مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی جانب سےایم کیو ایم کے کارکن پر تشدد کا نوٹس
کراچی ... پولیس تشدد کا نشانہ بننے والا متحدہ کراچی کا کارکن دم توڑ گیا ، سندھ ہائیکورٹ نے فہد عزیز تشدد کیس میں میڈیکل رپورٹ اور روزنامچہ پندرہ دن میں طلب کر لیا۔ جبکہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی ایم کیو ایم کے کارکن پر تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کر لی متحدہ قومی موومنٹ کے مطابق نارتھ کراچی کے یونٹ انچارج محمد عادل عرف عدیل کو 8 فروری کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا اور اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا بعد میں عادل کو نازک حالت میں اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔وہ اسے عباسی شہید ہسپتال لے گئے جہاں اس نے دم توڑ دیا۔الطاف حسین نے لندن سے جاری ایک بیان میں کہا کہ متحدہ کے کارکنوں کا ماورائے عدالت قتل انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کراچی کو پولیس اسٹیٹ بنا دیا گیا۔وزیر اعظم اور وزیر داخلہ واقعے کا نوٹس لیں دوسری طرف سندھ ہائیکورٹ نے فہد عزیز تشدد کیس میں میڈیکل رپورٹ اور روزنامچہ پندرہ دن میں طلب کر لیا۔سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقر کی عدالت میں فہد عزیز تشدد کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے میڈیکل رپورٹ طلب کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا کہ فہد عزیز کو ہراساں نہ کیا جائے۔فہد کی گرفتاری اور تشدد کے خلاف ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور فہد کے والد عبدالعزیز نے سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی۔دریں اثنا وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ایم کیو ایم کے کارکن پر تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کر لی۔