مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جنگ حکومت نے شروع کی سیز فائر کے اعلان میں بھی پہل اسی کو کرنا ہو گی،طالبان ترجمان
میران شاہ/اسلام آباد...کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے واضح کیا ہے کہ جنگ حکومت نے شروع کی سیز فائر کے اعلان میں پہل حکومت کو کرنا ہو گی،جعلی پولیس مقابلوں میں ہمارے ساتھیوں کو مارنے کا سلسلہ بند کیا جائے،حکومت مذاکرات کے ذریعے اس آئین کو منوانا چاہتی ہے جس کا ایک جزو بھی اسلامی نہیں ہے،قرآن اور حدیث کی روشنی میں نئے آئین کا قیام چاہتے ہیں،کوئی مانے یا نہ مانے قرآن و حدیث مکمل آئین ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے طالبان کی سیاسی شوری کے رکن اعظم طارق سے ملاقات کے بعد نامعلوم مقام سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ حکومت نے شروع کی، جنگ بندی میں بھی حکومت کو پہل کرنی چاہیے ہم صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں، جعلی پولیس مقابلوں میں ہمارے ساتھیوں کو مارے جانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے۔انھوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے لئے پہلے بھی سنجیدہ تھے اور اب بھی سنجیدگی سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومتی کمیٹی ہماری نامزد کردہ کمیٹی سے ملاقات کرنے سے مسلسل انکار کر رہی ہے، ہم مذاکرات کے ذریعے سے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کا ایک بھی جزو بھی اسلامی نہیں، حکومت مذاکرات کے ذریعے ہم سے آئین کو منوانا چاہتی ہے، کوئی مانے یا نا مانے قرآن و سنت ہی مکمل آئین ہے۔ہم قرآن اور حدیث کی روشنی میں نیا آئین قائم کرینگے ۔واضح رہے کہ حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے مابین شروع ہونے والے امن مذاکرات طالبان کی جانب سے کراچی اور پشاور سمیت ملک کے مختلف حصوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں۔