مقبول خبریں
برطانیہ کے ابھرتے ہوئے گلوکار عثمان فاروقی کے گانے جلوہ نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے دونوں اطراف کی جانب سے لچک ضروری ہے:کمیونٹی رہنما
برمنگھم ... برطانیہ میں مقیم برمنگھم کی مختلف سیاسی، سماجی اور دینی شخصیات نے حکومت پاکستان اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کامیابی کیلئے دونوں اطراف کی جانب سے لچک ضروری ہے۔ چیئرمین انجمن خدام صوفیہ انٹر نیشنل وامیر ملت پیر سید منور حسین شاہ جماعتی، مشیر آزاد کشمیرحکومت و ممبر فیڈرل کونسل پاکستان پیپلز پارٹی برطانیہ محمد سعید مغل ایم بی ای، مسلم لیگ برطانیہ کے مرکزی رہنما الحاج راجہ جاوید اقبال انکروی اور مسلم لیگ میڈ لینڈ کے سینئر نائب صدر مرزا راشد محمود نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات دونوں فریقین نتیجہ خیز بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔ پاکستان میں امن کے تمام راستے مذاکرات کی کامیابی پر منحصر ہیں۔ آئینی، غیر آئینی یا نفاذ شریعت ان تمام بحثوں میں الجھنے کے بجائے امن کی راہیں تلاش کرنا ہوں گی۔ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے، سرکار دوجہاںؐ نے بھی امن کی خاطر میثاق مدینہ جیسے تاریخی معاہدے کیے تھے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکار دو عالمؐ کی سنت مطہرہ پر عمل کرتے ہوئے طالبان بھی مذاکرات کے دوران دہشت گردی اور دوسری وارداتیں جو ملک میں امن و امان کی صورت حال کو مخدوش کریں روکنا ہوں گی۔ محمد سعید مغل نے کہا کہ نواز حکومت خوش قسمت ہے کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے حکومت کی بھرپور حمایت کی۔ الحاج راجہ جاوید اقبال انکروی نے کہا کہ اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شرپسند کرداروں پر کڑی نظر رکھے۔ راشد محمود مرازا نے کہا کہ امریکہ سمیت عالمی قوتیں مشکل سے نکلنے کے لیے خود مذاکرات کرلیتی ہیں اور اگر یہی عمل پاکستان میں دہرایا جائے تو ان کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں۔ پاکستان میں امن سے ان کے ایجنڈے مکمل نہیں ہوتے۔ پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے کہا کہ ہم دعاگو ہیں کہ امن کی خاطر جو کوششیں دونوں اطراف سے شروع ہوئیں۔ پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ بالآخر مذاکرات کی کامیابی سے تمام سازشیں بے نقاب ہوجائیں گی کہ وہ کون عناصر تھے جنہوں نے ملک کی تباہی و بربادی میں حصہ لیا۔