مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امریکی گدھوں سے گرنے کی سزا ....
ہمارے کان یہ سن سن کر پک گئے طالبان اورطالبان کی پر تشدد کارروائیاں ڈرون حملوں کا نتیجہ ہیں،ایک بار پاکستان امریکی جنگ سے باہر نکل گیا تو ملک میں امن او امان قائم ہوجائیگا۔ طالبان ہتھیار پھینک کر دوبارہ بکریاں چرانا شروع کر دیں گے اور آج جہاں گولیوں کی ترتراہٹ سنائی دیتی ہے وہاں طالبان گڈریوں کی بانسریوں کی سریلی دھنیں کانوں میں رس گھولیں گی،کسی نے پلٹ کریہ نہ پوچھا امریکی گدھوں سے گرنے کی سزا پاکستان کے غریب کمہاروں کو کیوں دی جا رہی ہے،قتل وخون کا ایک جواز گھڑنا تھا سو گھڑ دیا گیا۔ پھر ہمیں یہ بتایا کہ یہ سارا خون خرابہ،دہشت گردی اور ہلاکت خیزی تو اس لئے برپا ہے تاکہ ملک میں شریعت کا نفاذ کیا جا سکے،اگر بے گناہ معصوم لوگوں،بچوں اورعورتوں کے جسموں کے چیتھڑے اڑائے جا رہے ہیںتو اس کی بنیادی وجہ یہی نوبل کاذ ہے،ایک مولوی نے کہا کہ اگر ساٹھ ہزارلوگوں کی قربانی دے کر ملک میں شریعت نافذ ہو جائے تو یہ سودا مہنگا نہیں،ٹی ٹاک شوز میں بیٹھ کر طالبان کے حمایتی دانشور،علماء اور سیاستدان کھلے عام قوم کے سینے پر یہ کہہ کر مونگ دلتے ہیں کہ اگر آپ ملک میں شریعت نافذ کر دیں تو امن قائم ہو جائیگا،یعنی دوسرے الفاظ میں اگر شریعت نافذ نہ ہوئی تویہ قتل و خون جاری رہیگا،یہ ایک دھمکی تھی جو برسر عام دی جاتی اور لوگ ان کی اس دیدہ دلیری پر بونچکارہ جاتے،طالبان کوکسی نے اپنے سامنے نہیں دیکھا لیکن طالبان کے حمایتی ان مولویوں،صحافیوں اور دانشوروں کی بدن بولی دیکھنے کے لائق ہوتی ۔ مورے سیاں بنے کو توال اب ڈر کا ہے کا ۔ اور ان کے مقابلے میں موجود لوگوں میں اتنی جرات نہیں ہوتی کہ ان کا گریبان تو کیا بکڑتے ، خالی پیلی گھگھیا کر رہ جاتے ۔ خوف اور دہشت کا یہی عالم تھا جو طالبان نے پھیلا رکھی ہے اور ان کے حمایتی اس دہشت سے فائدہ اٹھاتے اور کھلے عام کہتے اگر امن چاہیے تو شریعت نافذ کرو ۔ ایک صحافی مولوی نے تو اپنے کالم میں شریعت کے خدوخال بھی واضح کر دیئے اور آخر میں دھمکی دی کہ وہ یہ شریعت نافذ کر کے رہیں گے ۔ قتل و خون کا جواز شریعت کے نفاذ کے ساتھ جوڑنا تھا ، سو جوڑ لیا گیا ۔ جب کبھی ان طالبانی دانشوروں سے پوچھا گیا شریعت کے نفاذ میں یہ بے گناہوں کا خون اور یہ خود کش دھماکے کہاں سے آگئے تو یہ دانشور ہمیں طوطا مینا کی کہانیاں سنانے لگتے ہیں کہتے ہیں کہ سب کچھ بھارت اور امریکا کا کیا دھرا ہے ۔ وہ یہ دہشتگرد کارروائیں کر رہے ہیں تا کہ پاکستان کی فوج کو طالبان کے ساتھ لڑایا جائے اور اسے کمزور کیا جا سکے ۔ یہ بڑی عجیب منطق تھی یعنی ایک طرف یہ کہا جاتا ان طالبان کے پیچھے امریکا اور بھارت ہیں اور اسی سانس میں یہ کہہ دیا جاتا ہے امریکہ پاک فوج کو ان طالبان سے لڑا کر کمزور کرنا چاہتا ہے ۔ خدا کے بندو اگر یہ طالبان بھارتی اور امریکی ایجنٹس ہیں تو پھر ان سے ہر صورت جنگ کرنی چاہئے ۔ ہم نے یہ فوج پالی بھی کیوں ہے اور منطق دیکھیں اگر لڑی تو کمزور ہو جائیگی ۔ ہم نے طاقت بچا کر کیا کرنی ہے اگر ملک میں امن ہی قائم نہ ہو سکتا اور جہالت کے مارے یہ سارے جواز دیکھیں کوئی بھی آپس میں نہیں ملتا یعنی طالبان درون حملوں اور امریکی جنگ کا نتیجہ ہیں یعنی طالبان کے پیچھے امریکا اور بھارت ہیں ۔ یعنی طالبان ملک میں شریعت چاہتے ہیں اور اسی لئے قتل و خون کرتے ہیں ۔ طالبانی دانشورو ، علماء اور سیاستدانوں کے یہ جاہلانہ دلائل اور جواز سن کر سچی بات ہے طالبان بہت جزبز ہوتے یعنی کھیر پکائی جتن سے چرخہ لیا جلا ، آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا ۔ طالبان کا ایک ہی مقصد تھا پاور گیم اور زیادہ سے زیادہ پیسے کا حصول ۔ وہ قتل و خون کرتے اور تسلیم کرتے یہ ان کی فخریہ پیشکش ہے تا کہ پاکستان کے عام لوگوں میں ان کی دہشت بیٹھے ۔ وہ خون اور ڈر کی علامت بن جائیں اور پاور گیم میں اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کر سکیں ۔ حصہ بڑھانے کی خاطر جثہ بڑھانا ضروری تھا اور یہ جثہ دہشتگرد کارروائیوں سے بڑھتا اور ان کے حمایتی دانشور کہتے یہ بھارت اور امریکہ کا کام ہے ، ہمارا کلچر تو یہ ہے کہ کسی دوسرے کی واردات اپنے سر لے لیتے ہیں یہ کہہ کر اپنا ہی کام ہے اور یہاں طالبان کی محنت کی کمائی بھارت اور امیرکا کی جھولی میں ڈال دی جاتی ہے ۔ ایک عام محلے کا بدمعاش راہ چلتے کسی شریف آدمی کے سر پر ٹھاپ لگا دیتا ہے دوسرے کا گریبان پھاڑ دیتا ہے تا کہ محلے میں اس کی دھاک بنی رہے اور وہ مفت کی روٹیاں اور تاوان کا پیسہ وصول کرتا رہے ۔ ایک وسیع تناظم میں طالبان کا یہی کردار تھا اور پھر جیسا ہوتا ہے یہ عام بدمعاش آہستہ آہستہ اتنا دیدہ دلیر ہو جاتا ہے کہ طاقتوروں کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیتا ہے ۔ طاقتوروں نے اس بدمعاش کو اس لئے چھوٹ دے رکھی تھی تا کہ اس سے اپنے کام کرواتے رہیں لیکن یہ بدمعاش کچھ زیادہ ہی ہتھ چھٹ ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ وہ دن پھر اس کا آخری دن ہوتا ہے ۔ طاقتوروں نے باہمی مشورے سے یہ طے کر لیا ہے اب ان لفنگوں ، اغواء کاروں ، قاتلوں اور دہشتگردوں کی سر کوبی ضروری ہے اور ان میں علاقے کے تمام طاقتور شامل ہیں ۔ اس لئے کہ یہ دہشتگرد اب سب کے ہی سینے پر مونگ دل رہے ہیں ۔ ایجنسیوں کی باہمی چپقلش ایک طرف لیکن ’’انہیں ختم کر دو ‘‘ میں سب شامل ہیں ۔ مذاکرات کا ڈول دو مقاصد کے تحت ڈالا گیا ۔ ان طالبان کو ایکسپوز کیا جائے اور دوسرا ان کے حمایتیوں کا بھی تماشہ لگایا جائے ۔ طالبا ن نہ امریکی جنگ کی بات کر رہے ہیں نہ ڈرون حملوں کی اور نہ شریعت کی بلکہ مولوی عزیز نے جب شریعت کی بات کی تو طالبان نے مخالفت کی اور اب ان کے حمایتی کہتے ہیں ملک میں تو پہلے ہی اسلامی نظام ہے ۔ طالبان نے بنیادی تین مطالبے کئے ہیں ۔ قبائلی علاقوں سے فوج کی واپسی ، طالبان قیدیوں کی رہائی اور مسمار گھروں کا معاوضہ ، یہ تینوں مطالبے غماز ہیں اس بات کا کہ یہ سب پاور گیم کا حصہ ہے ۔ قبائلی علاقوں میں انہیں چیلنج کرنے کیلئے فوج نہ رہے ۔ قیدیوں کی رہائی کی صورت میں ان کی افرادی قوت میں اضافہ ہو اور معاوضے کی شکل میں پیسے کا حصول تا کہ وہ قبائلی علاقوں میں اپنے مضبوط ٹھکانوں سے باقی پاکستان پر اپنا تسلط قائم رکھ سکیں اور تاوان کی رقم بٹورتے رہیں اور طاقتوروں سے بھی اپنا حصہ وصول کرتے رہیں ۔ باقی رہا شریعت کا مطالبہ تو یہ پاکستان کے سادہ لوگوں کو بیوقوف بنائے رکھنے کا جواز ہے اور دوسرے اسلامی نعرے پر طالبانوں کی بھرتیاں بھی جاری رہتی ہیں اور سستے خود کش بمبار دستیاب رہتے ہیں جنہیں مارکیٹ میں مہنگی قیمت پر بیچا بھی جا سکتا ہے ۔ ترس کے قابل ہیں وہ عام لوگوں ، دانشورو ں،مولوی ، صحافی اور سیاستدان ہیں ۔ جو طالبان کی حمایت میں کبھی ڈرون ، کبھی شریعت اور کبھی بھارت اور امریکا کے جواز گھڑتے ہیں ۔ قرین قیاس ہے ان مذاکرات کے نتیجے میں یہ سارے بھید بھائو کھل جائینگے اور حقیقت سب پر آشکار ہو جائیگی ۔ لتر پریڈ کا پورا بندوبست کر لیا گیا ہے جیسا میں نے پہلے کہا علاقے اور دور پار کے تمام طاقتور اس ایک نقطے پر متفق ہو چکے ہیں اس فتنے کو ختم کرنا ہے ۔ چاہے مذاکرات سے اور چاہے جنگ سے ، طالبان سے ہتھیاروں کی طاقت چھین لی جائیگی ۔ اگر کوئی سیاسی عمل کا حصہ بننا چاہتے ہے تو اسے خوش آمدید کہا جائیگا ۔ باقیوں کیلئے گنجائش نشتہ …جنرل راحیل شریف اور نواز شریف آن بورڈ ہیں اور ہوم ورک پر عمل جاری ہے ۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ طالبان کے مختلف گروپس اس سنجیدگی سے واقف ہو چکے ہیں اور چنانچہ قیمتیں طے ہو رہی ہیں ۔