مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
حزب مخالف کا موقف ٹھیک ہے... میں احتجاج کے طور پر اس انتخاب میں شرکت کررہا ہوں: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی حزب مخالف کے موقف کی تائید کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر صدارتی انتخابات کو متنازع بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اس اختلاف کے باوجود ان کی جماعت صدارتی انتخاب میں ضرور حصہ لے گی۔ ’’میں احتجاج کے طور پر اس انتخاب میں شرکت کررہا ہوں کیونکہ یہ بالکل غلط ہے۔ حزب مخالف کا موقف ٹھیک ہے۔ الیکشن کمیشن کو نہیں پتا تھا کہ انتخاب کی تاریخ کو ستائسویں رمضان ہے وہ پہلے ایڈجسٹ نہیں کرسکتے تھے پہلے موقع نہیں دے سکتے تھے کہ الیکشن پہلے کروا دیتے۔‘‘ پاکستان میں 30 جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کی تیاریاں تقریباً مکمل کر لی گئی ہیں اور الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیرز دیگر انتخابی مواد کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس، سندھ بلوچستان پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیوں کو بھیج دیا ہے۔ بیلٹ پیپرز پر مسلم لیگ ن کے امیدوار ممنون حسین اور تحریک انصاف کے وجیہہ الدین احمد کے نام درج ہیں۔ قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی انتخابی تاریخ کوتبدیل کرنے کے عدالتی فیصلے کے بعد صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کر چکی ہے جس پر اسے مسلم لیگ ق، عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری انداز میں انتقال اقتدار کے بعد ہونے والے صدارتی انتخابات کے موقع پر سیاسی جماعتوں کے درمیان ایسے اختلاف کو مبصرین سیاسی ماحول کے لیے کوئی اچھا شگون قرار نہیں دیتے۔