مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امریکہ نے اپنے مغوی فوجی کی رہائی کے حوالے سے پاکستان سے مدد طلب کر لی
اسلام آباد۔ امریکہ نے افغان طالبان کی جانب سے اغواء کر کے مبینہ طور پر شمالی وزیرستان میں رکھے گئے اپنے فوجی بوئے برگدال کی رہائی کے حوالے سے پاکستان سے مدد طلب کر لی جبکہ پاکستان نے اس سلسلے میں واشنگٹن کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرادی ۔ بدھ کو نجی ٹی و ی چینل کی رپور ٹ کے مطابق انتہائی معتبر ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے اعلیٰ دفاعی افسران سے بدھ کو ہونے والی ملاقاتوں میں امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل لوائڈ جے آسٹن نے بتایا کہ وہ شمالی وزیرستان میں کسی ممکنہ فوجی کارروائی سے پہلے برگدال کی محفوظ رہائی چاہتے ہیں۔اس موقع پر امریکی کمانڈر نے شمالی وزیرستان میں کارروائی کی صورت میں افغانستان فرار ہونے والے طالبان عسکریت پسندوں کو پکڑنے میں مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔جنرل آسٹن نے پاکستانی دفاعی حکام کو شمالی وزیرستان میں طالبان کی پناہ گاہوں کے حوالے سے معلومات بھی دیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ امریکا افغانستان سے انخلاء سے قبل اپنے تمام مغوی فوجیوں کو بازیاب کروانے کے لیے بے چین ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان امریکا اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت کے سلسلے کو بحال کروانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔امریکا نے برگدال کے بدلے بدنام زمانہ گوانٹانامو بے جیل سے پانچ سینیئر طالبان قیدی رہا کرنے کی بھی پیشکش کر رکھی ہے۔ان قیدیوں کو دوحہ میں حکام کے حوالے کیا جائے گا جہاں انہیں حفاظی حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔اس سے قبل امریکی جنرل نے جی ایچ کیو کا دورہ میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔ملاقات میں پاک ، افغان سرحد سمیت خطے کی سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔جنرل آسٹن کا کہنا تھا کہ محفوظ اور پرامن افغانستان پاکستان اورپوری دنیا کے مفاد میں ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے وزارت دفاع کا بھی دورہ کیا، جہاں ان کی ملاقات سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین ملک سے ہوئی۔اس موقع پر دہشت گردی کے خلاف جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔