مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ریاستی جیلوں میں قید ڈھائی ہزار کے لگ بھگ افراد جن میں 139 غیر ملکی ہیں: عمر عبداللہ
سری نگر ... وزیر اعلی عمر عبداللہ نے ریاستی اسمبلی میں ایک سوال کے جواب میں انکشاف کیا ہے کہ ریاستی جیلوں میں سوا سو سے زائد غیر ملکی قید ہیں جنکی شناخت سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اشکار نہیں کی جاسکتیں۔ جنگجووں اور سنگین جرائم کے مرتکب نظربندوں کیلئے عام معافی کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگست 2011 میں لاگو کئے گئے گئے فیصلے کے تحت پتھرائو کے 1811 ملزمان کو رہائی ملی تاہم باقی بچ جانے والوں کیلئے ایسی کسی معافی کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی موقع پر انہوں نے بتایا کی جیلوں میں 139 غیر ملکی قیدی بھی موجود ہیں۔ جن میں سے اٹھارہ قید مکمل کرکے رہائی کے احکامات جاری ہونے کی منتظر ہیں۔ اپوزیشن جماعت پی ڈی پی سے وابستہ ممبر اسمبلی درہال چودھری ذوالفقار علی کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے امور داخلہ کے وزیر کی حیثیت سے کہا کہ 30جنوری 2014 تک جیلوں میں کل 2396افراد مختلف الزامات اور جرائم کی پاداش میں نظر بند تھے ۔انہوں نے مزید تفصلات فراہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان قیدیوں میں سے 339پر جرم ثابت ہو چکا ہے جبکہ 1875 کے خلاف درج کیس زیر سماعت ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ ان میں سے 35پی ایس اے کے تحت قید ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے بقول سرکار کی طرف سے عام معافی کے اعلان کا مقصد نوجوانوں کیلئے مستقبل کو سنوارنے کے موقعہ کو کھلا رکھنا تھا جن نوجوانوں کے خلاف درج کیس واپس لئے گئے اور جنہیں جیلوں سے رہا کر دیا گےا ، ان میں سے متعدد کے پاسپورٹ بھی جاری کئے گئے اور کئی ایک کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کیلئے قرضے بھی فراہم کئے گئے ۔