مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مقبول بٹ شہید کشمیر کی تاریخ کا درخشندہ ستارہ،مشن کو جاری رکھیں گے: تعزیتی ریفرنس
ناٹنگھم ... مقبول بٹ شہید کے یوم شہادت کی مناسبت سے برطانیہ کے تمام شہروں میں مختلف تقریبات اور جلسوں کا سلسلہ جاری ہے ۔جموں کشمیر لبریشن فرنٹ برطانیہ کی ناٹنگھم برانچ کے زیر اہتمام ایک جلسہ عام منعقد ہوا جسکی صدارت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے صدر پروفیسر عظمت خان نے کی،مقبول بٹ شہید کے فرزند شوکت مقبول بٹ مہمان خصوصی تھے جبکہ اسٹیج کے فرائض ناٹنگھم برانچ کے صدر جاوید چوہدری نے انجام دئیے۔پروفیسر عظمت کان نے اپنے خطاب میں مقبول بٹ شہید کو شنادار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقبول بٹ کشمیر کی تاریخ کے ایک ایسے درخشندہ ستارہ ہیں جو رہتی دنیا تک جگمگاتا رہیگا۔مقبول بٹ نے قوم کو ایک سوچ اور ایک فکر دی ۔اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے روپ میں مقبول بٹ کا کارواں آزادی اپنی منزل کی جانب بڑھتے ہوئے قربانیوں کی نئی نئی داستانیں رقم کرتا جا رہا ہے اور یہ قربانیاں کشمیری قوم کو انکی حتمی منزل سے قریب تر کرتی جا رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ کشمیر کی غاصب اور قابض یا جان لیں کہ اگر ایک جانب انڈیا کی فوج کو پسپا ہونے پر مجبور کیا جا سکتا ہے تو دوسری جانب بھی ایسا کرنا کوئی مشکل کام نہیں ۔انھوں نے کہا کہ جے کے ایل ایف نے بندوق کا راستہ چھوڑ کر ساؤتھ ایشیا میں امن کے قیام کے لیے سیاست اور سفارت کا راستہ اپنایا مگر کوئی اس وہم و گمان میں نا رہے کہ پرانا طریق کار بالکل ختم ہو چکا ہے اگر بھارت اور پاکستان نے کشمیریے قوم کی خواہشات کو تسلیم کرنے میں زیادہ دیر کی تو ھالات ایک مرتبہ پھر ہمیں اسی کی دہائی میں لے جا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کشمیری امن پسند قوم ہیں مگر امن انصاف اور آزادی کے ساتھ ہونا چاہیے باہر سے ٹھونسے گئے کسی بھی حل کو کشمیری قوم کبھی بھی قبول نہیں کرینگے اور پاکستان انڈیا کے درمیان ہونے والے کسی بھی معاہدہ کے ہم پابند نہیں اور نا ہی مانتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مقبول بٹ شہید نے اپنے خون جو جو شمع روشن کی تھی اس کی روشنی بڑھتی ہی جا رہی ہے اور اسی روشنی میں چلتے ہوئے کشمیری قوم اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے ریموٹ کنٹرول نام نہاد حکمران عوام کا خون چوس رہے ہیں۔ایسے مجاوروں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایک آزاد منش قوم کے ایک حصے پر حکمرانی کریں اور عوام کے مسائل اور وطن کی آزادی کو بھول کر صرف اپنی عیاشی میں لگے رہیں۔انھوں نے کہا کہ ایسے ڈاکو نما حکمرانوں سے عوام کا چھٹکارہ لازم ہو چکا ہے اور جلد ہی نام نہاد آزاد کشمیر کے عوام کو ان ڈاکوؤں سے چھٹکارہ ملنے والا ہے۔مہام خصوصی شوکت مقبول بٹ نے کہا کہ مقبول بٹ دینا کے چند اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں جن میں چیگوارا، احمد مختار جیسے لوگ شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ مقبول بٹ کے قوم کے مطابق کشمیری قوم کو اپنے دوست اور دشمن کی پہچان کرنا ہو گی چونکہ ایک کھلے دشمن کی نسب ایک دوست نما دوشمن زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔شوکت مقبول بٹ جب اسٹیج پر تشریف لائے تو ہال میں موجود لوگوں نے کشمیر وطن ہمارا ہے اس کی حفاظت ہم کرینگے اسکی آزادی کی جنگ ہم لڑیں گے کے فلک شگاف نعروں سے انکا استقبال کیا۔ جے کے ایل ایف کے سفارتی شعبہ کے سربراہ پروفیسر ظفر خان نے مقبول بٹ کی شہادت کا کشمیری قوم کی آزادی پر اثر کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبول بٹ کی سوچ اب کسی فرد گروہ یاسیاسی پارٹی کی سوچ نہیں رہی بلکہ سچے حقائق پر مبنی یہ سوچ اب کشمیریوں کی قومی سوچ بن چکی ہے جسے مٹایا نہیں جا سکتا۔انھوں نے کہا کہ مقبول بٹ نے اپنی جان کی قربانی دیکر کشمیری قوم کے لیے ایک راستے کا انتخاب کیا اور پھر منزل کی نشاندھی کی یہ مقبول بٹ ہی کی شہادت کا نتیجہ ہے کہ آج کشمیر بابانگ دہل انڈیا اور پاکستان سے اپنی قومی آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں ،انھوں نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان مانیں یا نا مانیں،آزادی کشمیریوں کا مقدر بن چکی ہے اور اب انڈیا اور پاکستان کشمیری قوم کو زیادہ دیر تک غلام نہیں رکھ سکتے۔جلسہ عام سے جے کے ایل ایف کے چیف آرگنائزر صابر گل، لوٹن برانچ کے صدر کمان افسر، سلاؤ سے ملک مشتاق، لیڈز برانچ کے صدر ابرار نثار، خواجہ کبیر احمد،راجہ علی اصغر، نیشنل عوامی پارٹی کے ڈاکٹر آفتاب،نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کامریڈ عرفان یعقوب،اسحاق کشمیری،جاوید چوہدری،پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے کو آرڈینیٹر جاوید اختر، مسلم کانفرنس ناٹنگھم کے صدر چوہدری محمد یونس،کونسلر علی عدالت،کالم نگار چوہدری مقصود، اور دیگر نے بھی خطاب کیا اور مقبول بٹ شہید کے زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مکمل خود مختار کشمیر کے حصول تک اپنی جدوجدہ جاری رکھنے کا عزم کیا۔ان مقررین نے کہا کہ آزاد کشمیر کے حکمران مجاوروں کا ٹولہ ہیں قوم انھیں جلد ہی مسترد کرنے والی ہے اور کشمیر کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کا یوم حساب اب قریب ہیں۔جلسہ عام میں مبقول بٹ شہید کے والدہ محترمہ پر بنائی جانے والی ایک ڈاکمنٹڑی کے ٹرائل بھی دکھائے گئے جو ابھی مکمل نہیں ہوئی ٹرائل دیکھتے ہوئے حاضرین آپدیدہ ہو گئے جلسہ عام میں مختلف قراردوں کے زریعے انڈیا سے مقبول بٹ شہید اور افضل گرو شہید کے جلس خاکی انکے ورثاء کے حوالے کرے کا مطالبہ کیا گیا جبکہ بھارت اور پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قابض افواج کو کشمیر سے فوری نکالیں،ایک قرارداد کے زریعے گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنائے جانے کی سازشوں کو مسترد کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو کشمیر کا قانونی ، اور جغرافیائی حصہ قرار دیا گیا،جبکہ معاہدہ شملہ معاہدہ تاشقند اور دیگر تمام ایسے معاہدات کو جو انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر پر ہوئے جن میں کشمیری شامل نہیں مکمل طور پر مسترد کیا گیا۔حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ کشمیر کونسل کو فلفور ختم کیا جائے۔ (رپورٹ و تصاویر:خواجہ کبیر احمد)