مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
عسکری قیادت سے طویل مشاورت کے بعد حکومت نے امن کو ایک اور موقع دیا، چوہدری نثار
اسلام آباد ... وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے دو روز قبل شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ کر دیا تھا اور وزیراعظم کی تقریر بھی تیار تھی لیکن تمام تحفظات کے باوجود عسکری قیادت سے طویل مشاورت کے بعد حکومت نے امن کو ایک اور موقع دیا ،حکومت طالبان مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ، مذاکراتی عمل اس وقت ہی آگے بڑھ سکے گا جب آگ اور خون کی ہولی روکی جائے گی ،ریاست طالبان سے مذاکرات سمیت دیگر آپشن استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، دہشت گردوں کے حملے کی صورت میں سیکیورٹی فورسز کو دفاع کا مکمل اختیار دیدیا گیا ، اور اب بھی سمجھتا ہوں کہ تعطل کا شکار مذاکراتی عمل دوبارہ ٹریک پر آ جائے گا، اسلام آباد کو انتہائی خطرناک شہر قرار دینے سے متعلق رپورٹ درست نہیں،اسلام آباد محفوظ شہر ہے پورے ملک کو محفوظ بنائیں گے،ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ، سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان کسی بھی موقع پر اختلاف سامنے نہیں آیا۔ سابق آرمی چیف کا تجزیہ تھا کہ آپریشن کے بعد 40 فیصد فوری کامیابی کا امکان ہے، ہمارے اوپر عوام کے خون کے پریشر کے سوا کوئی دباؤ نہیں، عمران فاروق قتل کیس کی قانونی معاونت کے لئے بر طانیہ نے درخواست کی ہے ، قانونی و سیاسی مشاورت کے بعد برطانیہ کو جواب دیا جائے گا ، جمعرات کی شام پنجاب ہاوس میں وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمن اور پارلیمانی سیکرٹری برائے داخلہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ اب بھی حکومت مذاکرات کے ذریعے ملک میں امن لانے کی خواہشمند ہے، حکومت کی جانب سے امن کمیٹی اب بھی کمیٹی قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کمیٹی کے ارکان کے پاکستانی ہونے پر کوئی شک نہیں ہے، وہ بھی ملک میں امن قائم کرنے کے خواہشمند ہیں۔ چودھری نثارنے کہ سابق آرمی چیف کا تجزیہ تھا کہ آپریشن کے بعد فیصد فیصد فوری کامیابی کا امکان ہے، وزیرداخلہ نے واضح کیا کہ ہمارے اوپر عوام کے خون کے پریشر کے سوا کوئی دباؤ نہیں، انہوں نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کو دفاع کا مکمل اختیار دیدیا گیا ہے، سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان کسی بھی موقع پر اختلاف سامنے نہیں آیا۔چوہدری نثارنے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کو دفاع کا مکمل اختیار دیدیا گیا ہے۔سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان کسی بھی موقع پر اختلاف سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ ہو چکا تھا، وزیراعظم کی تقریر بھی تیار تھی لیکن تمام تحفظات کے باوجود حکومت نے امن کو ایک اور موقع دیا۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ اب بھی حکومت مذاکرات کے ذریعے ملک میں امن لانے کی خواہشمند ہے، حکومت کی جانب سے امن کمیٹی اب بھی کمیٹی قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کمیٹی کے ارکان کے پاکستانی ہونے پر کوئی شک نہیں ہے، وہ بھی ملک میں امن قائم کرنے کے خواہشمند ہیں۔ چودھری نثار نے کہا کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی قانونی معاونت کے لئے برطانیہ نے خط لکھا تھا جسے کچھ دنوں کے بعد واپس لے لیا تھا اور چند ہفتے قبل ایک اور خط لکھا ہے جس میں قانونی معاونت کی درخواست کی گئی ہے ، برطانوی خط پر قانونی اور سیاسی مشاورت جاری ہے ،مشاورت مکمل ہونے کے بعد برطانوی حکومت کو جواب دیا جائے گا اور قوم کو بھی اس سے آگا ہ کیا جائے گا ، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سمیت ملک کو درپیش سیکیورٹی خطرات سے متعلق وزارت داخلہ کی رپورٹ ٹیکنیکل تھی جسے سمجھایا نہیں جا سکا، اسلام آباد ایک محفوظ شہر ہے اس کے گرد و نواح میں جن تین دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کا کہا گیا ہے ان میں سے دو گروپ یہاں موجود ہی نہیں ، اسلام آباد کے گرد و نواح میں کسی بڑی صلاحیت کا حامل کوئی گروپ نہیں تاہم اس کے باجود مکمل چھان بین کی جا رہی ہے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان لے جا کر ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کا معاملہ افغانستان ، ایساف اور نیٹو کے ساتھ اٹھایا جائے گا ، حکومتی موقف اٹل ہے کہ دھماکے اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے دھمکی سے متعلق وضاحت کی ہے ، ایران اور پاکستان دو دوست ممالک ہیں ، وزیر اعظم نواز شریف جلد ایران کا دورہ کرینگے ، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کراچی ،بلوچستان اور فاٹا میں جب تک دہشت گردی ہوتی رہے گی سیکیورٹی تھرٹ کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتا رہے گا ، بلوچستان اور کراچی میں کوئی نو گو ایریا نہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں سیکیورٹی پالیسی کی منظوری دے دی جائے گی جس کے بعد جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ ، نیکٹا اور ریپڈ رسپانس فورس کا دائرہ کار ملک کے چاروں صوبوں تک پھیلایا جائے گا ۔