مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
عید سے ایک روز قبل تین بچوں کے باپ کو قتل کرنے والے قصاب کو عمر قید کی سزا
شفیلڈ ...گذشتہ سال عید الاضحی سے ایک روز قبل اپنے آجر کو وحشیانہ طور پر قتل کرکے پورے برطانیہ میں سراسیمگی پھیلانت والے قاتل کو عمر قید کی سزا سنا ئی گئی ہے۔ مجرم نعیم نے ابتدا میں اس بات کو ماننے سے انکار کیا تھا کہ اس نے یہ بہیمانہ قتل کیا ہے لیکن پھر اچانک اس نے اقرار کیا کہ یہ جرم اسی سے سرزد ہوا جس پر جج نے اسے عمر قید کی سزا سناتے ہوئے حکم دیا کہ اسے کم از کم 27 برس قید میں لازمی گزارنے ہوں گے ۔ پراسیکیوشن کی جانب سے پیٹر مولسن کیو سی نے مقدمہ کی کاروائی پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ واقع کی اطلاع ملنے پر پولیس جب رادھرم کے علاقہ ایسٹ وڈ میں واقع بسم اللہ فوڈ سٹور پہنچی تو انہوں نے سٹور کے واک ان فریزر میں ایک شخص کو خون میں لت پت مردہ پایا اور ایک بڑا چھرا بدستور اس کے جسم میں پیوست تھا جب کہ ایک دوسرا شخص بھی شدید زخمی حالت میں وہاں فرش پر گرا ہوا تھا ۔ ان دونوں میں سے پہلے شخص کی شناخت پرویز اقبال کے طور پر کی گئی جو بسم اللہ گروسر سٹور کا مالک تھا جبکہ دوسرے شخص کی شناخت سعید حسین کے نام سے کی گئی جو اسی سٹور میں مجرم نعیم محمود کے ساتھ گوشت کاٹنے پر مامور تھا ۔ انہوں نے کہا کہ طبی معائنہ سے پتہ چلا کہ مجرم نے پرویز اقبال پر پے درپے 51 وار کئے جبکہ سعید حسین جب پرویز اقبال کو بچانے کی خاطر آگے بڑھا تو مجرم نے اس کے پیٹ میں بھی چھرا گھونپ دیا جس سے وہ بھی بری طرح زخمی ہو گیا ۔ پولیس کے موقع واردات پر پہنچنے سے قبل ہی مجرم وہاں سے وسط شہر کی جانب روانہ ہو چکا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق وہ ہاتھ میں ایک بڑا چھرا پکڑے اسے ہوا میں لہرائے جا رہا تھا اور مختلف جگہوں پر اس نے کئی گاڑیوں اور دکانوں کے شیشوں کو بھی نقصان پہنچایا ۔ مقتول پرویز اقبال تین بچوں کا باپ اور انتہائی شریف انسان تھا، وہ علاقے میں اپنے اخلاق اور کردار کی وجہ سے ہر دلعزیز شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔