مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
حزب مخالف کا موقف ٹھیک ہے... میں احتجاج کے طور پر اس انتخاب میں شرکت کررہا ہوں: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی حزب مخالف کے موقف کی تائید کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر صدارتی انتخابات کو متنازع بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اس اختلاف کے باوجود ان کی جماعت صدارتی انتخاب میں ضرور حصہ لے گی۔ ’’میں احتجاج کے طور پر اس انتخاب میں شرکت کررہا ہوں کیونکہ یہ بالکل غلط ہے۔ حزب مخالف کا موقف ٹھیک ہے۔ الیکشن کمیشن کو نہیں پتا تھا کہ انتخاب کی تاریخ کو ستائسویں رمضان ہے وہ پہلے ایڈجسٹ نہیں کرسکتے تھے پہلے موقع نہیں دے سکتے تھے کہ الیکشن پہلے کروا دیتے۔‘‘ پاکستان میں 30 جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کی تیاریاں تقریباً مکمل کر لی گئی ہیں اور الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیرز دیگر انتخابی مواد کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس، سندھ بلوچستان پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیوں کو بھیج دیا ہے۔ بیلٹ پیپرز پر مسلم لیگ ن کے امیدوار ممنون حسین اور تحریک انصاف کے وجیہہ الدین احمد کے نام درج ہیں۔ قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی انتخابی تاریخ کوتبدیل کرنے کے عدالتی فیصلے کے بعد صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کر چکی ہے جس پر اسے مسلم لیگ ق، عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری انداز میں انتقال اقتدار کے بعد ہونے والے صدارتی انتخابات کے موقع پر سیاسی جماعتوں کے درمیان ایسے اختلاف کو مبصرین سیاسی ماحول کے لیے کوئی اچھا شگون قرار نہیں دیتے۔