مقبول خبریں
مئیر کونسلر جاوید اقبال نےرضاکارانہ خدمات پرتنظیم وائی فائی کو تعریفی سرٹیفکیٹ اور شیلڈ سے نوازا
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امریکہ ،بھارت کی سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجودمذاکرات کامیاب ہونے کی امید ہے،منورحسن
لاہور۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن نے کہا ہے کہ اصل مذاکرات حکومت اور طالبان کے درمیان ہی ہونگے۔طالبان کمیٹی کے نام سے کام کرنے والی موجودہ کمیٹی صرف رابطہ کار اور مددگار کا کردار ادا کررہی ہے ،تاکہ حکومت اور طالبان کے درمیان پائے جانے والے خدشات دورکرکے مذاکرات کے ماحول کو ساز گار بنایا جائے۔ امریکہ اور بھارت کی تمام تر سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجودمذاکرات کامیاب ہونے کی امید ہے۔سیکولر اور اسلام مخالف لابی قوم کے اندر ناامیدی اور مایوسی پھیلا رہی ہے۔ 73ء کا آئین بنانے والوں میں وہ جید علماء شامل تھے جنہیں آج کے علماء اپنا استاد مانتے ہیں۔ مفتی محمود ،مولانا عبدالحق ،علامہ شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور احمد جیسی قدآور قومی شخصیات آئین ساز کمیٹی میں شامل تھیں ،وہ کیسے قرآن و سنت کے منافی آئین تشکیل دے سکتے تھے۔ آئین کو غیر اسلامی کہنے کی بجائے آئین پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا جانا چاہئے۔ جس آئین کا پہلا نقطہ ہی یہ ہے کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہوگا اور اس کا آئین قرآن و سنت کے تابع ہوگا اس کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا قومی یکجہتی کے لئے مضر ہے۔قوم 73ء کے آئین پر متحد ہے، اس اتحاد کو قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ حکمران غیر آئینی ہتھکنڈوں کو چھوڑ کر آئین کی بالا دستی کو تسلیم کرلیں۔جن لوگوں کو شریعت اور آئین کی بات کرنے والوں سے تشد د کی بو آتی ہے وہ براہ راست اسلام کی مخالفت کرنے کی بجائے اس کے ماننے والوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناکر دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔