مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ایسا خود مختار کشمیر چاہتے ہیں جو پاکستان بھارت کے درمیان دوستی کا پل بن سکے: نیپ سیمینار
لوٹن ... خود مختار کشمیر کا قیام ہم پاکستان اور بھارت سے نفرت کی بنیاد پر نہیں چاہتے بلکہ ہم طبقاتی و استحصالی نظام سے پاک ایک ایسا خوشحال کشمیر چاہتے ہیں جو دو ممالک پاکستان بھارت کے درمیان حقیقی معنوں میں امن دوستی اور پیار کے پل کا کردار ادا کرسکے ان خیالات کا اظہار شہید حریت پسند رہنما مقبول بٹ کے صاحبزادے شوکت مقبول بٹ نے ڈالو کمیونٹی سنٹر میں منعقدہ ایک تاریخ سازسیمینار سے کیا جس کا اہتمام جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی نے کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری اپنی تحریک کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالیں اپنی سوچوں میں وسعت پیدا کریں۔ آزادی ایک بڑی نعمت ہے ایسی نعمت کے حصول کیلئے بڑی بڑی قربانیاں ہمت حوصلے اور جزبے سے دینی پڑتی ہیں۔ لارڈ قربان حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبول بٹ نے کشمیریوں کے لئے عظیم قربانی دی ہے۔ کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر پر مزید دوست بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی کشمیر پالیسی سے چاہے کوئی کتنا اختلاف کیوں نہ کرے یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں صرف پاکستان ہی واحد ملک ہے جو کشمیریوں کا حقیقی اور سچا دوست ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ پاکستان بھارت دونوں کو ایک ہی ترازو میں تولتے ہیں وہ غور کریں کہ آخر مقبول بٹ نے گوریلا جنگ کے لئے بھارت کا انتخاب کیوں کیا تھا؟ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری برطانیہ پر زور دیں کہ وہ سکاٹ لینڈ کی طرز پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ملک صادق سبحانی نے کہا کہ آج ہم آپ کے سامنے ایک متحدہ نیپ کو پیش کررہے ہیں۔ ہم اتحاد کی جانب آگے بڑھیں گے اور نیپ برطانوی کشمیریوں میں تحریک آزادی کی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کے لئے فیملی ایونٹس کا اہتمام کرے گی تاکہ کشمیری خواتین اور بچے بھی جدوجہد آزادی کشمیر کا تاریخی حصہ بن سکیں۔ غفار انقلابی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ ان کی پر امن جدوجہد کو ریاستی دہشت گردی اور جبر و تشدد سے دبایا جا رہا ہے۔ آصف مسعود چوہدری جنہوں نے نو منتخب عہدیداروں سے حلف وفاداری بھی لیا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیپ کشمیر کی قومی آزادی کے حصول کے لئے تمام قوم پرستوں کو ساتھ لے کر چلے گی۔ 2/3 دن کے لئے ورکشاپس رکھیں گے اور سال بھر کا لائحہ عمل طے ہوگا۔ خود احتسابی کریں گے اور ذاتیات کے خول سے باہر نکل کر کشمیریوں پر زور دیں گے کہ قومی آزادی کی تحریک کو آگے بڑھایا جائے۔ڈاکٹر آفتاب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے کشمیر کی بنیاد چاہتے ہیں جو طبقاتی نظام سے پاک ہو۔ یہی شہید کشمیر کی سوچ تھی۔ بم بھوک، افلاس سے آزادی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی آزادی کی تحریک کو معاشیات سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ شمس الرحمن نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر تاریخ کے اس مرحلے پر ہے کہ تمام خودمختار کشمیر کے لوگوں کو ایک سیاسی جماعت بنانے کی ضرورت ہے ۔ کشمیر پر سب جماعتوں کو ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا۔ سیمینار سے سید تحسین گیلانی، پروفیسر نذیر نازش، فیصل قریشی، پی پی کے رہنما علی اختر القادر سمیت متعدد رہنمائوں نے خطاب کیا۔ دوران تقریب نئے عہدیداران کا بھی چنائو کیا گیا جس کے مطابق صدر صادق سبحانی، نائب صدر اول سردار مشتاق، نائب صدر دوم شفیق انقلابی، آرگنائزر امجد شریف، جنرل سیکرٹری کے لیے آزاد راجہ، ڈپٹی سیکریٹری جنرل واجد ایوب، جائنٹ سیکریٹری ظہیر غوری، پبلسٹی سیکریٹری کے لیے خواجہ زاہد لون، فنانس سیکریٹری کے لیے اعجاز پیر اور چیئرمین فنانس بورڈ کے لیے سردار الطاف کو ذمہ داری دی گئی۔