مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
رجنی کانت کے پوسٹر چھاپنے کیلئے اپنا گھر بیچ دیا !!
چنائی ...کیا ایسا کوئی پرستار ہو سکتا ہے جو اپنے پسندیدہ اداکار کے پوسٹر شائع کرنے کیلئے اپنا گھر فروخت دے ؟ ہاں ضرور ہو سکتا ہے ، جب یہ اداکار اور کوئی نہیں بلکہ سپر سٹار رجنی کانت ہوں۔ ایمسٹرڈیم سے تعلق رکھنے والی بھارتی نژاد خاتون رک کالسی نے اداکار رجنی کانت کے مداحوں پر ایک دستاویزی فلم بنائی ہے جس میں چنائی کے رہائشی محنت کش گوپی کا ذکر ہے ۔ گوپی کو ان کے علاقے کے ’’رجنی فین کلب ‘‘میں برتری حاصل کرنے کیلئے سپر سٹار کے 1500 پوسٹر شائع کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب 2005 میں رجنی کانت کی فلم ‘چندرمکھی’ ریلیز ہو رہی تھی۔گوپی نے اپنا چھوٹا سا گھر ایک لاکھ روپے میں فروخت کر کے پوسٹر چھپوائے ۔ وہ دو ماہ تک اپنے پورے خاندان کے ساتھ فٹ پاتھ پر رہا۔رجنی کانت کے پرستار انکی فلم ریلیز ہونے پر منت مانگتے اور عبادت کرتے ہیں۔ دنیابھر میں رجنی کانت کے فین کلب کی تعداد 66000تک پہنچ چکی ہے ۔یہ تمام کلب رجنی کانت کی فلمیں ریلیز ہونے پر منت مانگتے اور عبادت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سپر سٹار کے نام سے چندہ جمع کر کے غریبوں کو اور معذوروں کو صدقہ دیتے ہیں جبکہ خون کے عطیات بھی جمع کئے جاتے ہیں ۔ان کلبوں میں 16 سال سے لیکر 90 سال کی عمر کے افراد شامل ہیں۔