مقبول خبریں
کشمیر سالیڈیرٹی کیلئے یکم فروری سے 11فروری تک تقریبات منعقد کرائی جائیں گی
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جنگ حکومت نے شروع کی سیز فائر کے اعلان میں بھی پہل اسی کو کرنا ہو گی،طالبان ترجمان
میران شاہ/اسلام آباد...کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے واضح کیا ہے کہ جنگ حکومت نے شروع کی سیز فائر کے اعلان میں پہل حکومت کو کرنا ہو گی،جعلی پولیس مقابلوں میں ہمارے ساتھیوں کو مارنے کا سلسلہ بند کیا جائے،حکومت مذاکرات کے ذریعے اس آئین کو منوانا چاہتی ہے جس کا ایک جزو بھی اسلامی نہیں ہے،قرآن اور حدیث کی روشنی میں نئے آئین کا قیام چاہتے ہیں،کوئی مانے یا نہ مانے قرآن و حدیث مکمل آئین ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے طالبان کی سیاسی شوری کے رکن اعظم طارق سے ملاقات کے بعد نامعلوم مقام سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ حکومت نے شروع کی، جنگ بندی میں بھی حکومت کو پہل کرنی چاہیے ہم صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں، جعلی پولیس مقابلوں میں ہمارے ساتھیوں کو مارے جانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے۔انھوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے لئے پہلے بھی سنجیدہ تھے اور اب بھی سنجیدگی سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومتی کمیٹی ہماری نامزد کردہ کمیٹی سے ملاقات کرنے سے مسلسل انکار کر رہی ہے، ہم مذاکرات کے ذریعے سے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کا ایک بھی جزو بھی اسلامی نہیں، حکومت مذاکرات کے ذریعے ہم سے آئین کو منوانا چاہتی ہے، کوئی مانے یا نا مانے قرآن و سنت ہی مکمل آئین ہے۔ہم قرآن اور حدیث کی روشنی میں نیا آئین قائم کرینگے ۔واضح رہے کہ حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے مابین شروع ہونے والے امن مذاکرات طالبان کی جانب سے کراچی اور پشاور سمیت ملک کے مختلف حصوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں۔