مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
افضل گرو کی پہلی برسی پر کشمیریوں کا زبردست احتجاج، پولیس کا تشدد، کرفیو نافذ
سری نگر ... کشمیری حریت پسند رہنما افضل گورو کی پہلی برسی کے موقع پر بھارت سرکار نے حسب معمول سینکڑوں کشمیریوں پر تشدد کیا اور گرفتار کرکے قوم کو پیغام دیا ہے کہ دو دن بعد دوسرے لیڈر کی برسی پر اھٹجاج کی کوشش کی تو انجام اس سے بھی برا ہوگا۔ لیکن مادر وطن کشمیر کے سپوتوں نے علی الاعلان کہہ دیا کہ وہ تو ان مظالم کے عادی ہوچکے نہ افضل گورو کی برسی پر احتجاج سے رکے نہ شہید کشمیر مقبول بٹ کی یاد میں رکیں گے۔حکام نے افضل گورو کو دی جانے والی پھانسی کی پہلی برسی کے موقعے پر مظاہروں کو روکنے کے لیے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہوا ہے۔ افضل گورو کو پچھلے برس نو فروری کو 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے جرم میں پھانسی دی گئی تھی۔ افضل گورو نے ہمیشہ اس جرم سے انکار کیا جبکہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنی والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ افضل گورو کا مقدمہ منصفانہ نہیں تھا۔ انکا تعلق مقبوضہ کشمیر کے شمالی قصبے سوپور سے تھا۔ 50 سالہ افضل گورو کو 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمان پر ہونے والے حملے کا منصوبہ ساز یا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا تھا اور 10 برس سے زائد عرصہ پہلے دسمبر 2002 میں انہیں اس جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ابتدائی طور پر 20 اکتوبر 2006 کو اس سزا پر عملدرآمد ہونا تھا لیکن ان کی اہلیہ کی جانب سے صدر سے رحم کی اپیل پر یہ معاملہ زیرِ التوا تھا۔ تاہم بھارتی صدر یہ درخواست مسترد کردی۔ محمد افضل گورو دہلی کی تہاڑ جیل کے مخصوص وارڈ میں قید تھے اور پھانسی کے بعد انھیں جیل کے احاطے میں ہی دفنا دیا گیا۔ ہڑتال کی وجہ سے باالخصوص سری نگر میں دوکانیں اور کاروبار بھی بند رہا۔ زیادہ تر لوگ گھروں میں ہی رہے جبکہ سنسان سڑکوں پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کا گشت جاری رہا۔ بتایا گیا ہے کہ ممکنہ مظاہروں کے پیش نظر دو سو علحیدگی پسند کارکنوں کو پہلے ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔ تاہم کچھ درجن مظاہرین سری نگر کی سڑکوں پر جمع ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اُنہوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’ہم آزادی چاہتے ہیں‘ اور ہمارے شہداء کی لاشیں واپس کرو‘ جیسے نعرے لگائے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے اِن مظاہرین کو گرفتار کر کے کئی گھنٹوں تک تھانے میں بند رکھا۔ کشمیری علیحدگی پسندوں کا مطالبہ ہے کہ اُنہیں بھارت سے آزادی دے دی جائے یا اس علاقے کا پاکستان کے ساتھ انضمام کر دیا جائے۔ بھارت مخالف جذبات کے حامل مسلمان اکثریتی اس علاقے میں گزشتہ برس اُس وقت شدید تناؤ پیدا ہو گیا تھا، جب افضل گرُو کو پھانسی دی گئی تھی۔ کشمیر میں ایک بڑا حلقہ تصور کرتا ہے کہ افضل گرُو کے خلاف چلایا گیا مقدمہ شفاف نہیں تھا۔ اُسے پھانسی دیے جانے کے بعد کشمیر بھر میں مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ افضل گرو کی پھانسی نے کشمیریوں کے دلوں میں ان کے ایک علحیدگی پسند رہنما مقبول بھٹ کی سزائے موت کی یاد تازہ کر دی تھی۔ مقبول بھٹ کو 1984ء میں نئی دہلی کی اُسی جیل میں پھانسی دے گئی تھی، جہاں افضل گرُو کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا تھا۔