مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
جنگ حکومت نے شروع کی سیز فائر کے اعلان میں بھی پہل اسی کو کرنا ہو گی،طالبان ترجمان
میران شاہ/اسلام آباد...کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے واضح کیا ہے کہ جنگ حکومت نے شروع کی سیز فائر کے اعلان میں پہل حکومت کو کرنا ہو گی،جعلی پولیس مقابلوں میں ہمارے ساتھیوں کو مارنے کا سلسلہ بند کیا جائے،حکومت مذاکرات کے ذریعے اس آئین کو منوانا چاہتی ہے جس کا ایک جزو بھی اسلامی نہیں ہے،قرآن اور حدیث کی روشنی میں نئے آئین کا قیام چاہتے ہیں،کوئی مانے یا نہ مانے قرآن و حدیث مکمل آئین ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے طالبان کی سیاسی شوری کے رکن اعظم طارق سے ملاقات کے بعد نامعلوم مقام سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ حکومت نے شروع کی، جنگ بندی میں بھی حکومت کو پہل کرنی چاہیے ہم صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں، جعلی پولیس مقابلوں میں ہمارے ساتھیوں کو مارے جانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے۔انھوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے لئے پہلے بھی سنجیدہ تھے اور اب بھی سنجیدگی سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومتی کمیٹی ہماری نامزد کردہ کمیٹی سے ملاقات کرنے سے مسلسل انکار کر رہی ہے، ہم مذاکرات کے ذریعے سے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کا ایک بھی جزو بھی اسلامی نہیں، حکومت مذاکرات کے ذریعے ہم سے آئین کو منوانا چاہتی ہے، کوئی مانے یا نا مانے قرآن و سنت ہی مکمل آئین ہے۔ہم قرآن اور حدیث کی روشنی میں نیا آئین قائم کرینگے ۔واضح رہے کہ حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے مابین شروع ہونے والے امن مذاکرات طالبان کی جانب سے کراچی اور پشاور سمیت ملک کے مختلف حصوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں۔