مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اسلام کے نام پر کی جانے والی حرکتوں پر تین نومسلم نوجوانوں کو سزا !!
لندن ... گزشتہ چند ماہ میں اسلام کے نام پر جرائم میں ملوث نومسلم نوجوانوں کی سزائوں نے کمیونٹی میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اسلام سے جڑے زیادہ تر جرائم کے قصوروار پاکستانی و کشمیری نوجوان ٹھہرائے جاتے تھے۔ برطانوی فوجی کے قتل کے بعد اب ایشیائی اکثریتی مشرقی لندن کے علاقے والتھم اسٹو کے رہائشی نومسلم کو اینٹی سوشل روئے کے حوالے سے سزا کمیونٹی کیلئے سوچ کا باعث بن رہی ہے کہ اب قصوروار کون ہے؟ تین نو مسلم جنہیں غیر مسلموں کو خود ساختہ مسلم گشتی نگران حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی دینے پر جیل بھیجا گیا تھا انہیں گزشتہ روز برطانیہ میں شرعی قوانین کو فروغ دینے سے روک دیا گیا۔ تین نو مسلموں 20 سالہ جارڈن ہارنر، 26 سالہ ریکارڈو میک فرلین اور 23 سالہ رائل بارنیس کو اینٹی سوشل بی ہیوریئل آرڈرز (ایسباس) کے احکامات دیئے گئے ہیں جس کے تحت انہیں جبری طور پر اپنے نظریات دوسروں پر ٹھونسنے سے روک دیا گیا ہے۔ انہیں نفرت کا پرچار کرنے والے مذہبی رہنما انجم چوہدری سے ملاقات نہ کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ اولڈ بیلی پر جج ٹموتھی پونٹیئس نے تسلیم کیا کہ یہ احکامات سخت ہیں۔ تاہم ذہن میں عوامی مفادات اور بالخصوص عام لوگوں کی سلامتی کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں محسوس کرتا ہوں کہ 5 سال کیلئے یہ احکامات جاری ہونے چاہئیں۔ اس گینگ نے دسمبر 2012ء اور جنوری 2013ء کے درمیان ایک ’’مذہبی نگرانی‘‘ کے مہینے میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر گھومنے والے نوجوان جوڑوں، شراب پینے والے لوگوں اور ’’ناکافی‘‘ لباس پہننے والی خواتین کو نشانہ بنایا تھا۔