مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امریکہ ،بھارت کی سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجودمذاکرات کامیاب ہونے کی امید ہے،منورحسن
لاہور۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن نے کہا ہے کہ اصل مذاکرات حکومت اور طالبان کے درمیان ہی ہونگے۔طالبان کمیٹی کے نام سے کام کرنے والی موجودہ کمیٹی صرف رابطہ کار اور مددگار کا کردار ادا کررہی ہے ،تاکہ حکومت اور طالبان کے درمیان پائے جانے والے خدشات دورکرکے مذاکرات کے ماحول کو ساز گار بنایا جائے۔ امریکہ اور بھارت کی تمام تر سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجودمذاکرات کامیاب ہونے کی امید ہے۔سیکولر اور اسلام مخالف لابی قوم کے اندر ناامیدی اور مایوسی پھیلا رہی ہے۔ 73ء کا آئین بنانے والوں میں وہ جید علماء شامل تھے جنہیں آج کے علماء اپنا استاد مانتے ہیں۔ مفتی محمود ،مولانا عبدالحق ،علامہ شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور احمد جیسی قدآور قومی شخصیات آئین ساز کمیٹی میں شامل تھیں ،وہ کیسے قرآن و سنت کے منافی آئین تشکیل دے سکتے تھے۔ آئین کو غیر اسلامی کہنے کی بجائے آئین پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا جانا چاہئے۔ جس آئین کا پہلا نقطہ ہی یہ ہے کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہوگا اور اس کا آئین قرآن و سنت کے تابع ہوگا اس کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا قومی یکجہتی کے لئے مضر ہے۔قوم 73ء کے آئین پر متحد ہے، اس اتحاد کو قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ حکمران غیر آئینی ہتھکنڈوں کو چھوڑ کر آئین کی بالا دستی کو تسلیم کرلیں۔جن لوگوں کو شریعت اور آئین کی بات کرنے والوں سے تشد د کی بو آتی ہے وہ براہ راست اسلام کی مخالفت کرنے کی بجائے اس کے ماننے والوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناکر دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔