مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ریاستی جیلوں میں قید ڈھائی ہزار کے لگ بھگ افراد جن میں 139 غیر ملکی ہیں: عمر عبداللہ
سری نگر ... وزیر اعلی عمر عبداللہ نے ریاستی اسمبلی میں ایک سوال کے جواب میں انکشاف کیا ہے کہ ریاستی جیلوں میں سوا سو سے زائد غیر ملکی قید ہیں جنکی شناخت سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اشکار نہیں کی جاسکتیں۔ جنگجووں اور سنگین جرائم کے مرتکب نظربندوں کیلئے عام معافی کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگست 2011 میں لاگو کئے گئے گئے فیصلے کے تحت پتھرائو کے 1811 ملزمان کو رہائی ملی تاہم باقی بچ جانے والوں کیلئے ایسی کسی معافی کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی موقع پر انہوں نے بتایا کی جیلوں میں 139 غیر ملکی قیدی بھی موجود ہیں۔ جن میں سے اٹھارہ قید مکمل کرکے رہائی کے احکامات جاری ہونے کی منتظر ہیں۔ اپوزیشن جماعت پی ڈی پی سے وابستہ ممبر اسمبلی درہال چودھری ذوالفقار علی کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے امور داخلہ کے وزیر کی حیثیت سے کہا کہ 30جنوری 2014 تک جیلوں میں کل 2396افراد مختلف الزامات اور جرائم کی پاداش میں نظر بند تھے ۔انہوں نے مزید تفصلات فراہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان قیدیوں میں سے 339پر جرم ثابت ہو چکا ہے جبکہ 1875 کے خلاف درج کیس زیر سماعت ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ ان میں سے 35پی ایس اے کے تحت قید ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے بقول سرکار کی طرف سے عام معافی کے اعلان کا مقصد نوجوانوں کیلئے مستقبل کو سنوارنے کے موقعہ کو کھلا رکھنا تھا جن نوجوانوں کے خلاف درج کیس واپس لئے گئے اور جنہیں جیلوں سے رہا کر دیا گےا ، ان میں سے متعدد کے پاسپورٹ بھی جاری کئے گئے اور کئی ایک کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کیلئے قرضے بھی فراہم کئے گئے ۔