مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
مقبول بٹ کو تختہ دار پر لٹکاتے وقت بھگت سنگھ کی روح تو کانپی ہوگی، بھارت کو آجتک شرم نہ آئی
بریڈ فورڈ ... دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت نے ایک کشمیری راہنما کو اس جرم کی پاداش میں تختہء دار پر لٹکا دیا کہ وہ اپنی قوم کی آزادی کی مانگ کر رہا تھا۔یہ وہی مانگ تھی جو بھارت ہندوستانیوں کے راہنما گاندھی، نہرو ، سبھاش چندر بوش، راج گرو، سکھدیو سنگھ،اور بھگت سنگھ نے انگریز سے کی تھی۔راج گرو، بھگت سنگھ اور سکھ دیو سنگھ کو اس جرم کی پاداش میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا اور وہ بھارتی ہیرو قرار پائے۔مگر اپنی قوم اور اپنے وطن کے لیے وہی مانگ کرنے والے مقبول بٹ کو جب بھارت نے تختہء دار پر لٹکایا تو بھگت سنگھ کی روح بھی کانپ اٹھی۔سبھاش چندر بوش، راج گرو،سکھ دیو سنگھ کی روحیں بھارتی جمہوریت پر شرمندہ ہو کر رہ گئیں۔ ان خیالات کا اظہار بطل حریت مقبول بٹ شہید کی 30 ویں برسی کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب میں کیا گیا جس کا اہتمام جموں کشمیر لبریشن کانفرنس نے کیا تھا۔ جموں کشمیر لبریشن کانفرنس کے (یورپ و برطانیہ) کے صدر خواجہ مشتاق حسین کی صدارت میں ہونے والے اس اجتماع کے مہمان خصوصی شہید رہنما کے فرزند شوکت مقبول بٹ تھے جبکہ بریڈ فورڈ کے لارڈ میئرکونسلر خادم حسین‘ بریڈ فورڈ ایسٹ کے رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ وارڈ‘ سابق لارڈ مئیر محمد عجب، سابق لارڈ میئر کونسلر غضنفر خالق، کونسلر علی عدالت، ٹی یو سی کے صدر محمد تاج‘ سردار آفتاب‘ آصف مسعود‘ ندیم اسلم، امجد یوسف، کونسلر غلام حسین (لیڈز) شیر اعظم ‘ بابو مشتاق، معروف رچیال، خواجہ مشتاق حسین اور محمود کاشمیری نے خطاب کیا۔ نظامت بھی محمود کاشمیری نے کی۔ کشمیری قوم پرست رہنما اور مقبول بٹ کے صاحبزادے شوکت مقبول بٹ نے کہا ہے کہ 84ہزار مربع میل پر پھیلی ریاست جموں کشمیر ایک ناقابل تقسیم وحدت ہے اور کشمیر میں بسنے والا ہر شخص چاہے وہ کشمیری‘ بلتی، گوجری، ڈوگری یا کوئی اور زبان بولتا ہو کشمیر کا مالک اور مختار ہے اور صرف یہی کمشیری کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبول بٹ نے صرف کشمیر کی آزادی کیلئے ہی اپنی جان نہیں دی بلکہ وہ دنیا بھر میں جدوجہد کرنے والوں کیلئے ایک استعارہ بن گئے ہیں چاہے یہ جنگ کسی غاصب قوت کے خلاف ہو بھوک کے خلاف ہو یا بیماری کے خلاف ہو یاکسی بھی ایسی برائی کے خلاف جو انسانی زندگی کو اجیرن بنائے ، خواجہ مشتاق حسین کا کہناتھا کہ کشمیر کی آزادی کیلئے ایک لاکھ افراد جانیں دے چکے ہیں ،ان واضح اختلافات کے باوجود مقررین اس امر پر متفق تھے کہ ریاست کی وحدت پر یقین رکھنے والے تمام کشمیریوں کو ساتھ لیکر چلا جا سکتا ہے انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان کے زیر کنٹرول حصے میں معاملات منتخب عوام نمائندوں کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں جنہیں خاص طور پر پاکستان سے آزاد کشمیر بھیجا جاتا ہے۔ لارڈ مئیر کونسلر خادم حسین نے کہا کہ اس کے باوجود کہ لارڈ میئر کا عہدہ ایک غیر سیاسی عہدہ ہوتا ہے وہ کشمیریوں کی جدوجہد کی جنگ میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ رکن پارلیمٹ ڈیوڈ وارڈ نے خدشہ ظاہر کیا کہ افغانستان سے نیٹو افواج کے واپس چلے جانے سے خطہ میں پہلے سے موجود دہشتگردی کا دائرہ کشمیر تک نہ پھیل جائے انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ مسئلہ بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے جتنی اہمیت فلسطین کے مسئلہ کو حاصل ہے لیکن افسوس اس امر کا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی فورم پر وہ مقبولیت نہیں مل سکی جو کہ اس کا حق ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں اس مسئلہ کو اٹھانے کیلئے کمشیریوں کو ایک گائیڈ لائن بھی دی ۔ ٹی یو سی کے صدر محمد تاج نے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے عالمی تناظر میں اس توقع کا اظہار کیا کہ مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میںمثبت پیش رفت ہوگی۔ سابق لارڈ میئر محمد عجیب کا کہنا تھا کہ گذشتہ عرصہ کی تمام حکمت عملیاں ناکام رہی ہیں ہمیں غلطیوں کا جائزہ اور آئندہ کیلئے پروگرام بنانا ہوگا۔ اس موقع پر جموں کشمیر نیشنل لیبر کانفرنس کی یورپ و برطانیہ برانچ کے نومنتخب عہدیداروں نے شوکت مقبول بٹ سے اپنے عہدوں کا حلف بھی لیا۔