مقبول خبریں
ایسٹرن پویلین ہال اولڈہم میں آزادکشمیر میں قائم اسلام ویلفیئر ٹرسٹ کے سالانہ چیرٹی ڈنر کا انعقاد
مسئلہ کشمیر بارےیورپی پارلیمنٹ انتخابات پر برطانیہ و یورپ میں بھرپور لابی مہم چلائینگے،راجہ نجابت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
سرچ آپریشن
پکچرگیلری
Advertisement
سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر دیڑھ ہزار سے زائد افراد کی سفری دستاویزات کا اجرا نہیں ہوا: عمر عبد اللہ
سری نگر ...مقبوضہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاست بھر میں دیڑھ ہزار سے زائد افراد کے پاسپورٹ اور سفری پرمٹ کی درخواستیں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر زیر التوا ہیں جن میں سے 523 کو بلیک لسٹ کیا جا چکا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کو کسی دوسری جگہ بسانے کا کوئی منصوبہ سرکار کے زیر غور نہیں ہی۔ اپوزیشن لیڈر محبوبہ مفتی کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں امور داخلہ کے انچارج وزیر ہونے کی حیثیت سے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے تحریری جواب میں یہ انکشاف کیا ہے کہ 3فروری 2014تک ریاست کے 19ہزار 528افراد کی پاسپورٹ اور ایل او سی پرمٹ سے متعلق درخواستیں زیر التواء پڑی تھیں ۔انہوں نے بتایا کہ جن افراد یا درخواست دھندگان کے حق میں پاسپورٹ اور ایل او سی پرمٹ اجراء نہیں کئے گئے ہیں ،ان کے بارے میں مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے کلیرنس نہیں دی گئی ہے جبکہ ایسے افراد کے حق میں پاسپورٹ یا خصوصی پرمٹ اجراء نہ کرنے کی دیگر کئی وجوہات بھی ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے محبوبہ مفتی کے دو نکات پر سوال کے جواب میں مزید بتایا کہ 2013میں 64586درخواستوں یا کیسوں میں سے 446افراد کے حق میں پاسپورٹ اجراء نہ کرنے کی سیکورٹی ایجنسیوں نے مختلف وجوہات کی بنیاد پر سفارش نہیں کی جبکہ 2013میں ہی جن 1400افراد نے کراس ایل او سی پرمٹ حاصل کرنے کیلئے اپنی درخواستیں پاسپورٹ آفس میں جمع کرائی تھیں ،ان میں سے بھی7کے حق میں سیکورٹی ایجنسیوں نے مثبت سفارش نہیں کی ۔عمر عبداللہ نے تاہم اپنے تحریری جواب میں واضح کیا کہ جن افراد کے حق میں پاسپورٹ یا کراس ایل او سی پاسپورٹ اجراء نہ کرنے سے متعلق سیکورٹی ایجنسیوں نے سفارش کی یا رپورٹ فراہم کر دی ،ان کے نام سیکورٹی وجوہات کی بناء پر ظاہر نہیں کئے جا سکتے ۔