مقبول خبریں
کشمیر سالیڈیرٹی کیلئے یکم فروری سے 11فروری تک تقریبات منعقد کرائی جائیں گی
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
حزب مخالف کا موقف ٹھیک ہے... میں احتجاج کے طور پر اس انتخاب میں شرکت کررہا ہوں: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی حزب مخالف کے موقف کی تائید کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر صدارتی انتخابات کو متنازع بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اس اختلاف کے باوجود ان کی جماعت صدارتی انتخاب میں ضرور حصہ لے گی۔ ’’میں احتجاج کے طور پر اس انتخاب میں شرکت کررہا ہوں کیونکہ یہ بالکل غلط ہے۔ حزب مخالف کا موقف ٹھیک ہے۔ الیکشن کمیشن کو نہیں پتا تھا کہ انتخاب کی تاریخ کو ستائسویں رمضان ہے وہ پہلے ایڈجسٹ نہیں کرسکتے تھے پہلے موقع نہیں دے سکتے تھے کہ الیکشن پہلے کروا دیتے۔‘‘ پاکستان میں 30 جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کی تیاریاں تقریباً مکمل کر لی گئی ہیں اور الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیرز دیگر انتخابی مواد کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس، سندھ بلوچستان پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیوں کو بھیج دیا ہے۔ بیلٹ پیپرز پر مسلم لیگ ن کے امیدوار ممنون حسین اور تحریک انصاف کے وجیہہ الدین احمد کے نام درج ہیں۔ قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی انتخابی تاریخ کوتبدیل کرنے کے عدالتی فیصلے کے بعد صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کر چکی ہے جس پر اسے مسلم لیگ ق، عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری انداز میں انتقال اقتدار کے بعد ہونے والے صدارتی انتخابات کے موقع پر سیاسی جماعتوں کے درمیان ایسے اختلاف کو مبصرین سیاسی ماحول کے لیے کوئی اچھا شگون قرار نہیں دیتے۔