مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
ہتھیاروں کے بجائے امن کی زبان میں بات کریں، علما و مشائخ کانفرنس
لاہور...پاکستان میں علما نے امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے جنگ بندی کو پہلی اور لازمی شرط قرار دیتے ہوئے حکومت اور طالبان دونوں سے کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لاہور میں علما و مشائخ کانفرنس کے بعد جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ حکمرانوں کی غلط پالسییوں کی وجہ سے 15 برس سے پورا ملک آگ اور خون کی جنگ میں مبتلا ہے، پوری قوم اس آگ اور خون کے کھیل سے عاجز آچکی ہے۔ علمائے کرام اور مشائخ عظام مذاکراتی عمل کے لئے حکومت اور طالبان کمیٹی کے ارکان اور مولانا سمیع الحق کی کوششوں کی حمایت کا یقین دلاتے ہیں۔ اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ طالبان پاکستانی قوم کے فرزند ہیں، قوم توقع رکھتی ہے کہ طالبان فوری طور پر ہمارے شانہ بشانہ امن و سلامتی، انسانیت، وطن کی خاطر ہمارے ساتھ چلیں اور ہتھیاروں کے بجائے امن کی زبان میں بات کریں۔ تاکہ ہم اپنے اسلامی ، قومی اور ملی مقاصد حاصل کرسکیں تاکہ پاکستان اور اسلام دشمن قوتیں ناکام ہوجائیں اور پاکستان اسلامی نفاذ کی اصل منزل کی جانب پر امن طور پر گامزن ہوسکے۔ اعلامئے میں ملک کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے اس امید کا اظہار کیاگیا ہے کہ وہ اس معاملے میں حب الوطنی اور قومی وحدت کا مظاہرہ کرکے ملک میں فرقہ واریت اور علاقائی و لسانی ، داخلی وخارجی سازشوں کو ناکام بنادیں اور یک آواز ہوکر فریقین کو امن کے منافی سرگرمیوں کو روکنے پر مجبور کردیں۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام مقتدر ادارے ملک میں پیدا کردہ شورش کے اصل محرکات پر توجہ دیں۔