مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بطل حریت مقبول بٹ شہید کی یاد میں!!
فروری کا مہینہ تاریخ کشمیر اور کشمیریوں کی جدید تحریک آزادی میں ایک منفرد مقام کا حامل ہے۔خاصکر 1984ء کے بعد فروری کا مہینہ آتے ہی آزادی کے حوالے سے کمزور سے کمزور ایمان رکھنے والے کشمیری کا دل بھی ایک پر جوش ، جوان سالہ حریت کے جذبہ سے سرشار ، مکمل آزادی کی تپش کیساتھ دل میں ٹرپنے لگتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فروری کے اس مہینے نے کشمیر کی تاریخ کو ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔گو کہ کشمیر کی تاریخ انتہائی پرانی ہونے کے ساتھ ساتھ تابناک بھی ہے اور سبق آموز بھی، مگر فروری کے اس مہینے نے کشمیریوں پر لگے اس داغ کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیا کہ کشمیری بزدل ہوتے ہیں اور غلامی کو ذہنی طور پر قبول کر چکے ہیں۔ عظیم کشمیری حریت پسند راہنما مقبول احمد بٹ 18فروری1938ء کو ڈسٹرکٹ و تحصیل کپواڑاہ کے ایل گاؤں تریگام کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے ابھی صرف گیارہ سال کے تھے ۔مقبول بٹ نے اپنی قوم کے حقوق کی بحالی کے لیے اپنی مقدس جدوجہد کا آغاز 1945-46میں کمسنی میں کیا یہ وہ وقت تھا جب کشمیر پر ڈوگرہ راج تھا اور ڈوگرے اپنے من پسند چیلوں میں زمین تقسیم کر رہے تھے زمین کے ان ٹکڑوں کو جاگیر کہا جاتا تھا اور جن چیلوں میں یہ تقسیم ہوتی تھی انھیں جاگیردار کہا جاتا تھا ۔ یہ جاگیردار زمین کے اس ٹکڑے کے مالک بن جاتے۔ نہ تو یہ جاگیردار اس زمین میں کوئی فصل بوتے ، نہ ہل چلاتے نہ ہی کسی بھی طرح کی دیکھ بھال کرتے ، زمین میں محنت عام کشمیری کرتے جنہیں مزارعے کہا جاتا تھا ۔ سال بھر یہ غریب لوگ محنت کرتے اور جب فصل تیار ہو جاتی تو مہارجہ کے یہ چیلے آ کر تیار فصل پر قبضہ کر لیتے اور وہ محنتی کسان ہاتھ پر ہاتھ دہرے دیکھتے رہ جاتے ، انھیں انکی محنت کا کوئی صلہ نہ ملتا۔یہ1945-46ہے جب نامساعد موسم کی وجہ سے فصل نہ ہونے کے برابر ہوئی ۔مقبول بٹ شہید کے گاؤں تریگام کا بھی ایک جاگیردار تھا جس کو کبھی یہاں کے لوگوں نے دیکھا نہیں تھا چونکہ اس کا ایک ایلچی ہر سال آ کر فصل جمع کر کے لے جاتا تھا ۔ اس سال جب یہ ایلچی فصل لینے آیا تو لوگوں نے بتایا کے فصل نہ ہونے کے برابر ہوئی ہے ایلچی غصے میں آ گیا اس نے لوگوں پر تشدد شروع کر دیا اور گھروں کی تلاشی لینے لگا ، اسے جو کچھ بھی ملا اسے سمیٹ کر واپسی کی راہ لینے ہی والا تھا کہ اس علاقے کے چھوٹے بچے اس کے گاڑی کے آگے لیٹ گئے اور کہا کہ یا تو ہمیں کھانے کے لیے راشن دیکر جاؤ یا پھر ہمیں اپنے گاڑی کے نیچے کچل ڈالو ۔ان بچوں میں مقبول بٹ پیش پیش تھے اور یوں اپنے عوام کے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے یپہ انکی زندگی کی پہلی جدوجہد تھی جس میں وہ کامیاب ہوئے، اگر دیکھا جائے تو یہ مقبول بٹ ہی تھے جنہوں نے صرف آٹھ سال کی عمر میں اپنی معصوم جان کو اپنی قوم کے نام قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر جاگیردار کا ایلچی اپنی پیشہ ورانہ درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوےء ان معصوم بچوں کو اپنی گاڑی کے نیچے کچل دیتا تو شائد آج دنیا ان معصوم بچوں کی قربانی کو بھول چکی ہوتی ،مگر قدرت نے مقبول بٹ کو کسی عظیم مقصد کے لیے پیدا کیا تھا لہذا جاگیردار کے ایلچی کو ان معصوم بچوں کے سامنے اپنی ہار تسلیم کرنا پڑی۔کچھ ہی عرصہ کے بعد جب کشمیر میں شیخ محمد عبداللہ کا طوطی بول رہا تھا تو تریگام کے پرائیمری سکول میں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد و انعامات ہوا۔ جس میں غریب طلبہ اور انکے والدین کے لیے بیٹھنے کی الگ جگہ تھی اور امیرزادوں کے لیے الگ۔ مقبول بٹ بھی بہترین طالب علم کا ایوارڈ لینے والوں میں تھے، مگر انھوں نے یہ کہہ کر انعام لینے سے انکار کر دیا کہ جب تک تما م طلبہ کو ایک طرف اور تمام مہمانوں کو ایک طرف ایک جیسی جگہوں پر نہیں بٹھایا جاتا میں انعام وصول نہیں کرونگا،انکی یہ کوشش کامیاب ہوئی اور تمام طلبہ اور مہمانوں کو ایک ہی جیسی جگہوں پر بھٹایا گیا ۔ساتھ ہی مقبول بٹ کی جدوجہد نے اس سکول کو سکینڈری سکول کا درجہ بھی دلایا۔یہ مقبول بٹ کی بچپن کی معاشرے میں برابری کی ایک سیاسی جدوجہد تھی۔یہ وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جن کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مقبول بٹ پیدائشی طور پر ایک آزادی پسند ، برابری پر یقین رکھنے والے اور اونچ نیچ کے خلاف ایک مثال تھے۔مقبول بٹ نے روائتی سیاسی لیڈروں کی طرح عوام کو نعروں سے نہیں بھلایا بلکہ زندگی کہ ہر میدان میں اپنی ذات کو تختہء مشق بنایا۔ خود عملی طور پر اپنے آپ کو پیش کیا ۔ اپنی عملی زندگی کا آغاز کرتے ہی مقبول بٹ نے کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد شروع کر دی اور اپنی جان کو قوم اور وطن کی امانت قرار دیا ۔جدوجہد انتہائی کٹھن تھی مگر جدوجہد کرنے والا بھی ہمالہ جیسا جگر رکھنے والا تھا اس نے یہ ٹھان لی کے اپنے محکوم وطن کو غیروں کے پنجہء استبداد سے نجات دلانے کے لیے اگر اپنی جان کی قربانی بھی دینا پڑی تو گریز نہیں کیا جائے گا۔اس مرد حر نے قابض طاقتوں کے خلاف کلمہء حق بلند کر ہی دیا اور وطن کشمیر کی مکمل آزادی کے لیے اپنی جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ 10 جون 1966ء کو مقبول بٹ نے اپنے تین ساتھیوں گلگت کے ایک نوجوان طالب علم اورنگذیب، ریٹائرڈ صوبیدارکالا خان ،امیر احمد کو ساتھ لیے انڈین مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئے اور آزادی کی تحرک کو منظم کرنے میں مشغول ہو گئے جہاں تین ماہ کی سرگرمیوں کے بعد فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں گلگت کے نوجوان طالبعلم اورنگذیب شہید ہو گئے جبکہ مقبول بٹ،صوبیدار کالا خان اور امیر احمد گرفتار کر لیے گئے جہاں انھوں سزائے موت سنا دی گئی۔کچھ عرصہ کی جدوجہد کے بعد مقبول بٹ اپنے ساتھیوں سمیت جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور واپس پاکستان کے زیر کنٹرول کشمیر میں داخل ہوئے جہاں پاکستانی فورسز نے انھیں گرفتار کر لیا اوربعد میں پاکستان کی ایک عدالت نے انھیں محب وطن کشمیری قرار دیکر رہا کر دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد مقبول بٹ نے دوبارہ اپنے ساتھیوں ریاض ڈار اورحمید بٹ کو ساتھ لیا اور کشمیر کے سینے کو چاک کرنے والی اس منحوس لکیر کو عبور کرتے ہوئے وادی کشمیر میں داخل ہو گئے اور اپنی تحریکی سرگرمیاں شروع کر دیں ، جہاں وہ ایک بار پھر بھارتی فورسز کے ساتھ ایک مقابلے میں گرفتار ہو گئے بھارت کے ایک سپریم کورٹ نے انکی سزائے موت کو بحال کر دیا اور انھیں تہاڑ جیل کی کال کوٹھڑی میں پابند سلاسل کر دیا گیا۔آخر کا راس وقت کے انڈین مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلی شیخ عبداللہ نے مقبول بٹ کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کر دئیے ۔ یہ وہی شیخ عبداللہ تھا جس نے خود مقبول بٹ کے ساتھ پاکستان کے زیر کنٹرول کشمیر اور پاکستان میں وقت گزارا تھا اور جس نے کہا تھا کہ میں نے مقبول بٹ کو انتہائی رومانٹک پایا ہے بالکل چی گواڑہ کی طرح! مقبول بٹ کی زندگی میں وہ دن بھی آہی گیا جب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت نے دس سال تک مقبول بٹ کو لگاتار کال کوٹھڑی میں پابند سلاسل رکھنے کے بعد تہاڑ جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا ۔ مقبول بٹ اپنی قوم کے نام اور اپنے وطن کی آزادی کے لیے لڑتے ہوئے پھانسی کے پھندے پر جھول کر دنیا بھر کے آزادی پسندوں کے لیے ایک مثال بنکر افق پر چھا گیا مگر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اس روز تہاڑ جیل میں دفن ہو کر رہ گئی۔ بھارت نے ایک انسانی جسم کو تو پھانسی پر لٹکا دیا مگر خیالات ، نظریات اور سوچ کو نہ تو پھانسی دی جا سکتی ہے نہ ہی پابند سلاسل رکھا جا سکتا ہے ۔مقبول بٹ ایک فکر کا نام ہے جو مقبول بٹ کے بحثیت انسان شہید ہونے کے بعد زیادہ مضبوط ہوا اور مقبول بٹ کی شہادت کے بعد جتنی تحقیق کشمیر پر ہوئی شاہد ہی تاریخ میں کبھی پہلے اتنی تحقیق ہوئی ہو گی۔جو کچھ کشمیر کے بارے میں مقبول بٹ کی شہادت کے بعد لکھا گیا پہلے اس کی مثال نہیں ملتی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کے مقبول بٹ ایک فکر کا نام ہے اور اس فکر نے اپنا کام خوب دکھایا اور دنیا کو کشمیر کے بارے میں آگہی ملی۔ مقبول بٹ نے اپنی قوم کے لیے اپنی جان کی قربانی دی۔ شہادت کا رتبہ پایا، عظیم کشمیری حریت پسند کے روپ میں دنیا کے سامنے آیا اور شہادت کا رتبہ پا کر کشمیری قوم کو ایک فکر ایک سوچ اور ایک نظریہ دے کر قوم کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔مقبول بٹ ہم میں نہیں مگر مقبول بٹ کی فکر اسکی سوچ اور اسکا دیا ہوا نظریہ ایک حقیقت کی طرح ہمارے ساتھ ہے اور رہتی دنیا تک کشمیری قوم کا سرمایہ رہے گا۔ ... دنیا کے مٹانے سے مٹا ہوں نہ مٹوں گا، یوں تو میں فانی ہوں ، فنا میرے لیے ہے .. تحریروتحقیق: خواجہ کبیر احمد ناٹنگھم برطانیہ