 528افراد کی پاسپورٹ اور ایل او سی پرمٹ سے متعلق درخواستیں زیر التواء پڑی تھیں ۔انہوں نے بتایا کہ جن افراد یا درخواست دھندگان کے حق میں پاسپورٹ اور ایل او سی پرمٹ اجراء نہیں کئے گئے ہیں ،ان کے بارے میں مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے کلیرنس نہیں دی گئی ہے جبکہ ایسے افراد کے حق میں پاسپورٹ یا خصوصی پرمٹ اجراء نہ کرنے کی دیگر کئی وجوہات بھی ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے محبوبہ مفتی کے دو نکات پر سوال کے جواب میں مزید بتایا کہ 2013میں 64586درخواستوں یا کیسوں میں سے 446افراد کے حق میں پاسپورٹ اجراء نہ کرنے کی سیکورٹی ایجنسیوں نے مختلف وجوہات کی بنیاد پر سفارش نہیں کی جبکہ 2013میں ہی جن 1400افراد نے کراس ایل او سی پرمٹ حاصل کرنے کیلئے اپنی درخواستیں پاسپورٹ آفس میں جمع کرائی تھیں ،ان میں سے بھی7کے حق میں سیکورٹی ایجنسیوں نے مثبت سفارش نہیں کی ۔عمر عبداللہ نے تاہم اپنے تحریری جواب میں واضح کیا کہ جن افراد کے حق میں پاسپورٹ یا کراس ایل او سی پاسپورٹ اجراء نہ کرنے سے متعلق سیکورٹی ایجنسیوں نے سفارش کی یا رپورٹ فراہم کر دی ،ان کے نام سیکورٹی وجوہات کی بناء پر ظاہر نہیں کئے جا سکتے ۔