مقبول خبریں
راچڈیل، ساہیوال جیسے شہروں کے رشتے کو مثالی بنایا جائیگا: ممبر پنجاب اسمبلی ندیم کامران
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ہتھیاروں کے بجائے امن کی زبان میں بات کریں، علما و مشائخ کانفرنس
لاہور...پاکستان میں علما نے امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے جنگ بندی کو پہلی اور لازمی شرط قرار دیتے ہوئے حکومت اور طالبان دونوں سے کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لاہور میں علما و مشائخ کانفرنس کے بعد جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ حکمرانوں کی غلط پالسییوں کی وجہ سے 15 برس سے پورا ملک آگ اور خون کی جنگ میں مبتلا ہے، پوری قوم اس آگ اور خون کے کھیل سے عاجز آچکی ہے۔ علمائے کرام اور مشائخ عظام مذاکراتی عمل کے لئے حکومت اور طالبان کمیٹی کے ارکان اور مولانا سمیع الحق کی کوششوں کی حمایت کا یقین دلاتے ہیں۔ اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ طالبان پاکستانی قوم کے فرزند ہیں، قوم توقع رکھتی ہے کہ طالبان فوری طور پر ہمارے شانہ بشانہ امن و سلامتی، انسانیت، وطن کی خاطر ہمارے ساتھ چلیں اور ہتھیاروں کے بجائے امن کی زبان میں بات کریں۔ تاکہ ہم اپنے اسلامی ، قومی اور ملی مقاصد حاصل کرسکیں تاکہ پاکستان اور اسلام دشمن قوتیں ناکام ہوجائیں اور پاکستان اسلامی نفاذ کی اصل منزل کی جانب پر امن طور پر گامزن ہوسکے۔ اعلامئے میں ملک کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے اس امید کا اظہار کیاگیا ہے کہ وہ اس معاملے میں حب الوطنی اور قومی وحدت کا مظاہرہ کرکے ملک میں فرقہ واریت اور علاقائی و لسانی ، داخلی وخارجی سازشوں کو ناکام بنادیں اور یک آواز ہوکر فریقین کو امن کے منافی سرگرمیوں کو روکنے پر مجبور کردیں۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام مقتدر ادارے ملک میں پیدا کردہ شورش کے اصل محرکات پر توجہ دیں۔